پاک بھارت تعلقات میں کرکٹ کا کردار

پاک بھارت تعلقات میں کرکٹ کا کردار

دسمبر 2015ء میں جب بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے لاہورکا غیر متوقع دورہ کیا تھا توایسے لگ رہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کی دھند چھٹ جائے گی اور جنوبی ایشیاء میں حالات معمول پر آجائیں گے ۔ اس دورے کوسفارتی اعتبار سے مودی کا ماسٹر کلاس اقدام کہا جارہا تھا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ مودی کے اس دورے سے متوقع نتائج حاصل نہیں کئے جاسکے اور پاکستان اور بھارت سیاسی دشمنی اور سرحد پر کشیدگی کے لحاظ سے آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں پہلے کھڑے تھے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اس دورے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیااور دونوں ہمسایوں کے درمیان سیاسی دشمنی اور ایک دوسرے پر اعتماد کی کمی کا خمیازہ سیاست کے علاوہ کھیل، فلموں، مذہبی اور ثقافتی سیاحت اور تجارت سمیت دیگر بہت سے شعبوں کو بھگتنا پڑا۔ پاکستان اور بھارت کی دشمنی اس نوعیت کی ہے کہ کشیدگی کی صورت میں دونوں ممالک ہر قسم کے تعلقات ختم کرنے کے درپے ہوجاتے ہیں جس کا نقصان سرحد کے دونوں جانب رہنے والی عوام کو اٹھانا پڑتا ہے جس میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باوجوددونوں ممالک کی امن پسند سول سوسائٹی ، سابق دورِ حکومت کے عہدیداروں، کھلاڑیوں، فنکاروں اور تاجروں کو ایک دوسرے کے ملک میں آنے جانے کی کھلی اجازت ہونی چاہیے تاکہ امن کے پیغام کو پھیلایا جاسکے ۔ ان غیر سرکاری تعلقات کو سفارتی زبان میں ٹریک ۔ 2اور ٹریک۔3 ڈپلومیسی کا نام دیا جاتا ہے۔اگر ہم کرکٹ کی بات کریں تو ورلڈ الیون کے ساتھ سیریز کے حالیہ کامیاب انعقاد کے بعد پاکستان میں کرکٹ کا بخار اس وقت سرچڑھ کر بول رہا ہے۔ اس سیریز میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی اور ورلڈ الیون کے تمام کھلاڑیوں نے انتظامات کو خوب سراہا ہے۔ اس کامیابی کے بعد اب ویسٹ انڈیز اور سری لنکا کی ٹیمیں بھی پاکستان کا دورہ کرنے والی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ 2009ء میں سری لنکا کی ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد کرکٹ کی دنیا میں تنہائی کاشکار ہونے والے پاکستان پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے دوبارہ کھل گئے ہیں جس کے لئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے علاوہ سیکورٹی ادارے بھی مبارک باد کے مستحق ہیں۔ان حالات کو دیکھتے ہوئے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے مکمل طور پر کھل جائیں گے اور دنیا کی تمام ٹیمیں پاکستان آ کر کھیلنے میں خوشی محسوس کریں گی۔ بھارت اور پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوطرفہ کرکٹ سیریز کھیل کر ٹریک۔2 اور ٹریک۔3 ڈپلومیسی کا دوبارہ سے آغاز کرنا چاہیے جس کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان حالات کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈال دیا جائے تو دونوں ممالک کی عوام پاک۔ بھارت کرکٹ سیریز کا ایک طویل عرصے سے انتظار کررہے ہیں اور دونوں ممالک کی حکومتوں کواپنے عوام کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اس سیریز کے انعقاد کے لئے مثبت اقدام کرنے چاہئیں۔ اس حوالے سے چند نکات ایسے ہیں جن کا یہاں ذکر کیا جانا ضروری ہے۔ سب سے پہلے تو یہ امر انتہائی افسوس ناک ہے کہ کوئی بھی بھارتی کھلاڑی ورلڈ الیون کا حصہ نہیں تھا اور نہ ہی دونوں ممالک کے کھلاڑیوں کو ایک دوسرے کی لیگ میں کھیلنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ پاکستان میں عمران خان جیسے کرکٹ ہیرو موجود ہیں جو باہمی سیریز کے انعقاد اور دونوں ممالک کی کرکٹ لیگ میں کھلاڑیوں کی شرکت کے لئے بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ پاکستان میں کرکٹ کی واپسی کے دوران عمران خان کا سارے منظر سے غائب ہونا انتہائی مایوس کن ہے۔دونوں ممالک کو اپنے اپنے میڈیا کی نظروں سے دور اس سیریز کے انعقاد کے لئے کام کرنا چاہیے اور جب تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہو میڈیا کو اس بارے میں پتہ نہیں لگنا چاہیے۔ دوسرے نمبر، بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) اورپاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے درمیان باہمی سیریز کے حوالے سے ہونے والے ایم۔ او۔یو کے تنازع کو غیر جذباتی انداز میں حل کیا جانا چاہیے اور اس تنازع کے حل کے بعد دونوں ممالک اپنی اپنی ٹیمیں ایک دوسرے کے ملک میں کھیلنے کے لئے بھیجیں۔ماضی میں ہونے والے اس ایم۔او۔یو کے تحت پاکستان اور بھارت کو 2015ء سے 2023ء کے درمیان 6 باہمی سیریز کھیلنی تھیں جن میں سے 4 کی میزبانی پاکستان اور 2 سیریز کی میزبانی بھارت نے کرنی تھی۔ دونوں ممالک کے درمیان مذکورہ تنازع حل نہ ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ آئی سی سی کی عدالت میں پیش کیا جانے والا ہے۔ آئی سی سی کے پینل کی جانب سے دیا جانے والا فیصلہ حتمی ہوگا جس کا احترام دونوں ممالک پر لازم ہوگا۔حالات کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ آئی سی سی بھارت کو ایم۔او۔یو پر عمل درآمد کرنے کی پابند کرے گی جس کے بعد باہمی سیریز کا انعقاد ممکن ہوسکے گا۔ تیسرے نمبر پر، پاکستان اور بھارت میں کرکٹ اور سیاست کو الگ الگ نہیں دیکھا جاتا اور یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ سیاست نے کھیل پر اثرانداز ہوکر دونوں جانب کے عوام کو اپنے محبوب کھیل سے محروم کردیا ہے۔ سرحد کے دونوں جانب بیٹھے صاحبِ اقتدار لوگوں کو اس حوالے سے مثبت انداز میں سوچنا چاہیے کیونکہ کرکٹ وہ کھیل ہے جو دونوں ممالک کی سالوں پرانی دشمنی کو دوستی میں بدلنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ 

(بشکریہ: دی نیوز،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں