سکھ بچوں کے سکول کا مسئلہ

سکھ بچوں کے سکول کا مسئلہ


خیبر پختونخوا کے پایہ تخت پشاور میں واقع سکھوں کے واحد سکول کی عمارت خالی کرنے کے حوالے سے صرف روزنامہ مشرق ہی میں نمایاں طور پر خبروں کی اشاعت کے ذریعے صوبائی حکومت کی توجہ مبذول نہیں کرائی گئی بلکہ بی بی سی میں بھی ایک سے زائد مرتبہ اس حوالے سے رپورٹیں آئیں ۔ اقلیتی برادری نے اس سکول کو بچانے کے لئے حکمران جماعت کے اعلیٰ شخصیات کو بھی دہائی دی مگر شنوائی نہ ہوئی۔ دیکھا جائے تو یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں کہ شہر کے مرکزی علاقے میں واقعہ ایک چھوٹی سی عمارت کو حکومت خرید کر سکھ برادری کو عطیہ کرتی چونکہ اس ضمن میں حکومت کی دلچسپی دکھائی نہیں دیتی بنا بریں سول سوسائٹی کے نمائندوں ار این جی اوز سے اپیل کی جاتی ہے کہ اس ضمن میں آگے آئیں اور شہریوں سے عطیات لینے کی مہم چلا کر سکول کی عمارت قیمتاً خرید لی جائے اور ٹرسٹ کے حوالے کی جائے۔ وفاقی حکومت کے اقلیتوں کے امور کی وزارت کے لئے بھی یہ مشکل نہیں کہ وہ یہ عمارت خرید کر بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے وقف کرے۔ سکھ برادری کو خود بھی اس عمارت کی خریداری کے لئے عطیات کی وصولی کے لئے آگے آنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں