صوبائی حکومت ہسپتالوں کے قیام میں رکاوٹ کا باعث نہ بنے

صوبائی حکومت ہسپتالوں کے قیام میں رکاوٹ کا باعث نہ بنے

اگر چہ صوبائی حکومت کی طرف سے وفاق کی جانب سے چترال اور کوہاٹ میں دو سو پچا س بستروں پر مشتمل ہسپتال بنانے کیلئے اراضی کی قیمت ادا کرنے یا پھر منصوبے میں صوبائی حکومت کا نام بھی شامل کرنے کا مطالبہ اصولی طور پر غلط نہیں لیکن صرف اس معمولی نو عیت کے اختلاف کا اثر ہسپتالوں کے قیام کے نافع منصوبے پر نہیں پڑنا چاہیئے ۔ کوہاٹ اور چترال میں جن دو مقامات پر سرکاری اراضی کی نشاندہی کی گئی ہے یقینا ان کی موزونیت کا جائزہ لیا گیا ہوگا چترال میں قا قلشٹ کے جس مقام کی نشاندہی کی گئی ہے وہ بالائی چترال کا مرکزی مقام اور ہسپتال کے قیام کیلئے نہایت موزوں جگہ ہے ۔کوہاٹ میں نشاندہی کردہ اراضی کی موزو نیت کو بھی عوامی مفاد کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے ۔صوبائی حکومت و وفاقی حکومت کوہسپتال کی اراضی بلا قیمت فراہمی وسیع تر عوامی مفاد میں کرنے کی اخلاقی طور پر پابند ہے صوبائی حکومت رفاہی اداروں کو قیمتی اراضی برائے تعمیر ہسپتال عطیہ کرتی رہی ہے ۔ حیات آباد فیز پانچ کی نہایت قیمتی اراضی شوکت خانم ہسپتال کو عطیہ کرنا اس کی بڑی مثال ہے تعلیمی ادارے اور ہسپتال عوام کی ضرورت ہوتے ہیں ان کیلئے زمین کی فراہمی ہی کافی نہیں بلکہ صوبائی حکومت کو کسی بھی مصلحت اور مفاد سے بالا تر ہو کر اراضی بلا قیمت ہی فراہم کرنی چاہیئے اور اگر صوبائی حکومت ایسا نہ کرے تو وفاقی حکومت رقم کی ادائیگی کرکے ان مقامات پر ہسپتالوں کی تعمیر ممکن بنائے۔ صوبائی حکومت کو نام کی شمولیت کی بجائے عوام کے مفاد اور صحت کے مسائل میںکمی آنے اور عوام کو بہتر سہولت میسر آنے جیسے ارفع مقصد کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرلینا چاہیے ۔
الطاف حسین کیخلاف مقدمات میں وہاں بھی مصلحت یہاں بھی
سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کی جانب سے ایم کیو ایم لندن کے قائد الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ کے سنگین الزامات کی تحقیقات کے دوران لاکھوں ڈالر تحویل میں لینے کے باوجود اچانک منی لانڈرنگ کیس کو ختم کرنا حیران کن ہے ۔برطانوی پولیس کے الطاف حسین کے کاروبار اور ذرائع آمد ن کا کھوج لگانے اور اس حوالے سے تحقیقات کر نے کی بجائے ان کے خلاف دائر کیس ہی کو داخل دفتر کیا گیا اس حوالے سے پاکستان کو بھی اعتماد میں نہ لیا گیا حالانکہ پاکستانی اداروں نے سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس سے الطاف حسین کے خلاف تحقیقات میں ہر ممکن تعاون کیا تھا ۔ معلوم نہیں اس کے بعد ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کا کیا ہوگا۔ لگتا یہی ہے کہ اس کا باب بھی بالا خر بے نتیجہ ہی بند کر دیا جا ئے گا۔ برطانوی پولیس کے اقدام سے قطع نظر دیکھا جائے تو پاکستان میں بھی الطاف حسین پر بغاوت قتل اقدام قتل اور دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے ،اعانت کرنے یا ان واقعات کی تحریک دینے کے سنگین الزامات کے تحت مقدمات درج ہیں۔مگر ان مقدمات کی سماعت اور تفتیش و تحقیق میں زیادہ دلچسپی نہیں لی جاتی حالانکہ حکومت اگر چاہے تو الطاف حسین کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری کرا کے ان کو انٹر پو ل کے ذریعے وطن واپس لا کر ان کیخلاف مقدمات چلا سکتی تھی ۔الطاف حسین کے برطانوی شہریت کے حصول کے بعد گویہ معاملہ پیچیدہ ضرور ہو چکا ہے تاہم حکومت پاکستان حکومت برطانیہ سے ان کے شہری کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردانہ سر گرمیوں کے فروغ وطن عزیز کی سا لمیت کے خلاف تقاریر اور نفرت انگیز ی میں ملوث ہونے پر مقدمات قائم کرانے یا پھر برطانیہ میں پا کستانی ہائی کمیشن کے ذریعے از خود ان کے خلاف برطانیہ میں قانونی کارروائی کی سعی کرسکتی ہے خود ہماری حکومتیں بھی اس ضمن میں مصلحت کا شکار رہی ہیں تو بر طانوی پولیس سے ہم یہ کیسے تو قع رکھ سکتے ہیں کہ وہ الطاف حسین کو بے نقاب کر کے اسے سز ا دلوائے ۔
بدنامی کا باعث بننے والو ں کو معاف نہ کیا جائے
خیبر پختونخوا کے پولیس افسران کی بنکاک میںحصول تربیت پر توجہ دینے کی بجائے ہوٹل میں خواتین سے بد تمیزی کے ارتکاب کے بعد وطن واپسی صرف خیبر پختونخوا پولیس کیلئے باعث خجالت واقعہ نہیں بلکہ پورے صوبے کے عوام اور حکومت دونوں کیلئے باعث ندامت ہے۔ کس مصلحت کے تحت ان کے نام نہیں لئے جاتے یہ معلوم نہیں اگر میڈیا کوشش کرے تو ان کے ناموں کا کھوج لگانا کوئی مشکل کا م نہیں۔ اس طرح کے افرادکو بے نقاب کیا جانا چاہیے تاکہ آئندہ کوئی اس طرح کی حرکت کا خیال بھی دل میں نہ لائے ۔

متعلقہ خبریں