ثابت ہو جائے تو بات ہی ختم

ثابت ہو جائے تو بات ہی ختم

تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے جو تازہ دعویٰ کیا ہے ایسے میں ان کو پانامہ لیکس کے فیصلے کا نہ تو قلق ہونا چاہئے اور نہ ہی تحقیقاتی ٹیم کی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر عمران خان وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے مبینہ طور پر پانامہ کیس میں چپ رہنے کے لئے دس ارب روپے کی پیشکش کرنے کو ثابت کرتے ہیں تو وزیر اعظم صادق اور امین نہیں رہتے اور آئین کے آرٹیکل 62'63 کے تحت نہ صرف وہ وزیر اعظم کے عہدے پر نہیں رہ سکیں گے بلکہ ان کی رکنیت بھی منسوخ ہو جائے گی۔ اس ضمن میں قانون کے نکتہ دان کیا دور کی کوڑیاں لاتے ہیں اس سے قطع نظر ایک عمودی نظر ڈالنے سے تو یہ سیدھا سادھا کیس لگتا ہے جس میں تحریک انصاف کے قائد کو یہ ثابت کرنا ہے کہ نواز شریف کی جانب سے ان کو یہ پیشکش کی گئی تھی اس کے بعد سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان سے کس ذریعے سے رابطہ کیا گیا تھا۔ آج کل معروف ذرائع روابط از خود ثبوت کے ایسے ذرائع بن گئے ہیں جو چھپائے نہیں چھپائے جاسکتے۔ اگر کسی ایلچی کے ذریعے سے پیشکش کی گئی تھی تو اس کا بھی تو کوئی نام ہوگا۔ اگر بالفرض محال ''شاطر منصوبہ سازوں'' نے کوئی ثبوت نہیں چھوڑا تو تحریک انصاف کے چیئر مین عدالت کے سامنے حلفیہ بیان دے کر اپنی ذمہ داری پوری کرسکتے ہیں اور قوم کو اپنی صداقت کا یقین دلایا جاسکتا ہے باقی عدالت کو یہ قابل قبول ہوتا ہے یا نہیں یہ متعلقہ سوال نہیں۔ اگر عدالت جانے میں بھی امر مانع ہے تو کم از کم عوام کے سامنے اس پیشکش کے سچ ہونے کا یقین دلایا جائے تو پی ٹی آئی وہ نتائج اور مقاصد حاصل کرسکے گی جو ڈی چوک کے دھرنے' اسلام آباد کے گھیرائو اور پانامہ لیکس سے حاصل نہ کر پائی۔ عمران خان نے بہت بڑا انکشاف کرکے باقی کرداروں کو بھی مشکوک بنا دیا ہے جس کے بعد تحقیقاتی ٹیم کے بھی ڈگمگانے کا گمان گزرنا فطری امر ہوگا کیونکہ دس ارب روپے معمولی رقم نہیں ہوتی۔ اگر وزیر اعظم نواز شریف اس الزام پر عدالت نہیں جاسکتے تو ان کے اہل خاندان اور ان کی جماعت کے ارکان کے پاس بھی اس بات کا حق ہے کہ وہ اس الزام پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا کر اپنی بے گناہی پر اصرار کریں۔ بلا شبہ بات بات پر عدالت سے رجوع مناسب عمل نہیں لیکن یہ الزام ملکی تاریخ کے اہم ترین مقدمے سے متعلق ہے۔
ضلعی حکومت کی کارکردگی؟
پشاور کی ضلعی حکومت کی جانب سے رواں مالی سال کے بجٹ کے اختتامی مہینوں تک ایک سوچونتیس نئے ترقیاتی منصوبوں پر ایک پائی کا بھی عدم خرچ اور صرف دو منصوبے شروع کرنا ناقابل یقین اور مبالغہ آرائی لگتا ہے۔ ضلعی حکومت کا بیورو کریسی سے آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے گم ہوجانا اپنی جگہ مناسب تو جیہہ ضرور ہے لیکن ضلع ناظم پشاور کی اس بات سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا کہ ٹھیکیداروں کی جانب سے بل جمع نہ کرانے کی بنا پر سرکاری کھاتوں سے رقم منتقل نہیں ہوئی۔ ٹھیکیدار تو کمیشن دے کر کسی نہ کسی طرح بل کلیئر کروانے کی تگ و دو میں ہوتے ہیں وہ منتیں بھی کرتے ہیں اور سفارشیں بھی کراتے ہیں کہ ان کو جلد سے جلد رقم مل جائے کہ ان کا کاروبار روز گار چل جائے۔ بہر حال توجیہہ کی حقیقت جو بھی ہو پشاور کی ضلعی حکومت کی کارکردگی تو کیا اس کے بقا کا سوال اٹھتا ہے۔ صوبائی دارالحکومت کے عوام کے مسائل کا حل نہ ہونا اور ان کا عدم اطمینان کا بار بار اظہار بلا وجہ نہیں اور نہ اسے سمجھنا مشکل ہے۔

متعلقہ خبریں