مردم شماری کے ابتدائی نتائج پر تحفظات

مردم شماری کے ابتدائی نتائج پر تحفظات

وطن عزیز میں مردم شماری کے انعقاد میں حکومتوں کی جان بوجھ کر تاخیر کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ حالیہ مردم شماری بھی اگر عدالت عظمیٰ کے احکامات نہ ہوتے تو اس کا اس دور حکومت میں انعقاد مشکل نظر آرہا تھا۔ ایسا کیوں ہے؟ ہر حکومت کو مردم شماری جیسے قومی ضرورت کو پوری کرنے میں تامل کیوں رہتا ہے اس کی سیاسی و اقتصادی دونوں وجوہات کے علاوہ بھی کئی ایک وجوہات ہیں۔ سپریم کورٹ کے احکامات پر مردم شماری کا انعقاد تو کردیاگیا لیکن اس کے ابتدائی نتائج کو صوبے قبول کرنے کو تیار نہیں۔ وزیر اعظم نے صوبوں کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کے ساتھ اس امر کا گویا اعتراف کیا ہے کہ ابتدائی اعداد و شمار حقیقت پسندانہ نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ابتدائی نتائج کا اعلان عوامی رد عمل کا جائزہ لینے کے لئے کیاگیا ہے اور جو اعداد و شمار دئیے گئے ہیں وہ انداز وں پر مشتمل نہیں کجا کہ ان کو تسلیم کیاجائے۔ سندھ' بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بالعموم اور قبائلی علاقہ جات میں بالخصوص تحفظات کا اظہار پہلے سے ہوتا رہا ہے۔ مردم شماری کے ابتدائی نتائج سے ان خدشات پر مہر تصدیق ثبت ہوتی دکھائی دے ری ہے۔ قبائلی علاقہ جات کی آبادی کو اس قدر واضح طور پر کم ظاہر کیاگیا ہے کہ اسے یکسر مسترد کرنے میں کوئی تردد نہیں ہونا چاہئے۔ باقی اعداد و شمار اور تفصیلات کے سامنے آنے کے بعد ہی اس بارے رائے زنی موزوں ہوگی البتہ قبائلی علاقہ جات کی آبادی کو جن نا معلوم وجوہات کی بناء پر کم ظاہر کیاگیا ہے اس سے پہلے سے محروم اور پسماندگی کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی سے بری طرح متاثرہ قبائلی عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑ جانا عجب نہیں۔ فاٹا کے طالب علموں کی مرکزی تنظیم کی جانب سے فاٹا کی آبادی کو 55لاکھ ظاہر کرنے کو یکسر مسترد کیا گیا ہے۔ ادارہ شمار یات کی رپورٹ کے مطابق فاٹا کی آبادی 55لاکھ ظاہر کی گئی ہے جبکہ محولہ تنظیم کے مطابق فاٹا کی آبادی ایک کروڑ کے لگ بھگ ہوگی۔ محولہ تنظیم کی طرف سے اس امر کا اعادہ کیاگیا ہے کہ قبائلی عوام کی جانب سے پہلے ہی تحفظات کا اظہار کیاگیا تھا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ فاٹا میں از سر نو مردم شماری کی جائے۔ ہمارے تئیں چونکہ مردم شماری کی نگرانی ذمہ دار اداروں کی جانب سے کی گئی تھی اور اعداد و شمار اکٹھی کرنے کے دوران جس ذمہ دارانہ کردار کا مظاہرہ کیاگیا تھا اس کی روشنی میں تو کسی ممکنہ انسانی غلطی کے علاوہ کسی غلطی کا کوئی امکان نہیں اور نہ ہی نتائج میں رد و بدل کا شبہ کیاجاسکتا ہے۔ چونکہ یہ معاملہ احتیاط اور ذمہ داری کا متقاضی ہے بنا بریں بہتر یہی ہوگا کہ ابتدائی اور نا مکمل اعداد و شمار کو وجہ تضاد نہ بنایا جائے اور حتمی نتائج کا انتظار کیا جائے۔ دوسری جانب حکومت بھی اس امر کا دوبارہ جائزہ لے کہ ابتدائی نتائج میں اعداد و شمار کو مکمل کرنے میں کسی سہوا کا ارتکاب تو نہیں ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں