عظیم جمہوریت کا اندرونی احوال

عظیم جمہوریت کا اندرونی احوال

خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہنے والا بھارت پچھلے ستر سال سے اپنے شہریوں کو مطمئن نہیں کر سکا اور وہ ایک یا دوسری وجہ سے خود کو نظر انداز تصور کرتے ہوئے حکومت کے خلاف صف آرا ہیں۔ کہیں وہ حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں اور کہیں آزادی کی اور ایسی 30سے زیادہ جنگیں مختلف مقامات پر مختلف انداز میں لڑی جا رہی ہیں۔ تحریک جیسی بھی ہو جس بھی انداز کی ہو بھارت کی جمہوریت کا اصلی چہرہ ہر آئینے میں نظر آتا ہے۔ وہ ملک جو سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعوے دار ہے وہ اپنے شہریوں کو برابر کے حقوق نہیں دے رہا بلکہ کچھ علاقوں میں تو دے ہی نہیں رہا اور اسی لیے تو اسے ایسی تحریکوں کا سامنا ہے۔ ابھی حال ہی میں دارجیلنگ میں ایسی ہی کوششوں نے زور پکڑا تو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت نے پکڑ دھکڑ شروع کر دی ،علیحدگی کی تحریک ہو تو پھر بھی طاقت کا مظاہرہ سمجھ میں آتا ہے لیکن یہاں تو گورکھا بھارت کے اندر ایک الگ ریاست کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے خیال میں ان کو ان کے حقوق نہیں دیے جا رہے ان کے شہریوں اور علاقے کو ترقی سے دور رکھا جا رہا ہے۔ گورکھا جان مکتی مورچہ نامی تنظیم 246 6 مربع کلومیٹر کے رقبے پر مشتمل اس خطے میں الگ ریاست کا مطالبہ کر رہی ہے۔ یہ مطالبہ کوئی نیا نہیں تقسیم ہندسے پہلے بھی کیا جاتا رہا ہے۔ 1907ء ، 1929ء اور1941ء میں بھی باقاعدہ یہ مطالبہ کیا گیا اور آزادی کے بعد 1952ء اور 1984ء میں بھی اسے پیش کیا گیا۔ حالیہ مطالبے کی وجہ یہ ہے کہ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ما متا بینرجی بنگالی زبان کو ریاستی سطح پر رائج کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کے خلاف احتجاج کو روکنے اور حکومتی اقدامات کو تحفظ دینے کے لیے گرفتاریاں کی گئی یہ تحریک اب تیسرے مہینے میں داخل ہو گئیں ہے ۔گورکھا لینڈ بھارت میں کوئی واحد تحریک نہیں جیسا کہ میں پہلے بتا چکی ہوں ایسی ہی چھوٹی بڑی تیس سے زیادہ تحریکیں چل رہی ہیں ۔کشمیر کے بارے میں تو بھارت بڑے آرام سے پاکستان پر الزام دھر دیتا ہے کہ وہ کشمیر میں در اندازی کر رہا ہے اور وہاں چلنے والی تحریک کو حکومت پاکستان اور آئی ایس آئی چلا رہے ہیں۔ اگر چہ ہماری اخلاقی مدد ضرور کشمیریوں کو حاصل ہے لیکن اُنہوں نے بھی کبھی خود کو بھارت کا حصہ نہ سمجھا نہ مانا اور کشمیر کو ہمیشہ بھارت سے الگ اور پاکستان کی شہ رگ سمجھا۔ یہ کشمیری فخر سے خود کو پاکستانی کہتے ہیں اور اس نام کو حاصل کرنے یعنی پاکستانی کہلانے کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار رہتے ہیں اور اس کی وجہ وہ نہیں جو بھارت سمجھتا ہے بلکہ اس وجہ وہ ہے جو بھارت سمجھ کر بھی نا سمجھ رہتا ہے یعنی آزادی صرف یہی مطالبہ ہے کشمیریوں کا مذہب کی بنیاد پر ،جغرافیہ اور تاریخ کی بنیاد پر لیکن آسام، تری پورہ تامل ناڈو یہ سب اکثریتی مذہب سے تعلق رکھنے والے علاقے ہیں ۔یہ سب مذہبی طور پر ہندو ہیں اور پاکستان سے خاصے فاصلے پر ہیں لیکن آزادی کی تحریکیں یہاں بھی چل رہی ہیں۔ بھارت دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں جس زور و شور سے مداخلت کرتا ہے خاص کر پاکستان حالانکہ محفوظ دوسرے بھی نہیں وہ جس طرح بے تحاشہ اسلحہ جمع کر رہا ہے وہی تو جہ اگر اپنے عوام کی فلاح و بہبود پر دیتا تو شاید اِن تحریکوں کی تعداد میں کچھ کمی ہوتی۔ اگر بھارت دوسرے ممالک میں مداخلت نہ کرتا تو اپنے حالات پر توجہ دے پاتا لیکن وہ اپنی فطرت بدل نہیں سکتا۔ اُس نے اپنے پڑوسی کو نقصان پہنچانا ہی ہے۔ علیحدگی پسند تحریکیںاُس کی سا لمیت کے لیے جتنا بھی بڑا خطرہ ہیں لیکن اس کے زیادہ وسائل پاکستان میں بلوچستان میں گڑبڑ پھیلانے پر خرچ ہو رہے ہیں ، اسی طرح فاٹا میں دہشت گردوں کو مدد زیادہ ضروری سمجھی اور دی جا رہی ہے۔کشمیر میں اُس کا شرمناک کردار اور ظالمانہ پالیسیاں سب کے سامنے ہیں ۔نکسل باڑی اس کا اگلا درد سر ہے جو سالہاسال سے اسے پریشان کیے ہوئے ہیں۔ ایک مسئلہ تری پورہ کا بھی ہے جو اس کی جمہوریت کا پول کھولتا ہے جہاں کے لوگ بنیادی سہولتوں کو ترستے ہیں جہاں صرف ایک سڑک اسے باقی ملک سے ملاتی ہے اور ''شائنینگ انڈیا'' کے باسیوں کو ان ہی کے ملک کے بد نصیبوں کی خبر پہنچاتی ہے۔یہی حال پورے شمال مشرق میں ہے یہاں کی سات ریاستیں جو خود کو'' سیون سسٹرز'' کہلاتی ہیں بھارت سے علاقائی خود مختاری یا مکمل علیحدگی چاہتی ہیں ۔ یہ علاقہ بھارت سے صرف 23 کلو میٹر کی تنگ پٹی کے ذریعے جڑاہوا ہے یعنی اگر دیکھا جائے تو یہ ایک الگ جغرافیائی اکائی ہے جو بھارت کے قبضے میں ہے یہ سات ریاستیں یعنی ارونا چل پردیش، آسام، منی پور،تری پورہ،ناگا لینڈ،میگالیہ اور میزورام تمام کی تمام بھارت یا بھارت کی قابض حکومت کے خلاف نبرد آزماہیں۔کشمیر، خالصتان، بوڈولینڈ اورتامل ناڈوکی تحریکیں اس کے علاوہ ہیںلیکن المیہ یہ ہے کہ بھارت ان کے مسائل حل کرنے اور انہیں حقوق دینے سے زیادہ پڑوسی ممالک خاص کر پاکستان اور اکثر اوقات چین،سری لنکا اور کبھی کبھار منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے نیپال اور بنگلا دیش کے خلاف بھی تنازعات اٹھاتا رہتا ہے۔ (باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں