ڈونلڈٹرمپ کی افغان پالیسی کے مقاصداوراثرات

ڈونلڈٹرمپ کی افغان پالیسی کے مقاصداوراثرات

لگتا ہے ڈونلڈٹرمپ نے پاکستان کو غیر واضح خطرات یا نتائج کی دھمکی دے کر اندھیرے میں تیر چلایا ہے اور امید لگائی ہے کہ اس نتائج سے بچنے کے لیے پاکستان خود کوئی کارروائی کرے گا۔ لیکن پاکستان کی سویلین اور فوجی قیادت نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے کوئی ''محفوظ'' ٹھکانے نہیں ہیں۔دہشت گردی کے خلاف پاکستان اور امریکہ کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ پاکستان نے گزشتہ سولہ سال کے دوران امریکہ سے مل کر بہت سے اقدام کیے ہیں۔ ان اقدامات میں پاکستان کی حساس ایجنسیوں کے بہت سے اہلکار شہید بھی ہوئے ہیں۔پاکستان نے امریکہ کو بہت سی سہولتیں بھی فراہم کی ہیں اور افغان طالبان کے بہت سے اہم لیڈروں کو گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے بھی کیا ہے۔چندسال پہلے امریکیوں کی ایک بڑی تعداد کو اسلحہ سمیت پاکستان آنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ان سہولتوں سے فائدہ اُٹھا کر امریکہ نے پاکستان میں ریمنڈ ڈیوس ایسے ''کنٹریکٹر'' کو مامور بھی رکھا ہے۔ ان شواہد کی بنا پر امریکہ کا یہ الزام کہ پاکستان دہری چال چل رہا ہے اور ایک طرف امریکہ سے تعاون کرتا ہے دوسری طرف وہ حقانی نیٹ ورک ایسی تنظیموں کو خفیہ پناہ گاہیں بھی فراہم کرتا ہے، ناقابلِ یقین ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ امریکیوں کے نیٹ ورک پاکستان میں خفیہ کام کر رہے ہیں۔ اس لیے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ پاکستان نے کسی دہشت گرد تنظیم کو پناہ دے رکھی ہے۔ اگر ایسا ہوتاتو یہ امریکیوں کی نظر میں ہوتا۔اس لیے اس میں کوئی شک نہیں ہو سکتا کہ امریکہ افغانستان میں اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل نہیں کر سکا اور پاکستان سے توقع کر رہا ہے کہ وہ ''نتائج'' کی دھمکی کے دباؤ میں امریکہ کے لیے اس کا افغان مسئلہ حل کر دے گا۔ افغانستان میں امریکی افواج کے سربراہ جنرل نکولس جو الزامات پاکستان اور افغان طالبان پر لگا رہے ہیں وہ اپنے ناکامی کے لیے جواز تراشی کی حیثیت رکھتے ہیں۔جہاں تک امریکہ کے ان الزامات کا تعلق ہے کہ پاکستان سے جا کر دہشت گرد افغانستان میں حملے کرتے ہیں ان کی حقیقت بالکل برعکس ہے ۔ افغان حکومت خود تسلیم کر تی ہے کہ پاکستان سے فرار ہو کر جانے والے تحریک طالبان کے عناصر اس کی سرحد پر پناہ گاہیں بنائے ہوئے ہیں اور اس علاقے پر افغان حکومت کا کنٹرول نہیں۔ ان الزامات کا ایک ہی جواب ہے جو پاک فوج نے پاک افغان سرحد کی باڑھ بندی شروع کرکے دے دیا ہے۔ امریکہ اور افغان حکومت کا یہ موقف کہ پاکستان سے جا کر دہشت گرد افغانستان میں حملہ آور ہوتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ اس باڑھ بندی کی مخالفت کی بجائے اس میں تعاون کریں تاکہ غیرقانونی اور خفیہ طور پر سرحد پار کرنا ممکن نہ رہے اور تیس لاکھ رجسٹرڈ اور غیر قانونی طور پر مقیم افغانوں کو واپس افغانستان میں آباد کریں۔ لیکن امریکی اور افغان حکومت اس طرف نہیں آتیں جو ان کی بدنیتی اور الزام کے سراسر جھوٹ ہونے کی دلیل ہے۔امریکہ کی نئی افغان پالیسی کا مقصد بھارت کوافغانستان میں زیادہ کردار دینا یا مسلط کرنا ہے جو پہلے ہی افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ وہاں پاکستان مخالف دہشت گردوں کو اسلحہ ' گولہ بارود ، سرمایہ و وسائل اور تربیت فراہم کر رہا ہے۔ اس پالیسی کے طویل مدتی مقاصد افغانستان کی معدنی دولت پر امریکہ اور بھارت کا تسلط ہیں۔ افغانستان میں لوہا نکالنے کا معاہدہ پہلے ہی بھارت کے جندل گروپ کے ساتھ ہو چکا ہے۔ایسے انتظام کے لیے امریکہ اور بھارت کو افغانستان میں امن و استحکام کی ضرورت ہے۔ امریکہ کا خیال ہے کہ افغان طالبان کا عنصر حائل نہ ہو تو افغانستان میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ لیکن طالبان اگرچہ ایک بڑی قوت ہیں، نہ صرف اپنی عسکری حیثیت سے بلکہ افغان عوام میں اپنی پذیرائی کے حوالے سے بھی جس کے بل پر وہ افغانستان کے چالیس فیصد علاقے پر قابض ہیں اور سالہاسال سے اس علاقے کا انتظام چلا رہے ہیں۔القاعدہ کے اسامہ بن لادن اور طالبان کے ملا عمر تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں لیکن طالبان افغانستان میں ایک سیاسی حقیقت کے طورپر موجود ہیں اس لیے کسی ایسے انتظام میں ان کی شرکت ضروری سمجھی جانی چاہیے۔ تاہم افغانستان میں بدامنی کی وجہ صرف طالبان نہیں شمار کیے جا سکتے ۔ کیوں کہ افغانستان میں بدامنی اور عدم استحکام ایک اور طاقتور عنصر کی ضرورت ہے۔ یہ عنصر وہ ہے جو افغانستان کی افیون، معدنیات کو غیر قانونی طورپر دنیا میں سمگل کرتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ سرمایہ دار ہیں۔ وہ دنیا بھر میں امریکی اخراجات کم کرکے ،امریکی اسلحہ فروخت کرکے سرمایہ امریکہ میں لانے کے وعدے پر صدر منتخب ہوئے ہیں اور اب خود امریکی میڈیا کے مطابق ان کی نظرافغانستان کے کھربوں ڈالر کی معدنی دولت پر ہے۔ جس کے لیے وہ بھارت کو انتہائی رضامند،شراکت دار کے طور پر افغانستان میں کردار دینے کو تیار ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ کہ امریکی فوج افغان فوج کو تربیت دینے کے لیے مقیم رہے گی محض وعدہ شمار کیاجانا چاہیے کیونکہ کرزئی کے برسراقدار آنے کے بعد امریکہ نے کئی ڈویژن کی افغان فوج قائم کی تھی ،بھارتی فوج کو بھی تربیت پر مامور کیاتھا اوریہ افغان فوج اور اس کے ساتھ مل کر نہ طالبان کو شکست دے سکی اور نہ انہیں سیاست سے بے دخل کر سکی۔ اس صورت حال میں پاکستان کے لیے پاک افغان سرحد کی باڑھ بندی اور اس کی تیزی سے تکمیل اور اس کے ساتھ افغان باشندوں کے لیے پاکستان سے انخلاء کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ بھارتی عنصر کے زیادہ تعداد میں در آنے سے افغان عوام میں یہ آگہی عام ہو گی کہ ان کی معدنی دولت باہر جا رہی ہے اور اشرف غنی کے لیے آئندہ الیکشن میں کامیابی محال ہو جائے گی اور طالبان کا ''افغانستان کا افغان حل'' کا موقف افغان عوام میں مقبول تر ہو جانے کا قوی امکان ہے۔

متعلقہ خبریں