ٹماٹرکی لالی چہروں پر عیاں

ٹماٹرکی لالی چہروں پر عیاں

یوں تو ایک خفیہ سا معاہدہ ہمارا جبرو قصائی کے ساتھ ہوچکا ہے کہ اپنے کالموںمیں کبھی بھی گوشت کے نرخوں کو ''ہوشربا'' نہیں لکھیں گے۔ جبر و قصائی کامسئلہ یہ ہے کہ وہ ہے تو قصائی لیکن زبان دانی کا دعویٰ بھی رکھتا ہے ،اس ناتے وہ سب کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن اپنی دکان پرٹنکے چمڑی سے عاری بچھڑوں کے گوشت کے نرخوں کے بارے میں لکھا گیا ''ہوش رُبا''کالفظ کبھی بھی برداشت نہیں کرسکتا ۔حالانکہ ہمیں اس لفظ میں کوئی برائی نہیں دکھائی دیتی ،جب جبرو سے پوچھتے ہیں تو اس کا منہ گائے کے گوشت کی طرح لال ہوجاتا ہے ۔بہرحال ہمیں بھی جبرو کے کہے کی لاج رکھنی پڑتی ہے کیونکہ ایک تو وہ ہمیں تازہ گوشت کے پسندے بناکر دیتا ہے اور ساتھ ہی وہ ہمارے کالموں پر لسانی حوالوں سے پرمغز گفتگو بھی کرتاہے ۔جبرو کوئی عام قصائی تو ہے نہیں بلکہ ایک کتاب کا مصنف بھی ہے ،یہ الگ بات کہ اسے اس کتاب لکھنے کی ''پاداش'' میں تین ماہ کی قید بامشقت بھی ہوچکی ہے ۔ہوا کچھ یوں تھا کہ جبرو نے پانچ سو صفحات کی اپنی اکلوتی کتاب چھاپنے کے بعد دوستوں میں تقسیم کردی ،دوست تو مروتاًخاموش رہے لیکن ایک مجسٹریٹ صاحب برداشت نہ کرپائے ،اور نقص امن کے جرم میں انہیں سزا دے بیٹھے۔کتاب کا مضمون کچھ یوں تھا کہ ''وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوا ۔گھوڑا دَگڑ دَگڑ دَگڑ ۔۔۔۔۔''چارسو ننانوے صفحے تک دَگڑ دَگڑ لکھنے کے بعد پانچ سویں صفحے پر لکھ دیاکہ'' دَگڑ دَگڑ دوڑنے کے بعد گھوڑ ااپنی منزل کو پہنچ گیا۔''ایسی کتاب کو تو بہرحال قابل دست اندازی پولیس ہوناہی چاہیے ۔جبرو مگر اس پر خوش ہے کہ مجسٹریٹ نے ان کی کتاب ''حرف بہ حرف''پڑھی ہوگی ورنہ اسے اتنی کڑی سزا نہ دیتے ۔پولیس والے اپنے پیٹی بند بھائیوں کا ہرمقام پر خیال رکھتے ہیں تو میں ایک رائٹر ہونے کے ناتے اپنے پیٹی بند جبرو کی چھوٹی سی خواہش کا احترام کیوں نہ کروں اس لیے گوشت کی ''ہوش ربا''مہنگائی کا ذکر کرنے سے گریز کرتے ہوئے شِیدے سبزی والے کی سبزیوں پر ''سبزی آشوب ''تو لکھ ہی سکتے ہیں۔یوں بھی وہ کالم نگاروں کی قدر نہیں کرتا۔آخر کالم ہوتے بھی تو اسی لیے ہیں کہ بندہ کبھی کبھی اپنے دشمنوں کو کالمانہ دشنام کا مزہ چکھا سکے ۔حالانکہ شیدے کی چھابڑی میں پڑے ٹماٹروں کی سرخی ایسی ہے کہ بزبان شاعر ''پنکھڑی اک گلاب کی سی ''کی جگہ ٹماٹروں کی سرخی کی تشبیہہ دینے کو دل چاہتا ہے لیکن محاورہ کا کیا کیا جائے کہ انگور تو کھٹے تھے ہی اب تو ٹماٹر بھی کھٹے کھٹے لگتے ہیں۔مگر مصیبت تو یہ ہے کہ مذکورہ محاورہ سے گھریلو معاملات میں استفادہ نہیں کیا جاسکتا ،گھر میں انگور کی فرمائش ہو تو انگور کھٹے کہہ کر محاورے کے حقیقی و مجازی دونوں معنی مرادلیے جاسکتے ہیں لیکن اگر ٹماٹروں کوکھٹاقرار دیا جائے تو بات الٹی ہوجائے گی کیونکہ ٹماٹروں کا استعمال ہی سالن کی کھٹاس کے لیے ہوتا ہے ۔