وہاں عمر ہم نے گزاردی جہاں سانس لینامحال تھا

وہاں عمر ہم نے گزاردی جہاں سانس لینامحال تھا

افسوسناک امر یہ ہے کہ سیاستدانوں کی بالغ نظری پر سوالات ابھر رہے ہیں جو گزشتہ کچھ عرصے سے کبھی ایک مسئلے پر اور کبھی دوسرے پر ایک دوسرے کو تو چھوڑ یئے ملک کے اعلیٰ اور غیر جانبدار اداروں پر بھی بلند بانگ انداز میں تحفظات کا اظہار کر کے بلاوجہ ان اداروں کو متنازعہ بنانے کی شعوری کو ششیں کرر ہے ہیں۔پانامہ لیکس کے معاملے پر طویل مقدمے بازی کے دوران جس طورہر سماعت کے موقع پر عدالت عظمیٰ کے باہر ''سیاسی میدان '' بپا کر کے ایک ایک نکتے پر اپنی اپنی وضاحتوں کے تیروں سے ایک دوسرے کو چھلنی کیا کرتے تھے اور فاضل جج صاحبان کے ریمارکس میں سے اپنی پسند کے مطابق مطالب اخذ کر کے جو تماشہ لگاتے رہے ہیں اس پر کئی بار میں نے یہی گزارش اپنے کالموں میں کی ہے کہ یہ لوگ سیاسی فضا کے ساتھ ساتھ قانونی گتھیوں کوبھی الجھار ہے ہیں ا س لیے ان کی ذاتی عدالتوں کوشٹ اپ کال دیکر ان کے منہ بند کئے جائیں ، مگر اس بات کی کسی کو سمجھ نہیں آئی ، اور باوجود یہ کہ ہر فریق فیصلے کو من وعن تسلیم کرنے کے بار بار کے وعدوں کے باوجود اب جبکہ یہ فیصلہ آگیا ہے تو اس پر حتمی نتائج یعنی جے آئی ٹی کی تحقیقات کے منطقی انجام تک پہنچنے تک کم از کم اخلاقی طور پر اپنے وعدے کا پاس کرنے کے وعدے کو نبھائے ، الٹا نہایت ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حسب عادت نت نئی تاویلیں تلاش کرکے ان اداروں کی تحقیر کرنے میں مگن ہیں جن کا اس حوالے سے کوئی تعلق ہے نہ ذاتی خواہش کہ ان اداروں کو بھی جے آئی ٹی کا حصہ بنا دیا جائے ، اور گزشتہ روز جہاں کور کمانڈر ز کانفرنس میں اس بات کو یقینی بنادیا گیا ہے اس اعلان کے ساتھ کہ فوج سپریم کورٹ کے اعتماد پر پورا اترے گی جے آئی ٹی میں اپنا ضروری کردار شفاف اور قانونی انداز میں ادا کیا جائے گا ، تو اس کے بعد اس حوالے سے حکومت مخالفین کو اپنی سوچ کا جائزہ لیکر اسے بد ل دینا چاہیئے ۔ کیونکہ آئی ایس پی آر کی اس وضاحت کے بعد یہ بات یقینی ہوگئی ہے کہ فوج کے جو ادارے جے آئی ٹی کا حصہ ہوں گے نہ صرف وہ خود انصاف اور عدل کے اعلیٰ معیار پر پورا اتریں گے بلکہ دیگر اداروں کی کارکردگی کا بھی نہایت غیر جانبدارانہ انداز سے جائزہ لیکر تحقیقات کوشفاف بنانے میں اہم کردار اد ا کریں گے اور یوں جن دوسرے اداروں پر حر ف زنی کی جارہی ہے وہ بھی اس حوالے سے محتاط رہیں گے۔ اس لیے کہ ان تمام تحقیقات کی نگرانی سپریم کورٹ نے خود اپنے ذمے لے رکھی ہے ۔تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پہلے وعدے کے مطابق سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مٹھائیاں بھی بانٹیں اور منہ بھی میٹھا کیا ۔ مگر چند گھنٹو ں نے ان کی سوچ کا کایا کلپ کر کے فیصلے میں اختلافی نوٹس پر جو ہنگامہ آرائی شروع کی اس کے حوالے سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک اور کیس کی سماعت کے دوران عمران خان سے کہا کہ دنیا بھر میں اختلاقی نوٹ لکھے جاتے ہیں لیکن اتنا شور کہیں نہیںمچتا جتنا کہ یہاں پر مچا سیا ستد ا نو ں پر بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ عدالتوں کا احترام کریں ، بد اعتمادی کی فضا ختم کرنا ہوگی ، ہم کوئی قاضی نہیں ، قانون کے مطابق چلتے ہیں ، غلطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے مگر بد نیتی نہیں ہے ، چیف جسٹس کے ان ریمارکس کے بعد اخلاقی اور اصولی طور عمران خان کوا پنے رویئے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے مگر انہوں نے جمعہ کے روز ایک بار پھر اسلام آباد میں جلسہ عام کا اعلان کر کے اس فیصلے کے حوالے سے حکومت کے خلاف احتجاج کو مزید آگے بڑھانے کا فیصلہ کر کے چیف جسٹس کے مشورے کو بھی پر کاہ کے برابر اہمیت دینے سے انکار کر دیا ہے جس پر سنجیدہ ملکی حلقوں کو ضرور سوچنا چاہیئے ، ادھر لاہور بار کونسل نے وزیر اعظم سے پانامہ لیکس کے فیصلے کے حوالے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس مسئلے پر جس تحریک کی دھمکی دی تھی ، اس پر وکلاء برادری بھی تقسیم ہو رہی ہے اور نہ صرف ابھی تک سپریم کورٹ بار نے اس حوالے سے کوئی واضح پالیسی کا اعلان نہیں کیا بلکہ لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے وکلاء نے بھی بار کو اس ضمن میں استعمال ہونے کی مزاحمت کااعلان کیا ہے ، جبکہ سیاسی جماعتیں بھی ایک پیج پر نظر نہیں آتیں ، ایک جانب پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف اگرچہ وزیر اعظم سے استعفیٰ کے معاملے پر ایک آواز ضرور ہیں تاہم دونوں جماعتوں کے رہنماء جلسوں میں ایک دوسرے کے لتے لے رہے ہیں ، ادھر (ق) لیگ ، جماعت اسلامی اور بعض دیگر جماعتیں الگ سے سیاسی اتحاد بنا نے میں مگن ہیں ، لیکن ان سیاسی اتحادوں کی بیل منڈھے چڑھتے نظر نہیں آتی کیونکہ جماعت اسلامی ایک بار پھر ایم ایم اے جیسے اتحاد کے قیام میں دلچسپی رکھتی ہے اور دوسری جانب وہ عمران خان سے بھی اتحاد کیلئے نرم گوشہ رکھتی ہے جبکہ ایم ایم اے کی ایک اہم جماعت جمیعت علمائے اسلام (ف) اور تحریک انصاف کے مابین کشید گی سب پر عیاں ہے ، دوسری جانب اے این پی نے وزیراعظم سے استعفیٰ طلب کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے ایسے کسی اتحاد میں شامل ہونے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ عوام کا مسئلہ یہ ہے کہ نعروں کی چکا چوند سے اپنی آنکھیں خیرہ کرکے یہ اپنے ووٹ ان کے حوالے کردیتے ہیں اور پھر اگلے انتخابات تک اپنے حالات کی سنگینی پر آٹھ آٹھ آنسو بہاتے رہتے ہیں جبکہ آنے والے انتخابات کی تیاری کے دوران آج کل سیاسی رہنمائوں کے لب و لہجے کو غور سے دیکھا جائے تو جس قسم کے نازیبا الفاظ ایک دوسرے کے لئے یہ لوگ استعمال کر رہے ہیں اس پر ان لوگوں کی ذہنیت کے حوالے سے کئی سوال پیدا ہو رہے ہیں۔

کبھی موسموں کے سراب میں کبھی بام ودر کے عذاب میں
وہاں عمر ہم نے گزار د ی جہاں سانس لینا محال تھا

متعلقہ خبریں