ٹرانسپر نسی انٹر نیشنل کی رپورٹ

ٹرانسپر نسی انٹر نیشنل کی رپورٹ

ٹر انسپر نسی انٹر نیشنل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپشن میں کمی آنا اپنی جگہ خوش آئنداور حوصلہ افزا ضرور ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابھی پاکستان کرپشن اور بد عنوانی کا خاتمہ تو در کنا ر اس میں خاطر خواہ کمی لانے میں بہت پیچھے ہے ۔ ہمارے تئیں کرپشن میںکمی کوئی معنی نہیں رکھتے البتہ اگر کرپشن میں نمایا ں کمی آجاتی پچاس فیصد کمی ہی آجاتی تو اس امر کی توقع کی جاسکتی تھی کہ پاکستان میں بد عنوانی کی شرح ایک ایسی جگہ آگئی ہے جس کے بعدبہتری اور حوصلہ افزاشرح کے دور میں داخل ہوا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود ٹرانسپر نسی انٹر نیشنل کی تازہ رپورٹ حوصلہ افزاء ہے کہ کم از کم اس رپورٹ کی روشنی میں قوم کو یہ مژدہ تو ملا کہ ہمارے ہاں بد عنوانی میں نمایا ں کمی نہ لا سکنا اپنی جگہ لیکن اس میں قدرے کمی ضرور آئی ہے ۔ ٹرانسپر نسی انٹر نیشنل کی رپورٹ حتمی اور اس طرح قابل اعتماد نہیں اور نہ ہی اس کے استعمال شدہ ذرائع اور طریقہ کا ر کو مستند گردانا جاتا ہے تاہم اس سے اس بات کابہر حال عندیہ ضرور ملتا ہے کہ وطن عزیز میں بد عنوانی اور مالیاتی بے ضابطگیوں کارخ کس جانب اور کس سمت ہے ۔ وطن عزیز میں دو قسم کی کرپشن عام ہے ایک طریقہ تو بھونڈا اور سرکاری وسائل کی واضح لوٹ مار ہے اس طرح کے معاملات جس دور حکومت میں ہوتے ہیں وہ زبان زد خاص و عام ہیں اور پاکستان کے عوام کو بخوبی علم ہے کہ کن کن جماعتوں کی حکومتوں میںبد عنوانی کی شرح رہی ہے۔ اگر ایسا نہ بھی ہو تو بد اچھا بدنام برا کے زمرے میں بہر حال ان جماعتوں کا شمار ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں بھی اس طرح کا تاثر پایا جاتا ہے کوئی عوامی رائے بلاوجہ نہیں بنتی اسے نقارہ خدا کہا گیا ہے اس لئے جس دور میں عوام میں منفی تاثرات زیادہ پائے جائیں تو اس دور کوبد عنوانی میں اضافے پر محمول کیا جائے گا ۔جہاں تک قسم دوم کی بد عنوانی کاتعلق ہے اس قسم کی بد عنوانی عموماًبراہ راست نہیں ہوتی ۔عوام براہ راست متاثر نہ ہوں تو ان کے تاثرات بھی من حیث المجموع منفی نہیں ہوتے اور معاملات زبان خلق نہیں بنتے اور جھوٹی عزت قائم رہتی ہے والا معاملہ ہوتا ہے ۔مگر اس دور کو بد عنوانی سے پاک گرداننا بالکل ہی خلاف حقیقت ہوگا اس لئے کہ اس طرح کی بد عنوانی میں ملکی وسائل پر براہ راست ہاتھ صاف کرنے کا طریقہ اختیار کرنے کی بجائے سرکاری اختیارات کو بروئے کار لا کر موافقت کے ذریعے زیادہ سے زیادہ کاروباری مفادات اور منافع کو دو چند چہا چند بلکہ ناقابل یقین حد تک بڑھادیا جاتا ہے اور یہ ھینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آئے والی صورتحال ہوتی ہے ۔ ٹرانسپر نسی انٹر نیشنل کی رپورٹ میں مئو خرالذکر قسم کی بد عنوانی کس درجے اور کس تعریف کے زمرے میں آتی ہے اس کو سمجھنا مشکل ہے اور شاید اس حوالے سے اس کی رپورٹ کی جامعیت اور ترتیب میں کہیں نہ کہیں کو تاہی یا پھر کمی یا معاملات سے آگہی کا فقدان اور دستا ویزی ثبوت و شواہد کا ملنا دشوار امر ہے اس لئے ا ن کی حالیہ رپورٹ میں بہتری کا عندیہ ملتا ہے۔ بہر حال اس کی رپورٹ اور رائے عامہ میں مطابقت کے باعث قبول عام کی سند کی حامل ہے جس سے اختلاف کرکے اسے غلط ثابت کرنا دشوار ہے ۔ لیکن من حیث المجموع یہ تاثر بالکل بھی نہیں بدلا کہ وطن عزیز میں بد عنوانی پر قابو پایا جا سکا ہے اور قابو پانے کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات ہور ہے ہیں۔ حکومتی سطح پر اقدامات اور حکومتی احتساب کے اداروں پر عوام کا اعتماد نہیں البتہ عدلیہ ، میڈیا سول سوسائٹی اور سیاسی طور پر کچھ مساعی کو بد عنوانی میں کمی لانے کے اسباب کے طور پر ضرور دیکھا جا سکتا ہے۔ سو شل میڈیا ایک مئو ثر ذریعہ اظہار ہے لیکن مستند نہیں مگر اس کے باوجود کم از کم اس کے ذریعے بعض اوقات اختیارات کے غلط استعمال اور اپنی حیثیت سے تجاوز کسی حد تک کرپشن جیسے ایسے معاملات سامنے آتے ہیں جو معروض حقائق سے متصادم نہیں ہوتے کم از کم ایک ایسی اطلاع بہر حال لوگوں کو ضرور مل جاتی ہے جس میں دلچسپی رکھنے والوں کو کھوج لگانے کا موقع ملتا ہے ۔تحقیقاتی اداروں اور میڈیا کو ٹپ ضرور ملتی ہے اس کے بعد اگر متعلقہ عناصر احتراز بر ت لیں تو یہ الگ بات ہے ۔ اس وقت پانامہ پیپرز کا معاملہ جس شدت سے قوم کے اعصاب پر سوار ہے قطع نظر اس کے حقائق کیاہیں اور عدالتی فیصلہ کیا سامنے آتا ہے کم از کم اس سے یہ احساس تو ابھر رہا ہے کہ اب معاملا ت کااخفاء آسان نہیں اب ہنڈیا بیچ چورا ہے پھوٹے گی تو فی الوقت اگر اس کاخسران خجالت و شرمندگی اور بد نامی ہی ممکن سہی مگر آگے چل کر اس قسم کے معاملات کا دفاع ممکن نہیں رہے گا اور بعید نہیں کہ اس کے باوجود بھی اگر اس طرح کے معاملات سے احتیاط نہ برتی جائے توکچا چٹھا سامنے آئے اور ثابت بھی ہونے کی نوبت آجائے، اگرچہ پانامہ پیپرز میں صرف حکمران خاندان ہی کو دھچکا لگا ہے باقی ڈیڑھ سو کے قریب افراد اور خاندان پس منظر میں چلے گئے ہیں مگر ان کے نام بہر حال لسٹ میں ہیں جن کو دلچسپی رکھنے والے نہ صرف دیکھ سکتے ہیں بلکہ آئندہ انتخابات میں ان ناموں کو عوامی سطح پر اچھا لا بھی جا سکتا ہے ۔بہر حال جس طرح بھی ہو وطن عزیز میں بد عنوان عناصر کی نشاندہی ہونی چاہیے ان کے ناموں کو سامنے آنا چاہیے بھلے ان کے خلاف عدالتی کارروائی نہ ہو ان کے خلاف ثبوت نہ ملیں لیکن یہ بھی کم معاملہ نہیں کہ کسی سیاسی جماعت اور خاندان یا دور حکومت کے خلاف انگلیاں اٹھیں اور عوام ان کو بد عنوانوں میں شمار یا خیال کریں ۔

متعلقہ خبریں