نئی امریکی پالیسی اور پاکستان

نئی امریکی پالیسی اور پاکستان

جب سے ٹرمپ امریکہ کا صدر بنا ہے دنیا بھر میں ایک نئی ہلچل پیدا ہوئی ہے۔ فرانسیسی صدر ڈیگال کے مطابق امریکہ گزشتہ ایک صدی سے دنیا کے ہر قابل ذکر ملک کا پڑوسی بنا ہوا ہے''۔ اس لئے اس کا صدر جب ہلتا جلتا اور منہ کھولتا ہے تو دنیا کے کسی نہ کسی ملک اور خطے پر اس کے اچھے برے اثرات ضرور مرتب ہوتے ہیں۔ ٹرمپ سے پہلے جتنے امریکی صدور گزرے ہیں ان میں سے بہت کم نے انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ جیسی باتیں کی ہیں۔ آپ نے تو صدر بننے سے پہلے ہی اپنی قوم کے آدھے حصے کو اپنا سخت مخالف بنا دیا تھا اور وہ تلخیاں آج تک قوم کے اذہان میں موجود ہیں کیونکہ وہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے سخت ناقد ہیں۔ امریکی انتخابات میں پہلی دفعہ ٹرمپ کی صدارت کے دوران یہ شوشہ اٹھا کہ انتخابات پر روس اثر انداز ہو کر ٹرمپ کی کامیابی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔صدارتی مہم کے دوران مسلمان ممالک کے لئے ویزوں کی اجراء اور امریکہ میں مقیم مسلمانوں کے لئے قوانین اور روز گار وغیرہ میں سختی لانے کی کھلے عام تقاریر کیں اور صدر بننے کے بعد کرکے دکھایا۔ شمالی کوریا کو شب و روز حملہ آور ہونے اور سخت سزا دینے کی دھمکیاں انتخابی مہم کے دوران بھی جاری تھیں اور آج بھی جاری ہیں۔ دنیا پر آج بھی یہ خوف طاری ہے کہ ٹرمپ شمالی کوریا کو سزا دینے کی اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کے سبب کہیں دنیا کو ایٹمی تباہیوں سے دو چار نہ کردے۔ امریکی صدر اوباما نے ماحولیات کے حوالے سے دنیا کے بڑے بڑے ممالک کو جمع کروا کر گرین گیسز کے روک تھام اور مقدار کو کم کرنے کے لئے معاہدہ کیا' ٹرمپ نے یورپی اتحادیوں کی پرواہ کئے بغیر اس معاہدے کو رد کیا اور امریکہ کو اس سے نکال باہر کیا۔ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران بھارت کے ساتھ عشق و محبت کی داستان مزے لے لے کر بیان کی اور صدر بننے کے بعد بھارت کے ساتھ تجارت اور سائنسی و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں وہ وہ معاہدے کئے کہ ایک دنیا حیران ہوئی۔ ٹرمپ نے چین کو زک پہنچانے کی خاطر بھارت کو جنوبی ایشیاء میں تھانیدار بن کر امریکی مفادات کی نگرانی و نگہبانی کرنے کی ذمہ داری بھی سوپنی۔ بھارت کو اس سلسلے میں سب سے اہم کردار افغانستان میں دیاگیا۔ جہاں بھارت اپنے قونصل خانوں کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے منصوبے بنا کر زیر عمل لا رہا ہے اور ساتھ افغانیوں کو تعلیم کے وظائف دینے کے بہانے بہلا پھسلا کر نوجوانوں کی ذہنی تغسیل (Brain washing) کا کام بھی کر رہا ہے۔ اربوں ڈالر تجارت کے ذریعے بھارت کو معاشی استحکام دے رہا ہے اور ساتھ ہی اپنی پالیسیوں میں ببانگ دہل بھارت کی بلائیں لے رہا ہے۔ٹرمپ نے صدارتی انتخابی مہم کے دوران اوباما کی افغان پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے افغانستان سے اپنی افواج واپس لانے کی بات کی تھی لیکن اب اس پر منکشف ہوا ہے کہ ہم افغانستان میں عراق میں کی گئی غلطی نہیں دہرا سکتے لہٰذا آٹھ ہزار چار سو امریکی فوجیوں کے ساتھ مزید تین ساڑھے تین ہزار امریکی افواج افغانستان کو فتح کرنے پہنچے گی اور ساتھ ہی نیٹو کو بھی آزادی ہے کہ اس ''کار خیر'' میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں''۔امریکی صدر کا یہ اقدام اگر واقعی امن کے قیام کے لئے ہوتا تو شاید دنیا کے امن پسند اقوام اور بالخصوص پاکستان اس کے زبردست مئوید ہوتے۔ لیکن ٹرمپ نے جس بری نیت اور لالچ میں آکر جس افغان پالیسی کا اعلان کیا ہے اس سے امریکی عوام کی جانوں اور ٹیکسوں کے ضیاع اور تاوان کے سوا کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔ ایک دنیا کو معلوم ہے کہ امریکہ افغانستان پر قبضہ کرکے یہاں کے وسائل کا اس طرح مالک بننا چاہتا ہے جس طرح عراق اور لیبیا میں اپنے گروہوں کو تیل کے کنوئوں پر قابض کروا کر بناہے۔
ہم پاکستانیوں سے اس ساری کتھا سے کوئی سروکار نہ ہوتا اگر ٹرمپ اپنے ان مقاصد کے حصول کے لئے بہانے بنا کر پاکستان کو یہ دھمکیاں نہ دیتا کہ گویا افغانستان کے پر آشوب حالات کا ذمہ دار پاکستان ہے۔ویسے تو مختلف سرویز اور جائزوں کے مطابق شاید پاکستان میں امریکہ کے حوالے سے اس کی پاکستان مخالف پالیسیوں اور اقدامات کے سبب اور بالخصوص افغان پالیسی اور بھارت نوازی کے سبب دنیا میں سب سے زیادہ نا پسندیدگی کا رجحان غالب ہے۔ لیکن اب اس نئی افغان پالیسی کے اعلان کے بعد شاید وہ فیصلہ کن لمحہ آن پہنچاہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو اپنی پارلیمنٹ' پاک افواج اور عوام کو اعتماد میں لیتے ہوئے صرف اور صرف پاکستان کے مفادات کے پیش نظر استوار کرے۔ دنیا میں صرف دو ملکوں چین اور ترکی کو دوستی کی فہرست میں اول اور دوم رکھے۔ دیگر ممالک کے ساتھ بھلائی (Farewell) سب کے لئے' دشمنی کسی کے ساتھ نہیں اور محبت متذکرہ بالا دو ملکوں کے لئے۔اور ساتھ ہی امریکہ اور افغانستان کو کھلے اور واضح الفاظ میں بتانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان سے لاکھوں افغان مہاجرین کو افغانستان یا امریکہ منتقل کیاجائے تاکہ پاکستانی سر زمین پر حقانی حقانی کی رٹ لگانا ختم ہو جائے۔ پاکستان کے حکمرانوں کو اب نوشتہ دیوار پڑھنا چاہئے اور وہ یہ ہے کہ اپنے وسائل' اپنی قوم' اپنی افواج پر انحصار کرتے ہوئے اپنے وحدہ لا شریک رب لا یزل پر بھرپور یقین و بھروسہ کرتے ہوئے ان مقاصد و اہداف کے حصول کی طرف بڑھنا چاہئے جس کے لئے پاکستان قائم ہوا تھا۔

متعلقہ خبریں