''ڈان لیکس'' انکوائری رپورٹ

''ڈان لیکس'' انکوائری رپورٹ

میڈیا والے دور کی کوڑی لاتے ہیں۔ اندر کی خبریں حاصل کرلیتے ہیں لیکن جب ان کے اپنے محلے کی بات آئی تو دور و نزدیک کنفیوژن ہی نظر آیا۔ بات ''ڈان لیکس '' کی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ ''لیک'' ہے بھی یا نہیں۔ گزشتہ 6اکتوبر کو روزنامہ ڈان میں جو معتبر مانا جاتا ہے نمایاں طور پر ایک خبر شائع ہوئی ۔ جسے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس میں وزیر اعظم ہاؤس کے ایک محدود اجلاس کی ''اندر کی کہانی'' بیان کی گئی۔ کہا جارہا ہے کہ جو کچھ خبر میں شائع ہوا تھا وہ سب کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے تو اسے لیک یعنی افشاء نہیںکہا جا سکتا۔ پھر کہا گیا کہ یہ خبر گھڑی گئی تھی جسے ڈان کے سرل المیڈانے اخبار میں اشاعت کے لیے ارسال کر دیا۔ اس خبر میں ایسی باتیں پاک فوج کے ایک اعلیٰ اجلاس میں سیکورٹی کے منافی قرار دیا ۔ آخر کار اس موضوع پر مختلف زاویوں سے کیے جانے والے تبصروں کے جلو میں حقیقتِ حال جاننے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیشن ایک ریٹائرڈ جج صاحب کی سربراہی میں قائم کر دیا گیا۔ یہ کمیشن و ز ا ر ت اطلاعات نے نہیں بلکہ وزارت داخلہ نے قائم کیا تھا۔ وزیر داخلہ' پہلے پہل جب بھی ان سے پوچھا جاتا کہہ دیتے کہ جلد ہی رپورٹ آجائے گی۔ پھر انہوں نے کہا کہ آٹھ دن میں رپورٹ آ جائے گی ۔ پھر انہوں نے کہا کہ رپورٹ آنے میں تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ انکوائری کمیشن کے سربراہ کا اصرار ہے کہ رپورٹ کمیشن کے تمام ارکان کی متفقہ ہو گی تو وہ اس پر دستخط کریں گے۔ اور جب تک وہ دستخط نہ کریں ظاہر ہے یہ رپورٹ مکمل نہیں ہو سکتی تھی۔ وزیر داخلہ کی یہ بات بڑی عجیب تھی کہ رپورٹ کے متفقہ ہونے کی شرط سے ظاہر ہے کہ ارکان پر یہ پابندی عائد کی جا رہی ہے کہ ان کی رپورٹ اگر ایک دوسرے سے مختلف ہو تو وہ اس کے غیر متفقہ حصے خود حذف کر دیں اس کے بعد کمیشن کے سربراہ دستخط کریں گے۔ وزیر داخلہ کے اس بیان سے تو یہ تاثر ابھرتا ہے کہ کمیشن کے ارکان نے جو نتائج اخذ کیے وہ آپس میں مختلف تھے۔ تاہم ہوا میں تیر نہیں چلانے چاہئیں۔ اس دوران یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ اس رپورٹ کی روشنی میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے امور خارجہ طارق فاطمی کو ان کے عہدے سے الگ کیا جارہا ہے۔یہ ابھی ایک اخبار میں کہا گیا کہ طارق فاطمی نے یہ خبر لکھوائی تھی۔ پھر 25اپریل کو ایک ٹی وی چینل پر یہ خبر آئی کہ طارق فاطمی نے وزیر اعظم سے دو بار ملاقات کی ہے۔ یہ خبر بھی آئی کہ وزیر داخلہ نے اسی دن وزیر اعظم سے ملاقات کی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ طارق فاطمی نے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا ہے ۔ اور یہ بھی بتایا گیا کہ طارق فاطمی نے اپنا معاملہ وزیر اعظم کے سپرد کر دیا ہے۔ یہ خبریں بھی آئی ہیں کہ رپورٹ کے مطابق ذمہ داری تین افراد کی ہے جن میں سے ایک وزارت اطلاعات کے اعلیٰ عہدیدار ہیں (طارق فاطمی کا ذکر آ چکا ہے) لیکن… بالتکرار لیکن 25اپریل کو رات گیارہ بجے ایک ٹی وی چینل پر خبر آئی کہ وزارت داخلہ کی طرف سے شام پونے سات بجے رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کی گئی۔ یہ سوال اہم ہونا چاہیے کہ جب رپورٹ ہی وزیر اعظم کو پیش نہیں کی گئی تھی تو طارق فاطمی اور وزارت اطلاعات کے اعلیٰ عہدیدار کے نیوز لیکس میں ملوث ہونے کی باتیں کہاں سے آ گئیں۔ رپورٹ وزیر اعظم کو پہنچ گئی ہے اب وہ اس پر کب غور کرتے ہیں اور کب کوئی ایکشن لیتے ہیں یہ تو ان کے ایکشن لینے پر ہی معلوم ہو سکے گا ۔ یہ ساری کہانیاں کس طرح ''لیک'' ہو گئیں اور کس طرح شائع ہو گئیں؟ یہ صحافتی ذمہ داری کا سوال ہے۔ امید ہے کہ وزیر داخلہ جن کا اس سارے معاملے میں کلیدی کردار رہا ہے کسی نہ کسی سطح پر کسی نہ کسی فورم پر یہ سوال اٹھائیں گے۔ اور میڈیا والوں نے اس حوالے سے جو کنفیوژن پھیلایا اس کا نوٹس لیں گے۔ اس صورت حال کے باعث بیچارے طارق فاطمی کو اور وزارت اطلاعات کے اعلیٰ افسر کو جو نقصان پہنچ سکتا تھا وہ تو پہنچا لیکن ایک طرح سے اس خبر کے بارے میں جسے ڈان لیکس کہا جا رہا ہے توثیق بھی ہو گئی اور مزید کنفیوژن بھی پھیل گیا۔ اس لیے اب یہ ضروری سمجھا جانا چاہیے کہ انکوائری کمیشن کی رپورٹ کو ظاہر کر دیا جائے تاکہ عوام کا کنفیوژن دور ہو اور وزیر اعظم اس رپورٹ کے مطالعے کے بعد جو بھی ایکشن لیں اس کی شفافیت بھی عوام کو نظر آئے۔ یہ خبر اگر من گھڑت تھی تو بھی اور اگر افشاء ہوئی تو بھی روزنامہ ڈان چونکہ ایک معتبر اخبار ہے اور ساری دنیا میں پڑھا جاتا ہے اس لیے اس خبر کو بنیاد بنا کر بھارت نے پاکستان پر دہشت گردی کی سرپرستی کے الزام کے حوالے سے خوب پروپیگنڈا کیا۔ اقوام عالم میں پاکستان کی خوب بدنامی ہوئی ۔ اگر یہ رپورٹ عام کر دی جاتی ہے تو امکان ہے کہ اس بدنامی کا کچھ ازالہ ہو سکے گا۔ ڈان ایک معتبر اخبار ہے ' دنیا بھر میں پڑھا جاتا ہے ' اس کے ادارتی ذمہ داروں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے تھا۔ رپورٹ میں امکان ہے اس حوالے سے کچھ مندرجات ہوں گے ۔ روزنامہ ڈان نے چند سال پہلے بھی ایک ''بڑی'' خبر نہایت نمایاں طور پر شائع کی تھی ۔ یہ خبر ایک اردو اخبار کے ایڈیٹر کے اسامہ بن لادن سے انٹرویو کے بارے میں تھی جو آج کل ایک ٹی وی چینل میں اینکر ہیں۔ خبر میں کہا گیا تھا کہ اسامہ بن لادن کے پاس ایٹم بم ہے ۔ دنیا بھر میں یہ خبر پھیلی اور افغانستان میں تباہی مچ گئی۔ کارپٹ بمباری ہوئی' ڈیزی کٹر بم بر سا ئے گئے۔ پتہ نہیں کتنے افغان جوان ' بوڑھے ' بچے اور عورتیں جاں بحق ہوئیں ' کتنے زخمی ہوئے او رعمر بھر کے لیے معذور ہوئے لیکن ایک امریکی بم بھی اس ایٹم بم پر نہ گرا جو اسامہ بن لادن کے پاس تھا۔ افغانستان پر امریکی اور اتحادی فوجوں کا قبضہ ہو گیا لیکن وہ ایٹم بم آج تک برآمد نہ ہواجس کی خبر روزنامہ ڈان نے شائع کی تھی۔ روزنامہ ڈان کے ادارتی ذمہ داروں کو پتا نہیں یہ واقعہ یادبھی ہے یا نہیں ۔ تاہم سبھی میڈیا والوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کی کارگزاری کے اثرات دور رس بھی ہوتے ہیں اور نقصان رساں بھی ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں