عربدہ جو حکمر ان

عربدہ جو حکمر ان

سوویت یو نین کے لاشے کے بعد مغر ب نے نظریا ت کی ایک نئی پخ نکا لی ہے اور وہ سب سے پہلے ریا ستی یعنی ریا ستی تکبر کا نظریہ دیا ہے۔ ویسے یہ بات سب سے پہلے سابق فوجی حکمر ان پر ویز مشرف کے ذریعے عام کی گئی جنہو ں نے سب سے پہلے پاکستان کا تصور پیش کیا تھا ، جس کا مقصد پاکستان کی نظریا تی سرحد و ں کی نفی کر نا تھا اور ریا ستی قوم پر ستی کو ابھا رنا تھا۔ امریکا کے مو جو دہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسی تصور کو نظریے کے طور پر پیش کیا ہے ۔وہ اپنی انتخابی مہم میں بھی اسی امر کا راگ الا پتے رہے ، جب سے انہو ں نے اقتدار کی مسند سنبھالی ہے ان کے جو فیصلے اور اقدامات سامنے آئے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ مستقبل کے مہم جو حکمر ان کا روپ ہو ں گے کیو ں کہ انہو ں نے سب سے پہلے امریکا کا جو تصور دیا ہے اس کے لیے عملی اقدام یہ کیا ہے کہ آئند ہ امریکی مصنو عات بیر ون ممالک تیا ر نہیں کی جائیں گی ، سب ہی کچھ امر یکا میں ہو گا۔ اس طرح اس گلوبل ویلج میںصنعتیں رہ جا ئیں گی ، تاہم امریکی صدر جو ایک اچھے تاجر تو شما ر ہوتے ہیں اور وہ اس امر سے بخوبی واقف بھی ہو ںگے کوئی ایک ملک کسی بھی صنعت کی تما م ایشیا نہ تو تیا ر کر تا ہے اور نہ ہی یہ ممکن ہے بہر حا ل اگر امریکا نے تما م صنعتی پیداوار امریکا منتقل کر دی تو شاید ان کی نظر میں اس سے امر یکا میں کچھ بے روزگاری کے خاتمے میں مد د مل جا ئے جو کا غذ ی طورپر تو ممکن ہے عملا ً نہیں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ شاید اس امر سے باخبر نہیں ہیں دنیا جس ٹیکنالوجی کی طر ف بڑھ رہی ہے اس کی وجہ سے آئندہ سات سال کے عرصے میںبے روزگاری کا عالمی سونامی در آنے کو ہے۔ ماہرین کے اند ازو ںکے مطابق تقریباًدوسے پانچ کروڑ افر اد کے بے روز گا ر ہو نے کا خد شہ ہے۔ دنیا میں تین اہم ترین تبدیلیا ں آرہی ہیں جس کی وجہ سے حالا ت ایک نیا رخ اختیا ر کر یں گے۔ وہ ہے بغیر ڈرائیوروں کی گا ڑیاں ، جرمنی نے بغیر ڈرائیور کے چا ر سو ٹریلر ز حاصل کیے تھے ۔یہ تجر بے کے طورپر نہیںبلکہ وہ ایک دم زیا دہ ٹریلرز استعمال نہیںکرنا چاہتے تھے بلکہ یہ اند ازہ مقصود تھا کہ ان کی کا رکر دگی کس حد تک مفید رہے گی چنا نچہ اس کا تجر بہ کا میا ب رہا ہے۔ اب دنیا کا رجحا ن ایسی مال بردار گاڑیو ں کی جا نب بڑھ رہا ہے۔ چنا نچہ اس سے اند ازہ لگایا لیا جا ئے کہ بنا ڈرائیور وں کی گاڑیو ں سے افرادی قوت کو کس قدر نقصان پہنچے گا ، صرف ٹریلر ز کی وجہ سے چار سو ڈرائیور بے روزگا ر نہیں ہو ئے اس سے متعلق دیگر افرا دی قوت بھی متا ثرہو رہی ہے۔ اس سے اند ازہ لگائیں کہ وہیکل نہیںرکا کر تا ہے وہ کا م کرتا ہے یا یو ں کہہ لیں کہ چلتا رہتا ہے ڈرائیور اور اس سے وابستہ عملہ تبدیل ہوتا رہتا ہے اس طرح کتنے زیا دہ افراد بے روزگار ہو ں گے۔ اسی طر ح واشنگٹن میں ایک کارخانہ لگا یا گیا ہے جہا ں ایک ایسی بس تیا ر کی جا رہی ہے جس کے تقریباً ساٹھ حصے ہیں ایک ہی مشین کے ذریعے دس گھنٹے میںحصے تیا ر کرلیے جا تے ہیں اور ایک گھنٹے میں ان کے حصو ں کو جو ڑ دیا جا تا ہے۔ گو یا چوبیس گھنٹو ںمیں دو بسیں تیا ر کی جا تی ہیں اور صر ف چار مزدوروں کی ضرورت پڑتی ہے اس سے اندازہ لگا یا جا ئے کہ جہاں درجنو ں مزدور اس کا م پر لگے ہوئے ہیں اس ٹیکنا لو جی سے کتنے افراد بے روز گارہوجائیں گے ۔ دنیامیں کو ڈک کیمرہ فلم بنا نے والی کمپنی کا بڑا نا م تھا اس کا ڈیڑ ھ لا کھ افر اد کا عملہ ہو ا کرتا تھا ، اب تقریبا ً سات ہز ار رہ گیا ہے سن دوہزار بیس تک ایک ہزار رہ جائے گا کیو ں کہ یہ کمپنی خود کو جدید ٹیکنا لو جی سے ہم آہنگ نہ کر پائی۔ قانو ن کا شعبہ بھی متاثرہو ا ہے امریکا میں نئے وکلا کو جا ب نہیں مل رہی ہے کیو ں کہ جو نیئر وکیل پہلے پانچ سال تک سینئر وکیل کی معاونت کر تا ہے اب سینئر وکیل کو جو نیئر کی معاونت کی ضرورت نہیں رہی کیو ں کی اس کو مطلو بہ مد د کمپیو ٹر سے مل جا تی ہے۔ پو را کیس تیا ر مل جا تا ہے۔ اسناد بھی اس میں شامل ہیں۔ چنانچہ وکلا ء میں بے روزگا ری کی شرح بڑھتی جا رہی ہے ۔جس طر ح کو ڈک کمپنی نے خود کو جدید حالات کے ساتھ نہیںجو ڑا اگر اسی طرح دیگر کمپنیو ں نے بھی غفلت کا مظاہر ہ کیا تو ان کا حشر بھی ایسا ہی ہوگا ۔ جہاںآئند ہ چند سالو ں میں بے روزگاری کا عفریت سب کچھ نگلنے کو ہے وہا ں امریکا کے صدر مزید مصائب پھیلا نے کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں اور جو ٹیکنا لوجی لائف اسٹائل بدل رہی ہے اس سے سب سے پہلے مغرب ہی متا ثر ہوگا ۔

گو ڈونلڈ کے صنعتی اقدام سے پسما ندہ یا تر قی پذیر ممالک میںبحران تو آئے گا مگر مستقبل میںخود امریکا بر اہ راست متاثر ہو جائے گا ۔اگر چہ ٹرانس پیسفک پارٹنر شپ سے علیحدگی کے اعلان کو وہ امریکی ورکرز کے حق میں قر ار دیتے ہیںمگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ تما م ممالک معاشی اور اقتصادی طورپر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ چنا نچہ امریکی صدر کا اقدام عالمی تجا رت میںایک عظیم بحران کاسبب قرار پائے گا، اور جن ملکو ں کو نظر اندا ز کیا جا ئے گا وہاںامریکا کے بارے میںمزید نفر ت پھیلے گی۔ اب امریکا نے چھ اسلا می ملکوں کے باشند وں پر ویزہ کی پابندی عائد کر دی ہے اور میکسیکو کی سرحد پر دیو ار چننے کی ہدایت بھی دے دی ہے ۔ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران اسلا می ممالک کے بارے میں جو سخت موقف اختیا ر کیا تھا یہ اس کا حصہ لگتا ہے ، اور اس امر کا اندازہ لگ رہا ہے کہ ٹرمپ کی ٹرم کے دوران اسلا می ممالک ہی ٹارگٹ رہیں گے ، جبکہ نو ازشیں اسرائیل اور بھا رت کی جانب رہیں گی۔ انہو ں نے اسرائیل کے وزیر اعظم کو ٹیلی فون کر کے امریکا کے دورے کی دعوت بھی دی ۔ یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ تل ابیب کی بجا ئے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت بنا نے پر با ت چیت اور حمایت کا فیصلہ کیا جا ئے گا ۔