تاریخ کاتلخ سچ

تاریخ کاتلخ سچ

مشرق وسطیٰ میں امریکی مداخلت کے پے درپے دہشت گردی کے واقعات سے حالات گھمبیر رُخ اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ امت مسلمہ تقسیم در تقسیم ہو رہی ہے۔ قطر سعودی عرب تنازعے میں مصر' متحدہ عرب امارات ' بحرین کے بعد ترکی بھی قطر کے حامی کے طور پر کود پڑا ہے۔ مسلم اتحاد نامی ملٹری الائنس بھی بے معنی ہو کر رہ گیا ہے۔ عرب ممالک خانہ جنگی اور عدم استحکام کی وجہ سے اسرائیل کے لیے ترنوالہ بن گئے ہیں۔ ایک ایک کرکے سب عرب ممالک اسرائیل کے سامنے سرنگوں ہو گئے ہیں۔ اسرائیل رہی سہی مسلم قوت کو امریکہ کے اذہان اور تھنک ٹینکس کی مدد سے زیرو کرنے کے درپے ہے۔ ''تقسیم کرو اور حکومت کرو ''کی کلاسیکل پالیسی میں اب "Expire"کا بھی اضافہ ہو چکا ہے۔ اب یہ "Divide Rule and Expire"کے نام سے جانی جاتی ہے۔ آج اس کا ایک اور زاویے سے جائزہ لیتے ہیں۔
جان گولٹون ایک اہم مغربی مورخ اور سماجی سائنسدان ہے۔ سٹرکچرل امپریلزم (Structural Imperialism)اور مستقبلیات یعنی (Futuristics)اس کے اہم موضوعات ہیں۔ جان گالٹون کی تصنیفات اور تحقیقات کئی اہم پہلوؤں اور تاریخی واقعات کی دھند سے پردہ اُٹھانے میںمعاون ثابت ہوئی ہیں۔ اگر ہم سچ اور حقائق کے کھوجی ہیں اور حقائق اور تاریخ کو اس کے بہترین تناظر میںدیکھنے کے متمنی ہیں تو پھر ہمیں شتر مرغ اور کبوتر بننے کی بجائے حقائق کا سامنا کرنا ہوگا۔ حق اور باطل کی تمیز کرنا ہوگی۔ کٹھ پتلی حکمرانوں کے اصل مراکز اور ریموٹ کنٹرول سسٹم کو سمجھنا ہوگا۔ رومی سلطنت کا ایک فرد جس کا نام تاریخ میں سر جون بن منصور لکھا ہے۔ سلطنت روم کی طرف سے دمشق میں بنو امیہ کے دور میں مالیات کے امور کا انچارج تھا۔ مسلمان حکمران آج کی طرح ماضی میں بھی روم کو خراج یا ٹیکس ادا کرتے تھے۔ آج امپیریلزم کے طور طریقے بدل گئے ہیں۔ آج منظم مالیاتی اداروں مثلاً آئی ایم ایف ' ورلڈ بینک ' ایم این سی اے (MNCA)اور مضبوط فوجی اتحادوں مثلاً نیٹو وغیرہ کے ذریعے مشرق وسطیٰ کے کٹھ پتلی حکمرانوں کو اتارا اور بٹھایا جاتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے 24ممالک کی باگ ڈور عوام یا وہاں کے حکمرانوںکے پاس نہیں بلکہ آج ان کو ماسکو ' واشنگٹن ' لندن' روم ' پیرس اور برلن سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ ان حکمرانوں کو طوائفوںکی طرح ،غلاموں اور کنیزوں کی طرح نچایا جاتا ہے۔ ان کے دماغ اور اذہان کہیں اور سے کنٹرول کیے جاتے ہیں۔ لمحہ فکریہ ہے کہ ان حکمرانوں کو کابینہ کے اجلاس بلانے کی اجازت بھی بیرونی آقاؤں سے لینی پڑتی ہے۔
آج بھی ایم آئی فائیو اور ایم آئی سکس کی یہاں پر اثرونفوذ سے انکار ممکن نہیں ہے۔ وہی لارنس آف عربیہ جو کہ معمولی فوجی میجر پاکستان تھا وہی سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے۔ عربوں اور ترکوں کو باہم لڑا کر مرواتا ہے۔ یہی لارنس آف عربیہ ہمارے وزیرستان میں بھی اپنے سرکاری فرائض انجام دے چکا ہے۔ آج سلطنت عثمانیہ ' مغلیہ ' امیہ ' عباسیہ اپنے ماضی کا ایک سایہ بن کر رہ گئی ہیں۔ معاشرے ' ملک اور ریاستیں اس وقت برباد ہو جاتے ہیں جب ان کے حکمران کرپٹ ہو جاتے ہیں اور ان کی نبض اور ریموٹ کنٹرول کسی بیرونی طاقت کے پاس چلا جائے۔ اس چیز کی بازگشت سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے بیان سے بھی سنی جا سکتی ہے جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ ہم الطاف حسین کی برطانیہ سے واپسی کی درخواست نہیں کریں گے۔ اسی سے ہماری بے بسی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بہادر شاہ ظفر کو انگریزوں نے اجازت دے رکھی تھی کہ وہ اپنے شاعرانہ مشاغل جاری رکھیں لیکن طاقت انہوں نے اپنے پاس ہی رکھی۔ آج بھی 58مسلمان ملکوں میں طاقت کہیں اور سے کنٹرول ہوتی ہے۔ لیکن کٹھ پتلی حکمرانوں کو مغربی آقا اپنی مرضی سے نچا رہے ہیں۔ کیا وقت نہیں آیا کہ ہم اپنی تاریخ کو ایک دفعہ دوبارہ پڑھ لیں اور اپنے فروعی اختلافات کو بھلاکر اب اپنے سدھرنے کا انتظام کریں۔ وقت آ گیا ہے کہ 20کروڑ میں سے میرٹ پر 200بندے چن لیے جائیں اور انہیں جامع تحقیقات اور فلٹریشن کے عمل سے گزار کر ملک کی باگ ڈور ان کے حوالے کر دی جائے اور اگلے 5سے 10سالوں کے دوران ایک نیا سماجی بیانیہ اور معاہدہ کرکے ایک تجربہ اور کر لیا جائے۔ ہم ویسے بھی 70سالوں سے عجیب و غریب صدارتی اور پارلیمانی تجربات کرتے چلے آئے ہیں۔ اس اسلامی جمہوریہ کی لیبارٹری میں ایک اور تجربہ کرنے میں کیا امر مانع ہے۔ آئیے اپنے حکمرانوں کے اصل چہروں سے نقاب سرکنے کی سعی کرتے ہیں۔ ان کے خلوص کا ایک اور امتحان لیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں