سانحہ کرم ایجنسی

سانحہ کرم ایجنسی

کرم ایجنسی کے انتہائی پسماندہ اور شیعہ برادری کی اکثریتی آبادی والے علاقے میں ایک مسافر گاڑی میں دھماکہ سے چودہ افراد کی ہلاکت' خاتون اور دو بچوں سمیت تیرہ افراد کے زخمی ہونے کا ایک اور واقعہ درد دل رکھنے والوں کے مشوش ہونے کے لئے کافی واقعہ ہے۔اگرچہ شدت پسندی کے جوبن کے دوران دھماکوں اور ہلاکتوں کا معمول ہونے کے باعث عام لوگ بھی ان واقعات سے مانوس یا پھر وہ بھی سخت دل ہوگئے تھے۔ مگر ان بادلوں کے چھٹنے کے بعد معمول پر آتے حالات میں اب کسی بھی واقعے کی شدت کو اب زیادہ سے زیادہ محسوس کرنا اور اس پر دل دکھی اور غمزدہ ہونا فطری بات ہے۔ شدت پسند اور دہشت گرد عناصر ہمیں غم بھلانے نہیں دیتے اور وقتاً فوقتاً اس طرح کے واقعات کی منصوبہ بندی کرکے ہمیں مسلسل تشویش اور عدم تحفظ کی فضاء میں رکھے ہوئے ہیں۔ کرم ایجنسی افغانستان سے متصل اور قریبی علاقہ ہے جہاں پر تسلسل سے پیش آنے والے واقعات کے ڈانڈے سرحد پار سے ملتے ہیں اور ڈوریاں بھی وہیں سے ہلانے کے ثبوت بھی میسر آتے ہیں۔ تازہ واقعہ کی ذمہ داری بھی شدت پسند تنظیم جماعت الاحرار کی جانب سے قبول کی گئی ہے جو افغانستان میں متحرک ہے۔ پاڑہ چنار میں گزشتہ ماہ کی 30 تاریخ کو ایک بازار میں دھماکے سے 28 افراد جبکہ اس سے پہلے جنوری کے مہینے میں پاڑہ چنار کی ہی سبزی منڈی میں دھماکے میں 21 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ان دونوں دھماکوں کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔گوکہ کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں کافی حد تک کمی آئی ہے تاہم علاقے کے باشندوں کو اب فرقہ وارانہ تشدد سے زیادہ کالعدم تنظیموں سے خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ واقعات کی ایک لمبی تاریخ رہی ہے جو مقامی لوگوں کے مطابق تقریباً ستر برس کے عرصے پر محیط رہی ہے۔ تاہم حالیہ کچھ عرصہ میں اس تشدد میں کافی حد تک کمی دیکھی جارہی ہے۔کرم ایجنسی میں بار بار سنگین ترین قسم کی دہشت گردی کے پے در پے واقعات پر دل مسوس کر رہ جاتا ہے مگر دہشت گردوں کی دہشت گردی کی پیاس سینکڑوں جانیں لے کر اور اتنے ہی کو زخمی و معذور، بچوں کو یتیم' خواتین کو بیوہ' بہنوں بیٹیوں اور مائوں کو ماتم کناں سانحات سے دو چار کرنے کے بعد بھی نہیںبجھتی۔ اگرچہ اس امر کی جانب اشارہ مناسب نہیں لیکن واقعات کے تسلسل میں نشانہ بننے والے عناصر اور ان کے مخصوص مقامات کو ہدف بنا کر نشانہ بنانے سے اس امر کا بھی عندیہ ملتا ہے کہ یہ واقعات معمول کی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ شاید فرقہ وارانہ دہشت گردی بھی ہو جس کا مقصد کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ تصادم کرانا ہو۔ فسادیوں اور دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتالیکن مقام اطمینان یہ ہے کہ سازشی عناصر کو اس میں کامیابی نہیں ہوتی اور ہر قسم کے حالات کے باوجود فرقہ وارانہ منافرت کا اظہار کرکے تصادم کا راستہ اختیار نہیں کیاجاتا۔ یہاں کے عوام اب بخوبی جان چکے ہیں کہ عوام کو تحفظ دینا بلا شبہ حکومت کی ذمہ داری ہے مگر جس تسلسل کے ساتھ پاڑہ چنار میں مخصوص عناصر کے علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اس کے پیش نظر محتاط ہونے کی ان سے بھی توقع غلط نہ ہوگی۔ اس وقت جبکہ ملک بھر میں آپریشن رد الفساد کے تحت فسادیوں کو پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالنے کی مہم جاری ہے ساتھ ہی دہشت گردوں کے ساتھیوں کو تختہ دار پر چڑھایا جا رہا ہے۔دھماکے والے دن بھی فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ چار دہشت گردوں کو تختہ دار پر لٹکایاگیا۔بچے کھچے مشترکہ دہشت گردوں کی تلاش اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے سارے ملک میں آپریشن رد الفسادپر بھرپور توجہ دی جارہی ہے۔ آپریشن ضرب عضب سے تحریک طالبان پاکستان کی مرکزی کمان تو منتشر ہوچکی ہے لیکن ان کے بچے کھچے عناصر کو ان کے خفیہ ٹھکانوں سے نکال کر ان کے سہولت کاروں کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچانے کا کام ابھی باقی ہے۔ یہ صرف سیکورٹی فورسز کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کے لیے عام شہریوں' مقامی قیادت ' امن وامان کے ذمہ دار مقامی اداروں میں ارتباط ضروری ہے ۔ انٹیلی جنس اداروں کے درمیان سریع الرفتار رابطے اور انتہا پسندوں کے بارے میں معلومات کا فوری تبادلہ بہت ضروری ہے۔ بسوں کے اڈوں پر اس مفہوم کی عبارتوں والے بورڈ لٹکا دینا کافی نہیں ہے جن میں کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کوئی لاوارث سامان دیکھیں تو فلاںنمبر پر ٹیلی فون کر دیں۔ ایسی اطلاعات موصول کرنے والوں کا ہمہ وقت ٹیلی فون سننے کے لیے موجود ہونا اور بروقت کارروائی کرنا بھی ضروری ہے خواہ وہ اطلاعات غلط ہی ثابت کیوں نہ ہوں۔ ایسی اطلاعات فراہم کرنے والوں کی حوصلہ شکنی بھی نہیں ہونی چاہیے۔ یہ کام محض انٹیلی جنس اداروں کی ذمہ داری سمجھ کر چھوڑا نہیں جا سکتا۔ دہشت گرد اب ایک واردات کے بعد دوسری کے درمیان کافی وقفہ دینے لگے ہیں جس کا ایک مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ لوگ ایک واردات سے پیدا ہونے والے غم و غصہ پر صبر کر لیں اور زندگی کے معمولات میں پھر سے لاپروائی کو چلن بنا لیں۔ لیکن مقامی قیادت اور مقامی انتظامیہ کو انتہا پسندی کے ممکنہ واقعات کے حوالے سے مستعد رہنا چاہیے اور عام لوگوں کو مستعد رکھنا چاہیے۔ جہاں تک اس قسم کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے والے عناصر کا سوال ہے ہمارے تئیں یہ ان تمام گروہوں اور جتھوں کی مشترکہ کارروائی قرار پاتی ہے جو وطن عزیز میں عرصہ دراز سے امن دشمن کارروائیاں کرتے چلے آرہے ہیں۔ ان عناصر کے سہولت کاروں اور ہمدردوں کو بھی ان صفوں سے علیحدہ نہیں سمجھنا چاہئے ۔ آپریشن رد الفساد کے دوران ہر اس تنظیم 'گروہ اور ان سے منسلکہ ہر قسم کے مشکوک عناصر خواہ ان کا تعلق جس سیاسی جماعت اور مذہبی تنظیم سے ہو بلا امتیاز کارروائی کرکے مستقل امن کے قیام کی سعی یقینی بنائی جائے تاکہ عوام میں کسی دہشت گردانہ کارروائی یا فرقہ وارانہ دہشت گردی کا خوف باقی نہ رہے۔عوام جس طرح ایک عرصے سے سنگین حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں اور سیکورٹی فورسز و قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے قربانیاں دے رہے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن بہر حال ایک طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی اگر اس طرح کے واقعات کو رونما ہونے سے نہیں روکا جاسکتا تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بطور محب وطن پاکستانی کیا ہم اپنے فرائض اور کردار کو بخوبی ادا کر پائے۔ نیز تحفظ امن عامہ کے ذمہ دار اداروں کو کامیابی کی سند دی جائے یا اب بھی غیر یقینی کی کیفیت ہی کو مقدر جان کر صبر کیا جائے۔

متعلقہ خبریں