افغانستان میں فلسفہ ٔطاقت کی ناکامی

افغانستان میں فلسفہ ٔطاقت کی ناکامی

افغانستاا ہی کوئی دن ایسا ہو جب اس ملک کے باسیوں کو سکون اور چین نصیب ہوا ہو۔جب امریکہ اور نیٹو نے افغانستان میں اپنی کارروائیوں اور کارپٹ بمنگ کا آغاز کیا تونعرہ اور دعویٰ یہ تھا کہ امریکہ سمیت پوری دنیا کو محفوظ بنانے کے لئے افغانستان میں فوجی کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے ۔ان سولہ برسوں میں امریکہ ،نیٹو اور ایساف جیسے خوفناک عسکری اتحادوں نے افغانستان پر دنیا کا جدید ترین اسلحہ استعمال کیا مگر حالات وواقعات اور نتائج کی بیلنس شیٹ بتاتی ہے کہ طاقت کے استعمال کی راہ اختیار کرنے والے سولہ برس بعد بھی ناکامیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

کارپٹ بمنگ نے طالبان کا وجود ختم کرنے کی بجائے ان کی فصل کے لئے بیج کا کام دیا اور مزاحمت پھیلتی چلی گئی ۔پاکستان جیسے ہمسایوں نے جو اس جنگ کا دوسرا شکار بن رہے تھے سیاسی عمل کی بحالی پر زور دیا مگر اسے طالبان کی ہمدردی کے طنز میں اُڑادیا گیا ۔طاقت کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی حکمت عملی کو بہترین پالیسی کے طور پر اپنا یا گیا ۔کئی امریکی صدور آئے اور چلے گئے مگر پالیسی کا پرنالہ وہیں رہا یعنی طاقت کا استعمال ۔یہاں تک کہ سولہ برس گزر گئے اورغیر ملکی افواج کے قیام کے سولہ برس بعد افغانستان امن اور استحکام کی منزل سے کوسوں دور ہے ۔گزشتہ دنوں مختصر وقفے سے دو خوفناک کارروائیاں ہوئیں اور جن کی مثال گزشتہ سولہ برس میں نہیں ملتی۔پہلی کارروائی امریکہ نے کی اور دنیا کا سب سے بڑا غیر نیوکلیائی بم افغانستان کی سرزمین پر گرا دیا اور کہا گیا کہ یہ بم داعش کے ٹھکانے پر گرایا ۔اس میں کون ہلاک ہوا ؟یہ ایک سربستہ راز ہے۔البتہ یہ اطلاع چونکا دینے کا باعث بنی کہ ہلاک ہونے والوں میں ڈیڑھ درجن بھارتی شہری تھے ۔بھارتی سفارت خانے نے یہ لاشیں تاحال وصول نہیں کیں ۔یہ بھارتی کون تھے اور افغان سرزمین پر ایک دہشت گرد گروہ کے مرکز میں کیا کر رہے تھے یہ سوالا ت افغانستان میں بھارت کی موجودگی کے معاملے کو مزید مشکوک بنا رہے ہیں ۔یہ داعش میں شامل ہونے والے بھارتی تھے یا کلبھوشن یادیو کے انڈے بچے تھے جو داعش کو پاکستان میں کارروائیوں کی تربیت دے رہے تھے ؟ان سوالوں کا جواب شاید ہی کبھی مل پائے ۔افغان حکومت ،وہاں مقیم امریکہ اور وہاں چوکڑیاں بھرنے والا بھارت کوئی بھی شاید اصل کہانی کے سامنے لانے کا خواہش مند نہیں ہوگا ۔افغانستان میں استعمال ہونے والے بم کو ''بموں کی ماں '' کہا گیا ۔یہ بم دنیا میں پہلے کہیں استعمال نہیں ہوا ۔