امریکہ ،پاکستان کے لئے ایک اور بھارت؟

امریکہ ،پاکستان کے لئے ایک اور بھارت؟

ایک زمانہ ہوتا تھا جب پاکستان کی سیاست پر امریکہ کا اثر رسوخ مسلمہ تھا اور امریکی سفیر کی سفارش سے پاکستان میں معمولی ملازمت سے اعلیٰ ترین عہدے حاصل ہوتے تھے ۔اسی زمانے میں جب پاکستان میں غلام اسحاق خان صدر ،بے نظیر بھٹو وزیر اعظم اور جنرل اسلم بیگ فوج کے سربراہ تھے امریکی اثر رسوخ کو ظاہر کرنے والا ایک ایک شعر بہت مشہور ہوا تھا ۔ شعر کچھ یوں تھا
بابا ،بی بی ،بیگ اور بش
وہ ہیں خوش تو ہم بھی خوش
کہاں یہ حالات کہ ایک پاکستانی نژاد امریکی تجزیہ نگار ٹی وی انٹرویو میں انکشاف کر رہے تھے کہ سینیٹر جان مکین نے حالیہ دورہ پاکستان میں فوج کو پیغام دیا تھا کہ میاں نوازشریف کا اقتدار میں رہنا امریکہ کی خطے میں جنگ اور مفادات کے لئے ناگزیر ہے ۔جس کے جواب میں فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے نہایت بے بسی کے ساتھ کہا تھا کہ وہ اس معاملے میں نہیں پڑتے عدالت جو فیصلہ کرے گی اسے قبول کیا جائے گا۔ امریکہ کے لئے پاکستان کی طرف سے یہ ٹکا سا جواب شاید غیر متوقع نہیں تھا کہ اب پاکستان اور امریکہ میں تعلقات کی گرم جوشی اور اثر ورسوخ کے استعمال کا باب بند ہوئے خاصا عرصہ ہو چکا ہے بلکہ اب تو دونوں کے مفادات دو متضاد زاویوں سے سفر کر رہے ہیں۔امریکیوں نے کبھی یہ تصور بھی نہیں کیا ہو گا کہ ایک وقت میں سفیر اور میئر بلدیہ تعینات کروانے والے وزیر اعظم کو بچا نہ پائیں گے۔اس سے ثابت ہورہا ہے کہ امریکہ جنوبی ایشیا کی سیاست میں توازن برقرار رکھنے میں بری طرح ناکام ہو کر پاکستان پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت سے محروم ہورہا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا کے لئے پالیسی تقریر میں پاکستان پر الزام تراشی ،طنز کے تیروں کی بارش اور دھمکیوں کے بعد دونوں ملکوں میں ایک نیا منظر تخلیق ہورہا ہے ۔رہی سہی کسر امریکی وزیر خارجہ کی تقریر نے پوری کردی ۔امریکی صدر نے پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور پیسے لے کر تعاون نہ کرنے کا معاملہ اُٹھایا تھا امریکی وزیر خارجہ نے بات کو پھیلا کر اصل مقام تک پہنچا دیا کہ امریکہ کو پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے تشویش ہے ۔جہاں ایک طر ف امریکہ میں یہ سوچ طاقت پکڑ چکی ہے کہ پاکستان کو ایک ناقابل اصلاح کردار جان کراس سے دامن چھڑا دیا جائے وہیں پاکستان میں اب مین سٹریم سیاسی جماعتیں بھی امریکہ سے دامن چھڑانے کی خواہش کرنے لگی ہیں ۔