ڈونلڈ ٹرمپ کی شروعات

ڈونلڈ ٹرمپ کی شروعات

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران جو وعدے کیے تھے ان پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کا حکم دینے کے ساتھ ساتھ انہوں نے تارکین وطن کے بارے میں بھی دو فرمان جاری کیے ہیں جن کے ذریعے ایران ' عراق' شام ' صومالیہ ' لیبیا' سوڈان اور یمن کے باشندوں کے لیے امریکہ کے ویزے جاری کرنے پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔ اور کسی بھی ملک سے مسلمان تارکین وطن کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ اس میں البتہ کچھ مذہبی اقلیتوں کو استثنیٰ حاصل ہوگا جن کی وضاحت نہیںکی گئی ہے۔ جن سات مسلمان ملکوں کے باشندوں کے لیے امریکی ویزا کے اجراء پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں دہشت گردی کے خلاف جنگی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ لیکن صدارتی فرمان میں ان ملکوں میں سعودی عرب' مصر اور متحدہ عرب امارات شامل نہیں ہیں۔ حالانکہ سعودی عرب میں بھی گزشتہ چند ماہ کے دوران دہشت گرد حملے ہوئے ہیں۔ وہاں بھی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور سعودی عرب نے دہشت گردی سے عہدہ برآ ہونے کے لیے 39ملکوں کا ایک فوجی اتحاد بھی قائم کیا ہے۔ تاہم جن سات ممالک کے باشندوں کے لیے ویزے جاری کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے ان کے سوا تمام ممالک سے امریکہ آنے والے مسلمان تارکین وطن پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ ان میں دنیا کے تمام ملکوں کے ساتھ ساتھ سعودی عرب' مصر اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہوں گے۔ جن سات ملکوں کے باشندوں کے لیے ویزے جاری کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں افغانستان شامل نہیں اور نہ ہی پاکستان شامل ہے جو کئی عشروںسے دہشت گردی کا ہدف ہے۔پاکستان نے اگرچہ دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشن ضرب عضب میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ تاہم اکا دکا دہشت گرد حملے ہوتے رہتے ہیں ۔ افغانستان میں حال ہی میں دہشت گرد حملے ہوئے ہیں اور یہ کہا جا رہا ہے کہ سردی کا موسم ختم ہونے کے بعد اگر اس دوران افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان کوئی مصالحت نہ ہو سکی تو طالبان کی طرف سے دوبارہ مزید کارروائیاں ہو سکتی ہیں۔ بلکہ طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ نے تو چند روز پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کے نام کھلے خط میں کہا ہے کہ اگر انہوں نے افغانستان سے امریکی فوجیں نہ نکالیں تو امریکہ کو شکست کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ اگرچہ صدر ٹرمپ کے اس اقدام میں سات ملکوں پر ویزے کی پابندی کے ساتھ ساتھ سعودی عرب' مصر ' متحدہ عرب امارات اور افغانستان کو شامل نہ کرنے کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ کی ''امریکہ امریکیوں کیلئے'' پالیسی کا یہ آغاز ہے اس کے بعدغیر ملکیوں کی آمد کو روکنے کیلئے مزید اقدامات کی توقع کی جانی چاہیے۔
وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ چند ہفتے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ گفتگو کے میڈیا میں شائع ہونے کے بعد بھارت میں اس پرشدید ردعمل ہوا۔ لیکن بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ان سے ٹیلی فون پرگفتگو کی جس میں نریندر مودی کے ٹویٹر پیغام کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ بھارت کو سچا دوست اور دنیا میں پھیلے ہوئے چیلنجز میں اپنا رفیق سمجھتا ہے۔ تاہم امریکہ اور بھارت دونوں کی قوم پرستانہ پالیسیاں امکان ہے کہ دونوں ملکوں کے اشتراک عمل کی راہ میں رکاوٹ ہوں گی۔ خاص طور پر بھارت کو امریکہ کی تارکین وطن کو قبول نہ کرنے کی پالیسی سے اختلاف ہو گا چونکہ بھارتیوں کی ایک بڑی تعداد اگرچہ امریکہ میں برسر روزگار ہے اس کے باوجود ہزاروں بھارتی نوجوان امریکہ جانے کے خواہش مند رہتے ہیں۔ دوسرے بھارت اپنی مصنوعات دنیا بھر میں پھیلانے کی پالیسی پر گامزن ہے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکیوں کے لیے نعرہ ہے ''امریکی مصنوعات خریدو اور امریکیوں کو ملازمتیں دو''۔ باہمی تجارت کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی ایک دوسرے کے برعکس نقطۂ نظر کے حامل ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ویزے کی پابندیاں عائد کرنے کے لیے ان سات اسلامی ملکوں کا انتخاب کس بنا پر کیاہے اور باقی اسلامی ملکوں کے ساتھ یہ سلوک نہ کرنے کی وجوہ کیا ہیں۔ تاہم جیسا کہ سطور بالا میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام ان کے انتخابی وعدے پورے کرنے کی شروعات ہیں۔ اس ابتداء کے بعد مزید کیا اقدامات کیے جائیں گے اور یہ سلسلہ کہاں تک جائے گا یہ مستقبل ہی بتائے گا تاہم مسلمان تارکین وطن پرپابندی ٹرمپ کے مسلمانوںکے بارے میں رویے کی نشان دہی کرتی ہے۔ نریندر مودی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے جو کہا ہے کہ وہ بھارت کوامریکہ کاسچا دوست اور عالمی چیلنجز کے ساتھ نمٹنے میں رفیق سمجھتے ہیں اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ''بین الاقوامی اسلامی انتہاپسندانہ دہشت گردی'' کے خلاف اتحاد قائم کرنے کے جس ارادے کا وہ اعلان کر چکے ہیں اس میں اتحادیوں کا انتخاب ان کے زیر غور ہے۔ ممکن ہے اس میں بھارت کو بھی شامل کیا جائے جو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی سرپرستی کے الزام کی مہم چلاتا رہا ہے اور اس پر کاربند ہے۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کئی عشروں سے دہشت گردی کا شکار رہاہے اور اب بھی اس خطرے کے دوبارہ عود کرنے سے روکنے کے لیے پیش بندی کی طرف مائل ہے۔ اسی لیے پاکستان افغان سرحد کے انتظام کے لیے کام کر رہا ہے اور اس کے لیے افغانستان کو تعاون پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھی میکسیکو کے ساتھ ملنے والی سرحد پر دیوار کھینچنے کا فرمان جاری کیا ہے۔ اس بنیاد پر انہیں قائل کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ افغانستان کو پاکستان کے ساتھ سرحدی انتظام میں تعاون کرنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کریں۔

متعلقہ خبریں