اسے خانہ جنگی کی صلیب پر جھولتے ایک بدقسمت ملک عراق پر برسانے کے لئے خصوصی مرچ مصالحے ڈال کر بنا یاگیا تھا مگر عراق خوش قسمت ثابت ہوا اور اس بم کے استعمال کی نوبت آنے سے پہلے ہی صدام حکومت گر گئی ۔اب اس کا استعمال ایک اور بدقسمت مسلمان ملک افغانستان پر کیا گیا ۔جہاں اس سے کتنا جانی ومالی نقصان ہوا اس کی تفصیل سامنے نہیں آئی کیونکہ امریکی فوج علاقے کو گھیرے ہوئے ہے ۔سولہ برس کی سب سے بڑی کارروائی کے چند ہی دن بعدافغانستان کے شہر مزار شریف میں ایک فوجی اڈے پر خوفناک حملہ کیا گیا ۔دس خودکش حملہ آوروں نے فوجی چھائونی کو نشانہ بنایا اور اس کارروائی میں ڈیڑھ سو سے زیادہ فوجی ہلاک ہوئے ۔
کچھ ذرائع ابلاغ جانی نقصان کا اندازہ اس سے کہیں زیادہ لگا رہے ہیں۔اس کارروائی کو سولہ برس میں طالبان کا سب سے بڑا حملہ کہا جا رہا ہے جس میںدس افراد نے حصہ لیا اس حملے کی جو تفصیل افغان فوجی اہلکاروں کی زبانی میڈیا میں گردش کر رہی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حملہ آور کس قدر تربیت یافتہ تھے۔کارروائی کا جو انداز وائس آف امریکہ نے بیان کیا ہے اس پر ہالی ووڈ کی کسی فلم کاگمان گزرتا ہے۔ وردیوں میں ملبوس دس افراد ایک گاڑی میںایک زخمی فوجی کو لے کر چھائونی میں داخل ہوئے ۔زخمی فوجی کے جسم سے خون رس رہا تھا ۔حملہ آوروں کے پاس افغان نیشنل گارڈ کے شناختی کارڈ بھی تھے وہ تمام ناکوں پر یہ تاثر دیتے گزر گئے کہ وہ کسی مشن سے لوٹے ہیں جہاں تصادم میں فوجی زخمی ہوا ہے اور اس کی جان بچانا ضروری ہے ۔اس تاثر کے ساتھ وہ تمام رکاوٹیں عبور کرتے چلے گئے اور افغان فوجیوں پر ٹوٹ پڑے جب وہ جمعہ کی نماز کے بعد بڑی تعداد میں کینٹین میں جا رہے تھے۔رپورٹس کے مطابق ان حملہ آوروں کو چھائونی کے اندر سے بھرپور معاونت حاصل تھی ۔ ۔اس کارروائی کی شدت اور سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جارہا ہے کہ اس کے بعد افغانستان کے وزیر دفاع اور فوجی سربراہ دونوں کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہونا پڑا ۔افغان حکومت نے اس واقعے پر ایک روزہ سوگ منایا ۔سولہ برس بعد افغان جنگ کے متحارب فریقین امریکہ کی طرف سے ''بموں کی ماں '' اور طالبان کی طرف سے ''کارروائیوں کا باپ''یعنی تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی ہونا یہ بتارہا ہے کہ افغانستان سولہ برس کی مارا ماری کے باوجود پہلے سے کہیں زیادہ غیر محفوظ ہے ۔امریکہ نے افغانستان پر یلغار اسی بنیاد پر کی تھی کہ وہ افغانستان کو طالبان فری اور محفوظ ملک بنائیں گے مگر سولہ برس بعد متحارب فریقین کی طرف سے تاریخ کی سب سے بڑی کارروائیاں بتارہی ہیں امریکہ کا یہ فلسفہ سرِبازار پِٹ گیا ہے اور اب افغانستان کے حقیقی دست مسیحائی کی ضرورت ہے ایک ہیلنگ ٹچ ضرورت ہے ۔

متعلقہ خبریں