محسن کشی کی ساٹھ سالہ روایت

محسن کشی کی ساٹھ سالہ روایت

فیصلہ ہوا کہ وزیراعظم سے جے آئی ٹی تحقیقات کرے گی۔دوسرے لفظوں میں گریڈ اٹھارہ سے بیس کے افسران اپنے ملک کے منتخب وزیراعظم کو کٹہرے میں کھڑا کر کے ان سے حساب کتاب لیں گے۔اور ستم بالائے ستم یہ کہ اپوزیشن کو اس پر بھی اعتراض ہے۔ آصف زرداری کو بھی جس نے بی بی کی ''وصیت'' کے مطابق پیپلز پارٹی کو اپنی مٹھی میں لیا اور پھر مفاہمت کا نعرہ لگا کر اس ملک اور قوم کو اس وقت تک اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا جب تک طاقت اور اختیار ان کے پاس رہا۔پاکستان میں کسی بھی حکومت کو آزادی سے کام کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ کبھی مارشل لاء کے ذریعے جمہوری حکومت کا خاتمہ کر دیا جاتا ہے اور کبھی اپوزیشن حکومت کی راہ میں روڑے اٹکانے لگتی ہے۔ یوں کوئی منتخب حکومت پانچ سال پورے بھی کر لے تو بھی اس کا حقیقی عرصہ اقتدار دو سال سے زیادہ نہیں بنتا۔یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی خفیہ طاقت منتخب حکومتوں کے کام میں رکاوٹیں کھڑی کر کے پاکستان کو مسائل کے گرداب میں پھنسائے رکھنا چاہتی ہے۔کرپشن سے بڑا جرم آئین توڑ کر مارشل لاء لگانا ہے لیکن خان صاحب ریفرنڈم میں مشرف کو سپورٹ کرتے ہیں اور زرداری انہیں پروٹوکول دے کر ایوان صدر سے رخصت کرتے ہیں۔کپتان ایک وقت میں زرداری کو ڈاکو قرار دیتے ہیں اور دوسرے وقت میں انہیں اس بات کی داد دیتے ہیں کہ وہ اپنے ڈاکو پن سے انکار نہیں کرتے۔ کپتان کو زرداری کے جیالے ایک وقت میں ذہنی مریض کہتے ہیں اور دوسرے وقت میں ان کے ساتھ چلنے کے امکانات کو بھی رد نہیں کرتے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ، اس کے سیاستدانو ں کے دوغلے پن،پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کی '' جواں مردی''،اور اقتدار کی ہوس میں مبتلا سابق جرنیلوں کی عوام دوستی کو قریب سے جاننے والوں سے یہ امر کبھی مخفی نہیں رہا کہ جب بھی پاکستان کی تاریخ ایک نئی کروٹ لیتی ہے تو منتخب وزیراعظم کو نشان عبرت بنانے کی کوششوں کا آغاز ہو جاتا ہے۔ بھٹو نے امریکہ کی چاکری کرنے کی بجائے روس اور چین کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ، ایٹم بم کی بنیاد رکھی،سٹیل ملز سمیت بڑے پراجیکٹس کو شروع کیا اور اسلامی بلاک تشکیل دینے کی کوشش کی تو انہیں پھانسی پر لٹکا دیا گیا، نوازشریف نے ایٹمی دھماکے کر کے ملک کو ساتویں ایٹمی طاقت بنایا،موٹر وے کا جال بچھا کر ملک کو معاشی ٹائیگر بنانے کا خواب دیکھا تو انہیں دس سال کے لئے ملک بدر کردیا گیابظاہر ان دونوں کاموں کے لئے ضیاء الحق اور مشرف استعمال ہوئے لیکن درحقیقت اس کا اہتمام کسی اور نے کیا تھا۔کہانی آج بھی تھوڑی سی تبدیلی کے بعد اسی ڈگر پر جا رہی ہے۔نواز شریف نے سی پیک کے لئے چین کی طرف ہاتھ بڑھایا تو وہی طاقت پھر سے متحرک ہو گئی جو پاکستان کو مسائل کے گرداب میں سے نہیں نکلنے دیتی۔اس کا ٹارگٹ بظاہر تو نوازشریف کی ذات دکھائی دیتی ہے لیکن اصل میں اس کا ہدف وہ منصوبے ہیں جن کو نوازشریف پایہ تکمیل تک پہنچا کر پاکستان کے مسائل کم کرنا چاہتے ہیں۔پاکستان کے دشمن اس یکسوئی کو توڑنا چاہتے ہیں جو سی پیک ، توانائی کے منصوبوں اور دیگر میگا پراجیکٹس کے لئے درکار ہے۔صرف چار سال پہلے جب نواز شریف کو اقتدار ملا تھا توپاکستان کے وجود کے ہر حصے سے خون رس رہا تھا۔یہ پیپلز پارٹی جو نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہ ہونے کا رونا روتی ہے اس کے سارے کل پرزے صرف اپنی سیکیورٹی کو فول پروف بنانے میں مصروف تھے۔ عوام کے چیتھڑے اڑ رہے تھے۔ سکیورٹی اہلکاروں کا خون پانی کی طرح بہہ رہا تھا۔معیشت ایڑیاں رگڑ رہی تھی،پاکستان کا بین ا لاقوامی تشخص اپنے وجود میں گڑی کرچیاں چن رہا تھا۔کوئی بیرونی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے تیار نہ تھا۔امریکی ہر بڑے شہر میں دندناتے پھر رہے تھے۔حسین حقانی جیسے وطن فروش ملک کی سا لمیت اور وقار کا سودا کر رہے تھے۔واپڈا کو نوچا کھسوٹا جا رہا تھا۔پی آئی اے تباہی کے آخری دہانے تک پہنچی ہوئی تھی۔سٹیل ملز کی اقربا پروری کا پیٹ قوم کی گاڑھے خون پسینے کی کمائی سے بھرا جا رہا تھا۔

اس وقت اگر نواز شریف جیسا شخص اقتدار نہ سنبھالتا تو آج پاکستان پر جان کنی کا عالم ہوتاواہ رے قوم تیرا انصاف۔ایوب خان نے آئین توڑا وہ طبعی موت دنیا سے گئے ۔فاطمہ جناح نے انہیں للکارا اور قتل کر دی گئیں۔یحییٰ خان نے ملک توڑا وہ بھی طبعی موت مرا۔بھٹو نے ملک سے وفا کی توان کے حصے میں پھانسی کا پھندا آیا۔ ضیا ء نے آئین توڑا، وہ حادثاتی موت چل بسے ۔بینظیر بھٹو نے شمالی کوریا سے میزائل ٹیکنالوجی لا کر ملک کو دی انہیں صلے میں گولی ملی۔ نواز شریف نے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا انہیں دس سال کی جلاوطنی ملی۔شوکت عزیز آئین شکن کا بغل بچہ بنا ، عزت و احترام سے گیا۔معین قریشی آسمان سے ٹپکا اور کھجور میں اٹکے بغیر پورے پروٹوکول سے رخصت ہوا۔اور اب محسن کشی کی روایت کو نواز شریف کے معاملے میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں