انٹرنیشنل ٹرانسپرنسی کی تاثراتی رپورٹ

انٹرنیشنل ٹرانسپرنسی کی تاثراتی رپورٹ

انٹر نیشنل ٹرانسپر نسی کے نام سے کوئی ادارہ ہے ۔ جو وقتاً فوقتاً بین الاقوامی سطح پر دنیا کے ممالک میں کرپشن کی رفتار کا جائزہ پیش کرتا ہے۔ کل اس ادارے نے جو رپورٹ جاری کی ہے اس کے مطابق جنوبی ایشیا ء کے ممالک میں پاکستان کے اندر تیزی سے کرپشن کم ہونے لگی ہے۔ ہم نے رپورٹ کی تفصیلات پڑھتے ہوئے دو تین بار سر کو جھٹکا دیا ۔اپنی چٹکیاں بھی لیں کہ یہ سب کچھ ہمارا عالم خواب نہ ہو ۔ کیوں ؟ اُس کا بھی ذکر کرینگے پہلے بتا تے چلیں کہ متعلقہ ادارے کی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2015ء کی نسبت 2016میں پاکستان میںکرپشن کے حوالے سے 9پوائنٹس کی کمی ہوئی ہے ۔ ہمیں یہ جان کر بھی خوشی ہوئی کہ ایشیاء میں پاکستان کرپشن میں کمی کے حوالے سے چین کے بعد دوسرے نمبر رہا ۔ پاکستان کی بات تو خیر جانے دیجئے کہ یہاں کرپشن پر پلی بارگین کے نام سے کرپٹ لوگوں سے سودا بازی بھی کی جاتی ہے لیکن رپورٹ کے مطابق یہ جو ایران 7درجے جبکہ چین 12درجے بہتری کے ساتھ کرپشن میں کمی اور شفا فیت میں اضافے کی طرف گامزن ہے اس پر ہمیں حیرت ہوئی ۔ وہ اس لئے کہ شنید ہے کہ متذکرہ دونوں ممالک میں کرپشن پر کڑی سزائیں دی جاتی ہیں۔ اس ضمن میں دو مثالیں دونگا ،بہت عرصہ پہلے کی بات ہے ایک خبر لگی تھی کہ چائنا کے تعاون سے مکمل ہونے والے ایک منصوبے کی تکمیل پر تقریب کا اہتمام کیا گیا ۔ کچھ دنوں سے بارش کاسلسلہ جاری تھا ۔ دوران تقریب وہ عمارت جہاں پر تقریب ہورہی تھی اُسکی چھت ٹپکنے لگی ۔ ایک چینی مہمان بار بار چھت کی جانب دیکھنے لگا۔ قریب بیٹھے ایک پاکستانی افسر نے اُ س سے پو چھا بارشوں میں آپ کے ہاںبھی ایسی سیچوئشن پیش آتی ہوگی۔ چینی مہمان نے مسکراتے ہوئے کہاجی ہاں ! ایک بار ایسا ہوا تھا پھر ؟تو پھر یہ کہ عمارت بنانے والے انجینئر اور ٹھیکہ دار کو دوسرے روز اُسی چھت سے لٹکا دیا گیا اُ س کے بعد چائنا کی عمارتوں نے بارشو ں میں ٹپکنے سے انکار کر دیا ہے ۔ یہی حال ہمارے برادر ملک ایران کا بھی ہے ، وہاں پر بھی بد عنوان لوگوں کو فوری اور کڑی سزائیں دینے کا رواج ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ ناقص میٹریل استعمال کرنے پر کارندے اُسی سڑک پر لٹا دیئے گئے ، اور اُن کے اوپر بجری ڈال کر رولر پھر ا دیا گیا ۔ اس کے بعد وہاں کسی کو بھی سڑکیں بناتے وقت اُ ن میںناقص میڑیل ڈالنے کی جرات نہ ہوئی۔ اُن باتوں میں کہاں تک صداقت ہے یہ ہم نہیں کہہ سکتے البتہ یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ متذکرہ دونوں ممالک میں کرپشن برداشت نہیں کی جاتی ۔ چنانچہ ٹرانسپر نسی انٹر نیشنل کی رپورٹ میں چائنا اور ایران کے ذکر پر ہماری حیرت بجا تھی ۔ پاکستان کہا گیا ہے کرپشن میں کمی کے حوالے سے 9درجے بہتری کے ساتھ 116ویں نمبر پر آگیا ہے اس کے مقابلے میں مودی کا شائننگ انڈیا صرف 5درجے بہتری لا سکا ۔ شفا فیت کے لحاظ سے پاکستان کو پہلے کی نسبت 32پوائنٹس زیادہ دیئے گئے ہیں۔ 2007 میں پاکستان 24پوائنٹس حاصل کر سکا تھا ۔ 2012میں 174ممالک میں اُس کا نمبر 139واں رہا اور اُسے 100میں سے 27پوائنٹس دیئے گئے تھے ۔جبکہ گزشتہ سال یعنی 2016ء میں نچلے ترین درجے سے 61ویں نمبر پر رہا۔ ہمیں اس با ت کا قطعاً کوئی علم نہیں کہ پاکستان کو گزشتہ سالوں کی نسبت شفافیت کا یہ پروانہ جاری کرنے کے لئے ٹرانسپر نسی والوں کا طریقہ کار کیا رہا ۔ اس دوران اُ ن کے کسی کارندے کو وطن عزیز کے کسی تھانے میںاپنی بھینس کی چوری کی ایف آئی آر درج کرانے کا اتفاق ہوا وہاں پر اُن سے کوئی بد سلوکی تو نہیں کی گئی اور اُنہیں تھانے میں رپورٹ درج کرانے پر شفافیت کا عملی تجربہ ہوا ۔ اس طرح محکمہ مال کے کسی دفتر میں اُن کو اپنی جائیداد فروخت یا خرید نے کیلئے کسی دشواری کا سامنا تو نہیں کرنا ُپڑا ؟ اُن کے اس کام پر شفافیت کے پورے تقاضے پورے کئے گئے ؟ ٹرانسپر نسی کے کسی کارندے کو تعمیر ات کا کوئی ٹھیکہ لینے کیلئے متعلقہ محکمہ نے پریشان تو نہیں کیا ۔ تعمیر ات میں ناقص میڑیل استعمال کرنے پر اُن کی سرزنش ہوئی ؟اور پھر سرکاری محکموں میں ملازمت حاصل کرنے کیلئے کیا ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے شفافیت کو بد عنوانی کا درجہ دیا ہے یا صرف اونچی سطح پر کمیشن اورکک بیکس ہی کرپشن کی ذیل میں آتے ہیں۔ بالیقین وہاں پر کمی کا رجحان سامنے آیا ہوگالیکن نچلی سطح پر اُسکی بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آتے یہ رپورٹ اس لئے بھی مشکوک ہوجاتی ہے کہ یہ جرمنی سے جاری ہوئی ہے اور یہ وہی ملک ہے جس کے اخباروں میں گزشتہ ہفتے پانامہ لیکس سے متعلق کچھ دستاویزات شائع ہوئی ہیں عجیب اتفاق یہ ہے کہ گزشتہ روز کے اخبارات میںجہاں ٹرانسپر نسی انٹر نیشنل کی رپورٹ میں پاکستان کے اندر کرپشن میں تیزی سے کمی کی نوید سنائی گئی ہے وہاں اُسکے پہلومیں یہ خبر بھی لگی ہے کہ پنجاب میں بڑے پیمانے پر 18تحصیلداروں کی مبینہ ملی بھگت سے 2084کیسز میں جائیدادوں کی متعلقہ فیس کی مد میں سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا ئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ بتایاجا تا ہے کہ ٹرانسپر نسی انٹر نیشنل کی یہ رپورٹ PERCEPTIONیعنی تاثر کی بنیاد پر تیا ر کی گئی ۔ اُن کے عملے کے کسی رکن نے فیلڈمیں جانے کی زحمت نہیں کی۔ پھر آپ ہی بتا یئے اس رپورٹ کو پڑھتے ہوئے ہم اپنے جسم کی چٹکیاں لینے میں حق بجانب ہیں یا نہیں کہ کہیں یہ خواب وخیال کی بات نہ ہو۔

متعلقہ خبریں