ماضی میں تو یہ کمیونسٹ اور سوشلسٹ دانشوروں کا نعرہ ٔ مستانہ ہوا کر تا تھا جو محض سوویت یونین کی محبت میں یہ مطالبہ کرتے تھے مگر اب عمران خان بھی بے ساختہ کہہ رہے ہیں کہ کاش شام اور کئی دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان کے شہریوں کے سفر امریکہ پر پابندی لگ جائے اور دوبارہ ڈالروں کی خاطر امریکہ کی کوئی جنگ نہ لڑی جائے۔پاکستان اور امریکہ کے دفاعی تعلقات میں یہ دوری اور خلیج بہت گہرائی تک سرایت کر چکی ہے۔اب پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوستانہ تعلق تو دور کی بات روایتی تعلق بھی دشمنی میں ڈھلتا جا رہا ہے۔دونوں کے ہیرو اور ولن اگر جدا ہوتے تو کچھ عجب نہ تھا بلکہ دونوں کے ہیرو اور ولن میں تضاد آگیا ہے ۔شکیل آفریدی سے سید صلاح الدین،الطاف حسین سے براہمداغ بگٹی تک جو ایک کا ہیرو ہے وہ دوسرے کے لئے ولن بن چکا ہے۔ ستر برس سے پاکستان کا یہ تعلق صرف بھارت کے ساتھ تھا ۔اب امریکہ نے خود کو پاکستان کے لئے ایک بڑے'' بھارت ''اور اپنے زیر نگیں افغانستان کو چھوٹے ''بھارت '' میں تبدیل کر دیا ہے اوراس تبدیلی میں بیچ کا کوئی راستہ کوئی جگہ باقی نہیں رہا۔یہ ماضی کی سرد جنگ سے بھی خطرناک صورت حال ہے ۔ امریکہ نے خطے کی سیاست کی مقامی جہتوں اور تاریخی مخاصمت اور ثقافتی تضادات کو نظر انداز کرکے بھارت کے ہر مخالف کو اپنا مخالف اور بھارت کے ہر دوست کو اپنا دوست بنالیا ہے ۔۔گزشتہ دنوں امریکی رکن کانگریس ڈانا روہرا پچر نے لندن میں الطاف حسین سے ملاقات کی ۔دوگھنٹے کی تنہائی میں ملاقات کے بعد اس میں بلوچ علیحدگی پسند خان آف قلات میرسلیمان دائود بھی شامل ہوئے ۔ملاقات کی جاری ہونے والی ایک تصویرمیں رکن کانگریس پاکستان کے ایک نقشے پرنظریں مرکوز کئے ہوئے اور الطاف حسین کراچی اور بلوچستان پر اُنگلی رکھے ہوئے کچھ بتارہے ہیں۔اس ملاقات کے بعد الطاف حسین نے پاکستان کے جھنڈے جلوانے کی وڈیوسوشل میڈیا پر جاری کی ۔یہ وہی امریکی سینیٹر ہے جو چند ماہ قبل پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دینے کے لئے کانگریس میں قرار داد پیش کرچکا ہے۔ امریکی صدر،وزیر خارجہ اور ترجمان دفتر خارجہ کی یکے بعد دیگرے تقریروں نے پاک امریکہ تعلقات کے مخمصے کو بڑی حد تک واضح اور بے نقاب کر دیا ہے ۔امریکہ جنوبی ایشیا کی سیاست میں پوری طرح کھڑا ہے اور پاکستان کے لئے امریکہ کا مطلب امریکہ ہی نہیں بلکہ بھارت ہے ۔بھارت کو پہنچنے والی کوئی بھی تکلیف امریکہ کو بے چین اور دلگیر کرنے کا باعث بنے گی ۔امریکہ کا اس انداز کا یارانہ دنیا میں صرف اسرائیل کے ساتھ تھا ۔پاکستان امریکہ کے ساتھ تعلقات کو براستہ بھارت بہتر بنا سکتا ہے ۔اس منظر نامے میں پاکستان کو اپنے مقام اور امریکہ سے اپنے تعلق کا ازسرنو تعین کرنا باقی ہے امریکہ نے اپنے حصے کا کام کر دیا اب گیند پاکستان کی کورٹ میں ہے۔

متعلقہ خبریں