ستر سال بعد تاریخ کا وہی موڑ!

ستر سال بعد تاریخ کا وہی موڑ!

افغانستان اور جنوبی ایشیا کے لیے نئی امریکی پالیسی پر مشاورت کے لیے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف آئندہ ہفتے کے دوران اپنے تین ملکی دورے کا آغازکرنے جارہے ہیں ۔ان ممالک کے دوروں کا فیصلہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا تھا جس میں امریکی الزامات پر تفصیلی غور و فکر کیا گیا تھادوسری جانب علاقائی ممالک کے دوروں کے لیے وزیر خارجہ کی امریکی ہم منصب ریکس ٹلرسن سے دوطرفہ بات چیت کے لیے طے شدہ دورہ امریکا ملتوی کردیا گیا۔دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ وزیر خارجہ خواجہ آصف مشاورت کے لیے علاقائی ممالک کا دورہ کریں گے۔دورے کے دوران مشاورت میں افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کے لیے علاقائی اتفاق رائے پر غور کیا جائے گا۔پاکستانی سفارتکاروں کا ماننا ہے کہ خواجہ آصف کا یہ دورہ امریکا کے لیے پیغام ہوگا کہ پاکستان کو خطے میں وسیع حمایت حاصل ہے اور اسے دبائو ڈال کر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔واضح رہے کہ ماسکو اور چین پاکستان کے حوالے سے امریکی پوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں جبکہ دونوں ممالک نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ افغانستان میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی اہمیت اور قربانیوں کا اعتراف کیا جائے۔اس حوالے سے چین کے مختلف بیان سامنے آچکے ہیں جن میں چینی وزارت خارجہ وانگ یی کا بیان بھی شامل ہے جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی عظیم قربانیوں کو سراہا اور دنیا کو اس کا اعتراف کرنے پر زور دیا۔دریں اثنا افغانستان میں روسی صدر کے سفیر ضمیر کابلوو کا بھی کہنا تھا کہ پاکستان مذاکرات کے لیے خطے کا اہم ترین ملک ہے جبکہ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان پر غیرضروری دبائو خطے کی سلامتی کی صورتحال کو بری طرح غیرمستحکم کرسکتا ہے۔ایران بھی امریکی پالیسی کو مسترد کرنے والے ممالک کا حصہ ہے، ایرانی وزارت خارجہ کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے لیے نئی امریکی پالیسی کی مذمت کرتے ہیں۔ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں خطے میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کا ذمہ دار واشنگٹن کی موقع پرست حکمت عملی، یک طرفہ اور مداخلت کرنے والی پالیسیوں کو قرار دیا۔خیال رہے کہ گذشتہ روز ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے خطے میں تیزی سے جاری ترقیاتی منصوبوں اور نئی علاقائی شراکت داریوں کے حوالے سے بات کی تھی تاہم انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی تھی کہ اس ماحول میں پاکستان کی پوزیشن کیا ہوگی۔کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم کسی چیز کو اپنے لئے مضر خیا ل کرتے ہیں حالانکہ وہ ہمارے حق میں اچھا ثابت ہوتا ہے اور کبھی کبھی ہم کسی معاملے میں پھولے نہیں سماتے لیکن اس کا انجام ہمارے حق میں بہتر نہیں ہوتا ۔ یہ مثال قرآن کریم میں دی گئی ہے اور تجربات سے بھی اس کی تائید و تصدیق میں تقریباً ہر ایک کا تجربہ اور مشاہدہ بھی ہونا فطری امر ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو ابتداً پاکستان کیلئے پریشانی کا باعث ضرور گردانا گیا لیکن بالآخر قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد جو متفقہ قومی موقف سامنے آگیا اس کی ضرورت مدت سے محسوس کی جارہی تھی اور یہ قوم کی آواز بھی تھی کہ پاکستان جتنا جلد ممکن ہو سکے خود کو امریکی تسلط سے آزاد کرے بہر حال ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے پاکستان کو یہ موقع اور وقت ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تقریر کر کے خود ہی فراہم کر دیا ۔ ہم پاکستانی قیادت کو امریکہ سے قربت پر مطعوں ضرور کرتے آئے ہیں مگر حالات کی مجبوری وقت کی مصلحتوں اور ریاست و حکومت کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں بالآخر پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت حکومت اور عوام آج ایک آواز ہو چکی ہے ۔ بدترین سیاسی مخالفین کی اس ملکی و قومی معاملے میں یکساں سوچ اور موقف کا اظہار ایک جیسے خیالات و جذبات اس امر کے ثبوت کیلئے کافی ہیں کہ پاکستانی قوم بکھری ہوئی تو دکھائی دیتی ہے مگر جب برا وقت آتا ہے ایک ہونے میں دیر نہیں لگاتی ۔ عالمی سطح پر خارجہ تعلقات کے اس نئے موڑ پر یہود ونصریٰ مسلمانوں کا کبھی دوست نہ ہونے کی ہدایت و رہنمائی کی بھی مکر ر سے مکرر تصدیق سامنے آگئی ہے پاکستان کے ساتھ امریکہ کا کردار و عمل پہلے بھی ایسا نہیں تھا جس پر اعتماد کیا جا سکتامگر ٹرمپ کی جانب سے تمام حجت کرد ی گئی جس کے بعد پاکستان کا خطے میں دیگر ممالک سے تیزی سے بہتر ہوتے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا جو سنہری موقع ملا ہے اسے بروئے کار لا نے میں اب کوئی امر مانع نہیں رہا ۔ جس قدم کے اٹھانے سے ہم شاکی تھے وہ قدم از خود اٹھانے کا ہمیں جواز مل گیا ہے ۔ خطے میں روس ،چین اور ترکی کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور اشتراک ہی امریکہ سے قربت کے خاتمے کا حاصل نہیں بلکہ ایران سے تعلقات کے احیاء کا موقع بہت بڑی پیشرفت ہوگی ایران نے پاکستان کے موقف کی تائید و حمایت کر کے ایک اچھے ہمسائے اور برادر اسلامی ملک کا فریضہ ادا کیا ہے وزیر خارجہ کو روس ، چین اور ترکی کے بعد ایران سے تعلقات کو بہتر بنانے پر ضرور توجہ دینی چاہیئے ۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ ہم جس قدم کیلئے پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ کو مورد الزام ٹھہر انے آئے ہیں ستر سال بعد حالات نے ہمیں اس موڑ پر لا کھڑا کردیا کہ ہم اس سہوکا ازالہ کریں روس سے تعلقات کو بہتر بنانے سے خطے کے اس بڑے ملک کی اس شکر رنجی کا بھی خاتمہ ہوگا جو روس کی بجائے امریکہ کو دورے کیلئے منتخب کرکے کی گئی تھی تاریخ کا عجب موڑ یہ آیا ہے کہ وزیر خارجہ امریکہ کا دورہ ملتوی کرکے روس جارہے ہیں ۔

متعلقہ خبریں