پشاور شہر صحرا ہوگیا ہے

پشاور شہر صحرا ہوگیا ہے

تری آواز مکے اور مدینے ، یہ جوصوبے کی اپوزیشن جماعتوں نے صوبائی دارالحکومت پشاور کو نظر انداز کرنے اور اس کے مسائل کے حل کی طرف حکومت کی عدم توجہی پر پشاور بچائو تحریک کے آغاز کا اعلان کیا ہے اور حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر پشاور کی ترقی کیلئے منصوبے شروع نہ کئے گئے تو اس کے خلاف ہر فورم پر احتجاج کیا جائے گا ۔جب متحدہ کی حکومت نے پشاور میں اقتدار سنبھالا تو اس سے پہلے گورنر سید افتخار حسین شاہ کی قیادت میں قائم صوبائی حکومت کے تحت پشاور بائی پاس سے جمرود روڈ تک نہ صرف جی ٹی روڈ کی توسیع کا منصوبہ چل رہا تھا اور ہر جگہ عمارتوں کو کاٹ کاٹ کر سڑک کو دو رویہ اور وسیع کیا جارہا تھا بلکہ سورے پل منصوبے پر بھی کام جاری تھا اور اس مقام پر فلائی اوور پر تیزی سے کام جاری تھا ، فنڈز وافر مقدار میں دیئے جار ہے تھے لیکن جیسے ہی متحدہ مجلس عمل نے اقتدار سنبھالا ، اس تمام کام کو روک کر شہر کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا۔ ان منصوبوں کیلئے مختص فنڈز اٹھا کر دیگر دو اضلاع کی طرف منتقل کردیئے گئے اور وہاں پر ترقیاتی کاموں کا آغاز کر کے خصوصاً سورے پل کے فلائی اوور منصوبے کو طاق نسیاں پر رکھ دیا گیا ، لگ بھگ دوسال اس صورتحال میں گزرنے کے باوجود صوبائی حکومت نے صوبائی بجٹوںمیں بھی اس منصوبے کیلئے ایک پیسہ مختص نہ کیا تو شہر یوں کے اندر شدید رد عمل کا ابھر نا فطری امر تھا۔ چنانچہ روزنامہ مشرق نے ''پشاور بچائو تحریک '' کے نام سے ایک تحریک کا آغاز کیا عوام الناس نے بلاتخصیص اور بغیر کسی سیاسی وابستگی کے اس تحریک کو خوش آمدید کہا اور اخبار کی جانب سے مجوزہ فارم پر کرتے ہوئے ممبر شپ شروع کی ،حکومت سخت دبائو میں آگئی اور صورتحال یہاں تک جا پہنچی کہ متعلقہ اعلیٰ صوبائی حکومتی قیاد ت کے اندر سخت ہیجان بپا ہو تا چلا گیا اور غصے سے ان کے چہرے '' پشاور بچائو تحریک '' کے نام سے ہی لال پیلے ہوجاتے۔ یہ غصہ یوںنکالا گیا کہ ایک جانب مشرق کے اشتہارات بند کر دیئے گئے جبکہ جواب آں غزل کے طور پر حکومتی سطح پر '' پشاور سنواروتحریک '' کا ڈھکو سلا چھوڑ اگیا ، تب تک مقامی حکومتوں کے انتخابات بھی عمل میں آچکے تھے اور پشاور کی ضلعی حکومت کی باگ ڈور بھی متحدہ کے ایک اہم رہنما ء کے سمدھی کے ہاتھ آگئی تو سورے پل منصوبے کو اصل منصوبے کے بر عکس ایک انتہائی غیر اہم اور کمزور ترین صورت میں تبدیل کر کے اسے ملک سعد شہید فلائی اوور کی موجودہ صورت میںپایہ تکمیل تک پہنچا دیا گیا یوں کہ جس مقصد کے تحت اسے ملٹی پل فلائی اوور کی صورت مکمل ہونا تھا ،وہ مقصدپورا نہ ہو سکا ۔ بعد میں اس بے ضرر فلائی اوور پر کئی بارا نہی کالموں میں تبصرہ کرتے ہوئے میں نے یہ تجویز دی کہ اس کوپکنک سپاٹ میں تبدیل کر دیا جائے کیونکہ اس فلائی اوور کے اوپر تو درجنوں کے حساب سے گاڑیاں آسانی سے گزر جاتی ہیں جبکہ اس کے نیچے ٹریفک جام کی وہی پوزیشن رہتی ہے جو اس کے بغیر بھی ہوا کرتی تھی ۔ایم ایم اے دور کے بعد آنے والی حکومتوں نے کونسے تیر مار لیئے ہیں ، مثلاً کروڑ ہا روپے خرچ کر کے ارباب سکندر خان خلیل فلائی اوور بنانے کی بجائے اگر گل بہار تھانے کے عین سامنے دورویہ سڑک کی مدد سے شمالا ً جنوباً فلائی اوور بنا دیا جاتا اور نوشہرہ آنے جانے والی ٹریفک کو اس کے نیچے گزار ا جاتا تو قومی خزانے پر بوجھ بھی نہ پڑتا اور ٹریفک کی روانی بھی آسانی سے جاری رہتی۔ اسی طرح اگر ملک سعد فلائی اوور کو قلعہ بالا حصا ر کی جانب سے سابقہ ایف سی پٹرول پمپ کی جانب سے اٹھا تے ہوئے سورے پل کے اوپر ملٹی پل فلائی اوور بنا دیا جاتا تو نہ صرف ٹریفک اژدھا م قابو میں آجاتا بلکہ مفتی محمود فلائی اوور کی ضرورت ہی نہ رہتی ، کہنے کا مقصدصرف اور صرف یہ ہے کہ خواہ سیاسی رہنما ہوں خواہ متعلقہ اداروں کے ذمہ داران سب مل کر قومی دولت کے ضیاع پر یکسو رہتے ہیں اور بجائے شہر کو خوبصورت بنانے کے ، پلوں کا جنگل اگا کر بد صورتی میں اضافہ کے ساتھ کروڑوں کے فنڈز بھی ضائع کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ اب تازہ تحریک کی طرف آجائیں تو یہ بھی سب ڈھکوسلا ہے ، کیونکہ اب تو آنے والے انتخابات میں لگ بھگ سال سوا سال کا عرصہ رہ گیا ہے ، اب صوبائی حکمرانوں کو بھی پشاور کی یاد آگئی ہے (اب تک سارے فنڈز دوسرے علاقوں تک جا رہے تھے )اور حزب اختلاف کو بھی صوبائی دارالحکومت کا غم ستانے لگا ہے اور شور شرابہ کر کے یہ شہر یوں کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وہ تو چیختے چلاتے رہے مگر حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی رہی ، اس لئے اب کی بار انہیں حکومت دی جائے تاکہ اس شہر پشاور کو حقیقی معنوں میں شہر گلاب بنا کر اس کا حقیقی مقام دلا سکیں ۔ ویسے فکر نہ کریں عوام ویسے بھی بھلکڑہوتے ہیں یہ ہر قسم کا سلوک بھول جاتے ہیں ، ووٹ بھی دے دیتے ہیں اور بغلیں بھی بجاتے ہیں ۔ بقول جوہر میر 

فصیلیں توڑ کر کیا ہوگیا ہے
پشاور شہر صحرا ہوگیا ہے
یہ شہر گلفروشاں تھا چمن تھا
بکھر کر پتا پتا ہو گیا ہے ۔

متعلقہ خبریں