بس اب شکر یہ

بس اب شکر یہ

امریکا کی نئی افغان پا لیسی کے اعلا ن سے جہا ں پا کستان کے بارے میں امریکا کے مستقبل کے خدو خال عیا ں ہوئے ہیں وہا ں پاکستان کی قومی سلا متی کمیٹی کے فیصلو ں سے جو اب آں غزل کے طورپر پاکستان کی مستقبل کی خارجہ پالیسی کے بھی نکا ت نکھر کر سامنے آئے ہیں ، امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جس لہجے میں افغان پالیسی کے ذریعے پاکستان کو للکارا ہے وہ اس امر کی غمازی کر تا ہے کہ امریکی صدر سے بھول چک ہو گئی وہ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ایک مضبوط سول حکومت کو جھٹکا دے کہ نا توا ں حکومت فوجی آمر کی طر ح ایک ہی دھمکی میں لیٹ جائے گی اور نا ئن الیو ن کی طرح وارے نیا رے ہو جا ئیں گے ، کمزور سہی مگر عوامی مینڈیٹ رکھنے والی حکومت نے جس ڈپلو میسی سے کا م لیا اس نے یہ ثابت کردیا کہ ایک آمر کی حکمر انی اور ایک جمہو ری نظام میں کیا فر ق ہوتا ہے ، سب سے اہم بات یہ کہ حکومت کے کسی عہدے دار نے فوری طور پر کوئی رد عمل نہیں دیا ، حالانکہ سب ہی جانتے ہیں کہ پا کستان کا امریکا کے بارے میں کیا ردعمل ہو ا کرتا ہے ، عمران خان سب سے پہلے غیر سر کا ری شخصیت تھے جنہو ں نے پا کستان کی عوام کا من پسند بیا ن داغ دیا وہ تو اس مو ڈ میں رہتے ہیں کہ پا پو لر بیان بازی جاری رکھیں تاکہ ان کی مقبولیت کا ستا رہ دمکتا رہے ویسے بھی ان پر کوئی سنجید ہ ذمہ داری ہے نہیں اس لیے ان کے لب آزاد رہتے ہیں ، امریکی صدر کی جھاڑ کوئی دو ملکو ں کے درمیا ن تعلقات کا معاملہ نہیں تھا بلکہ یہ عالمی معاملہ ہے اور اس کے اثرات نہ صرف جنو بی ایشیا پر مر تب ہو ںگے بلکہ ساری دنیا میں محسو س کیے جا ئیں گے اس لیے سر کا ری طو رپر جو بھی مو قف قائم کر نا چاہیے تھا اس پر کا فی سوچ بچار کی ضرورت تھی جو پا کستان نے نبھائی اور اپنا بہت واضح ردعمل حکومت پاکستان نے ظاہر کردیا ، جس پر اب امریکا کو اپنے صدر کے پاکستان کے بارے میں برہنہ خطا ب اور پالیسی پر افسو س ہورہاہوگا اور فوجی آمر مشرف کی یا د ستا رہی ہو گی ، امریکا سے یہ بھول چک ہو گئی کہ پاکستان اب نائن الیون والا پا کستان نہیں ہے اور نہ اس خطے کے حالات اس زمانے جیسے ہیں اس امر کا احساس امریکا کو چین اور روس کے زبان سے ہوچلا ہے ۔ سی پیک کا جو منصوبہ ہے اگر اس کا جا ئزہ لیا جا ئے تو جہا ں اس خطے کے ممالک کو فائدہ ہے اسی طر ح اس منصوبے سے امریکا کو بھی فائدہ ہے اور وہ چین ، روس اور وسطیٰ ایشیا تک بہتر طو رپر رسائی حاصل کر سکتا ہے لیکن اس کی سی پیک سے دشمنی اس لیے ہے کہ اس سے خطے کے ممالک میں اقتصاد ی اور معاشی انقلا ب آجا ئے گا جو بھارت اور امریکا دونو ں کو پسند نہیں ہے ، ما ضی میں پا کستان نے ایک عظیم جوہر ی طا قت ہونے کے باوجو د امریکا کے جا اور بے جا نا ز و نخر ے بر داشت کیے ہیں اس کی ایک ہی وجہ تھی کہ معاشی اور اقتصادی پسماندگی کی وجہ سے پا کستان امریکا کی اقتصادی غلا می کا شکار ہو گیا تھا ، اب اس کے ہا تھ پیر کھلتے نظر آرہے ہیں اور پاکستان میں کسی فوجی آمر کے در آنے کے ا مکا نا ت بھی منفی محسو س کیے جا تے ہیں سی پیک کا منصوبہ نہ صرف پاکستا ن کو اقتصادی ، معاشی ، تعلیمی ، اور دوسرے اہم ترین شعبو ں میں خود کفیل کر دے گا بلکہ وہ مضبوط وتوانا پا ؤں پر کھڑا ہو جائے گا اس کے علا وہ گو ادر کی وجہ سے جہا ں پاکستان سمیت خطے کے ممالک میںترقی اور خوشحالی عود کرجائے گی وہا ں پاکستان کا دفاعی نظام مضبوط اور گرفت میں آجا ئے گا ، اسی بناء پر پنجا ب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے بیان دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امر یکا سے کہہ دیا جا ئے بس شکر یہ اب ہمیں آپ کی امدا د کی ضرورت نہیں ہے ۔ پاکستان کی قومی سلا متی کمیٹی کے فیصلو ں اور وزارت خارجہ کے مو قف کے بعد سے ہنو ز امریکا کی طر ف سے ردعمل آنا باقی ہے تاہم امریکا کا کیا رویہ ہو سکتا ہے اس پر مبصرین کی رائے یہ ہے کہ امریکا پاکستان کے ردعمل کو ٹھنڈے پیٹو ں نہیں پی پا ئے گا اور ٹرمپ کی دھمکی کے انداز کے طورپر قدم بڑھا ئے گا تاہم پاکستان کو بہت ہوشیا ر رہنے کی ضرورت ہے کہ جمعہ کے روز افغانستا ن کے صوبہ قند ھا ر کے ضلع شرابک میںایک اہم واقعہ ہوا جہا ں مبینہ دہشت گردوں کے ایک ٹھکا نے میںسہ پہرچھ بجے ایک زور دار دھما کا ہو اجس کے نتیجے میں دس افر اد ہلا ک ہو گئے ہلاکتو ں کی سرکا ری اطلا عات ہیں کہ افغان پو لیس افسر کے مطابق اس واقعہ میں جو افرا د ہلا ک ہو ئے ان میںدو عرب باشند ے ایک مقامی باشند ہ سات غیر ملکی باشندے ہیں ، جن کو پا کستانی ظاہر کیا گیا ہے یہ بہت بڑی خبر ہے جو سرکا ری ذرائع سے جا ری ہوئی ہے ، امریکا اور افغانستان بار بار پا کستان پر الزام لگا تے ہیں کہ پا کستان دہشت گردو ں کا معاون کا رہے اور پاکستان نے دہشت گردو ں کو اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیںفراہم کررکھی ہے ،افغان سرکا ر کی جانب سے قندھا ر دھماکے نے ثابت کر دیا کہ جو الزام پاکستان پر لگا ئے جاتے ہیں، وہ خود ان پر صادق ہیں ، ہلا ک ہو نے والو ں میں نو افراد غیر ملکی بتائے گئے ہیں ان میں سے دو کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ عرب باشندے تھے اور سات افراد کے بارے میں کہاگیا ہے کہ وہ پاکستانی تھے ، نہ تو پاکستانیوں ، نہ عرب باشندو ں اور نہ ہی افغان باشندے کی شنا خت ظاہر کی گئی اوریہ لوگ وہا ںکیو ں ٹھکانہ بنائے ہو ئے تھے۔اگر پا کستانی باشندے تھے تو صاف ظاہر ہے کہ افغانستان میں پاکستان کے خلا ف دہشت گردوں نے پنا ہ لے رکھی ہے اور وہ پاکستان میںدہشت گردی کی سازشیں کر تے ہیں اب بھی کسی بڑی دہشت گردی کی تیا ری میں مصروف ہو ں گے اور جس افغان باشند ے کی مو جو دگی کا ذکر کیا گیا ہے وہ کون تھا ؟ یہ بھی اپنی جگہ سوال ہے ۔ امریکا افغانستان میں موجو د ہے اس کا ذمہ ہے کہ وہ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکا نو ں کو ختم کر نے میں کر دار ادا کرے ، جہا ں واقعہ رونما ہو ا وہ دہشت گرووںکاٹھکا نہ تھا اور یہ بات کہنے کی نہیں ہے کہ یہ مبینہ دہشت گرد افغانستان میں اپنے ٹھکانے پر بیٹھ کر کہا ں دہشت گردی کرنے کی تیا ری کر رہے تھے ۔