مشرقیات

مشرقیات


حضرت ربیع بن خثیم ان جلیل القدر ہستیوں میں سے ہیں ، جنہوں نے رسالت کا مقدس دور تو پایا ، لیکن شرف صحابیت نہ پا سکے ، تاہم وہ اس عہد کی برکات سے مالامال اور علم و عمل ، زہد وتقویٰ کے اعتبار سے ممتاز ترین تابعین میں سے ہیں ۔ زہد و تقویٰ ، خاموشی اور خشیت الہٰی آپ کے ممتاز اوصاف تھے ۔ ایک دفعہ آپ لوہا رکی بھٹی کے پاس سے گزر ے تو بھٹی دیکھ کر جہنم یاد آیا اور آپ بے ہوش ہوگئے ۔
علامہ ابن جوزی متوفی 595ھ نے حضرت ربیع بن خثیم کے زہد کا ایک عجیب و غریب واقعہ ذکر کیا ہے ، لکھتے ہیں : حضرت ربیع پر فالج کا حملہ ہوا ، جس کی وجہ سے آپ تکلیف میں رہنے لگے ۔ ایک دفعہ آپ کو مرغی کا گوشت کھانے کی خواہش ہوئی ، آپ نے 40 دن تک اس خواہش کو دبائے رکھا ، ایک دن اپنی اہلیہ سے فرمایا : 40دن سے مرغی کا گوشت کھانے کو جی چاہ رہا تھا ، لیکن دل کی خواہش کو پورا نہیں کیا ، اہلیہ نے عرض کیا : یہ کون سی ایسی چیز تھی ، جس سے آپ نے اپنے آپ کو روکے رکھا ، جبکہ حق تعالیٰ نے اسے آ پ کے لئے حلال قرار دیاہے ۔ اہلیہ نے بازار سے ایک درہم اور دو دانق کی مرغی منگوا کر ذبح کی اور اسے اچھی طرح سے بھونا ، روغنی روٹیاں پکائیں ، دستر خوان لگایا اور آپ کے سامنے پیش کر دیا ، آپ کھانے کے لیے بڑھے ہی تھے کہ دروازے پر ایک سائل آیا اور اس نے یہ صدا لگائی : '' خیرات دو ، خدا برکت دے گا۔ ''
آپ نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا اور بیوی سے فرما یا کہ یہ کھانا دسترخوان میں رکھ کر سائل کو دے دو۔ اہلیہ نے تعجب کا اظہار کیا تو آپ نے فرما یا جو کہہ رہا ہوں ، وہ کرو ۔ اہلیہ نے عرض کیا کہ میں سائل کو ان سے بہتر اور اس کی پسند یدہ چیز دے دیتی ہوں ، آپ نے فرمایا وہ کیا ؟ عرض کیا کہ اس کی قیمت فرما یا تم نے بہت اچھی بات کہی ، جائو قیمت لے آئو ، وہ قیمت لے آئیں ، آپ نے فرمایا : یہ قیمت بھی دستر خوان میں رکھ لو اورکھانا اور قیمت دونوں سائل کو دے آئو ۔ (بذل المعروف)
ابوزکریا التیمی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ امیر المومنین سلیمان بن عبدالملک مسجد حرام میں تھے ، ان کے پاس ایک پتھر لایا گیا ، جس پر تراش کر کچھ لکھا گیا تھا ، پس انہوں نے اسے پڑھنے والے کو طلب کیا تو حضرت وہب بن منبہ کو لایا گیا ، انہوں نے اس کو پڑھا جس میں لکھا تھا : اے ابن آدم ! اگر تجھے تیری بقیہ عمر کا قریب ہونا معلوم ہو جائے تو تو لمبی آرزوئوں میں کمی کردے اور اپنے عمل میں زیادتی کی جانب راغب ہو جائے اوراپنی حرص وہوس کو مختصر کر دے اور تجھے بڑی شرمندگی لاحق ہوگی اگر تیرے قدم پھسل جائیں اور تجھ سے تیرا باپ اور رشتہ دار جدا ہو جائیں اور بیٹا اور احباب تجھے چھوڑ چلے جائیں ۔ پس پھر تو نہ دنیا میں واپس آسکے گا اور نہ اپنے اعمال میں کوئی زیادتی کر سکے گا ۔ لہٰذا قیامت کے دن کے لیے حسرت و شرمندگی سے پہلے ہی تیاری کر لے ۔
یہ سن کر خلیفہ سلیمان بن عبد الملک پر شدت کا گریہ طاری ہوگیا اور وہ روتے رہے ۔

متعلقہ خبریں