سو نئے محاورے کی ضرورت پڑے گی کہ'' ٹماٹر پھیکے ہیں''۔جیسے میٹھے آلو،آلوؤں کی حقیرانہ صورت ہوتی ہے ۔ٹماٹروں کی کھٹاس سے یا دآیا کہ ہمارے بچپن میں سال کے بارہ مہینے ٹماٹر دستیاب نہیں ہوا کرتے تھے ۔والدہ مرحومہ ٹماٹروں کی عدم دستیابی کی صورت میں سالن کی کھٹاس کے لیے دھی ،آلوبخارہ یا پھر آمچورہ وغیرہ سالن میں ٹماٹروں کے نعم البدل کے طور پر ڈال دیا کرتی تھیں،سالن ویسا ہی لذیذ بنتا ۔وہ آج کل کی خواتین کی طرح ٹماٹروں کی فرمائش نہیں کیا کرتی تھیں۔سال کے بارہ مہینے ٹماٹروں کی دستیابی کا نقصان یہ ہے کہ اب تو بغیر ٹماٹروں کے سالن کاتصورہی نہیںکیا جاسکتا چاہے ٹماٹر ڈیڑھ دوسو روپے کلو کیوں نہ ہوجائیں۔ مگرسوال یہ ہے ٹماٹر دو سو روپے کلو کیوں ہوجاتے ہیں۔یہ سوا ل اتنا ہی فلسفیانہ ہے کہ جتناپٹرول کی قیمت کا پانچ روپے فی لیٹر بڑھ جانا اور پھرچالیس پیسے کم ہوجانے کا سوال ہے ۔ہمارے وطن میں قیمتوں کے ایسے معجزے کیوں ہوتے ہیں اس سوال کی ٹوہ لگانے کی اب گنجائش بھی نہیں رہی۔اب ٹماٹرتو ٹماٹر ہی رہیں گے چاہے بیس روپے کلو ہوں یا دوسو روپے،مہنگے ٹماٹر ہوتے ہیں مگر نخرے دکاندار کے بڑھ جاتے ہیں ۔گاہگ ان مہنگے ٹماٹرکو چھونا تو کجاانہیں سیاستدانوں کے الفاظ میں ''بری نظر''سے بھی نہیں دیکھ سکتا ۔ایگریکلچرل ملک میں ٹماٹروں کا دوسو روپے کلو ہونا حکومتوں کے لیے کسی قسم کے شرم کی بات بھی نہیں ہے البتہ ٹماٹروں کے لیے فخر کا مقام ہوتا ہے کہ انہیں حکومتی پالیسیوں اور عوام کی بے حسی نے یہ دن تو دکھایا کہ ٹماٹر مرغی سے مہنگے ہوجائیں ۔ہوسکتاہے کہ برائیلرمرغوں کی کلغیاںٹماٹر کے نرخ سن کر ٹماٹر کی طرح مزیدلال ہوجائیں۔دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور ہم ایک ٹماٹر اُگانے میں اور اپنی ضرورتیں پوری کرنے میں قاصر ہوگئے ہیں۔ہمارے پاس تو زرعی زمین کی کوئی کمی ہی نہیں جبکہ دنیا میں ہائیڈروفونک طریقوں سے سبزیاں اگائی جارہی ہیں ۔جس میں ایک کنال زمین پر چار گنازیادہ فصل حاصل کی جاسکتی ہے۔مگر کون جان کھپائے۔موبائل فون کا ہر نیا ایپس اور ہر نئی ٹیکنالوجی دنیامیں آنے کے ساتھ ہی ہمارے ہاں بھی آجاتی ہے لیکن جدید فصلوں کے اگانے کے طریقے کوئی بھی یہاں لے کر نہیں آئے گا۔آج کل تو ایسے تخم آگئے ہیں کہ بڑی آسانی کے ساتھ اپنے گھروں میں گملوں کے اندر ٹماٹر اور دوسری سبزیاں اگائی جاسکتی ہیں۔مگر ہم تو عشق ممنون جیسے غیرملکی ڈرامے درآمد کرسکتے ہیں تخم کون درآمدکرے بھائی۔آسٹریلیا اور ہالینڈ جیسے زرعی ممالک تیسری دنیا کو ایگریکلچر کے شعبے میں سب سے زیادہ سکالرشپ بھیجتے ہیں۔ (باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں