فاٹا کے لئے انصاف کا مطالبہ

فاٹا کے لئے انصاف کا مطالبہ

فاٹا کے موجودہ حالات دیکھ کر مجھے یہ مشہور مقولہ یاد آ جاتا ہے 'انصاف میں تاخیر کا مطلب انصاف سے محرومی ہے'۔ فاٹا میں اصلاحات اور اسے ملک کے دیگر علاقوں کے برابر لانے کے بارے میں ہونے والی موجودہ بحث دراصل ایک دہائی پرانی ہے۔ حال ہی میں اس حوالے سے22ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 1، 246اور 247 میں ترامیم کا راستہ کھل جائے گا۔ لیکن ابھی تک اس بل کے بارے میں بہت سی باتیں واضح نہیں ہیں۔گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے بنائے جانے والے فاٹا ریفارمز کمیشن نے اپنی سفارشات یکم مئی 2015ء کو حکومت کو جمع کروا دی تھیں لیکن ان سفارشات پر پیش رفت ابھی تک تاخیر کا شکار ہے۔ اس سے پہلے آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے تاریخی موقع پر فاٹا کو ملک کے دیگر علاقوں کے برابر لانے کا سنہری موقع ضائع کر دیا گیا تھا ۔آئین کی اٹھارہویں ترمیم کے لئے جو پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی تھی اس کی ٹرم آف ریفرنس میں فاٹا میں اصلاحات کے علاوہ فاٹا کے نمائندے بھی شامل تھے لیکن حیران کن طور پر اٹھارہویں آئینی ترمیم ایکٹ 2010ء میں فاٹا کے متعلق کوئی شق شامل نہیں تھی۔آئین کے آرٹیکل 247 کے مطابق فاٹا کے رہائشی پاکستان کے مکمل شہری نہیں ہیں ۔ فاٹا کو ایک مکمل وفاقی یونٹ کا درجہ دینے کے لئے آرٹیکل 1 میں ترمیم ضروری ہے جس کے بعد فاٹا کے عوام اور وہاں کے نمائندوں کی خواہشات کے مطابق فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا جاسکتا ہے۔ یہ انتہائی بد قسمتی کی بات ہے کہ فاٹا کے عوام کے ساتھ کئے گئے لا تعداد وعدوں کے باوجود موجودہ حکومت سمیت گزشتہ کئی حکومتیں فاٹا میں اصلاحات لانے اور اس علاقے کو ملک کے دیگر علاقوں کے برابر لانے میں ناکام رہی ہیں۔ عوامی امنگوں کے علاوہ اس حوالے سے حکومتِ پاکستان بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کی مرتکب بھی ہو رہی ہے جن میں 'انٹر نیشنل کوویننٹ آن سول اینڈ پولیٹکل رائٹس'، ' کنونشن اگینسٹ ٹارچر' ، کنونشن اگینسٹ آل فارمز آف ڈسکریمینیشن اگینسٹ ویمن' اور 'کنونشن آن دا رائٹس آف دا چائلڈ' شامل ہیں۔ اس بارے میں کوئی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ 'فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر )1901 ئ' انسانی حقوق کے تمام اصولوں اور روایات کے منافی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسے ایک کالا قانون کہا جاتا ہے۔ سول سوسائٹی اور فاٹا کے عوام ایک طویل عرصے سے اس قانون کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ دوسری جانب ایف سی آر کو ختم کر کے رواج ایکٹ لاگو کرنا بھی نہایت غلط فیصلہ ہوگا کیونکہ دونوں قوانین تقریباً ایک جیسے ہیں اور دونوں ہی بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہیں۔ پچھلے دس سالوں سے فاٹا میں اصلاحات اور اسے دیگر علاقوں کے برابر لانے کی باتیں کی جارہی ہیں لیکن اس حوالے سے کوئی ٹھوس اقدامات کبھی نہیںکیے گئے ۔ اگر صاحبِ اختیار آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ فاٹا میں اصلاحات لائے بغیر پورے پاکستان میں عموماً اور فاٹا میں خصوصاً ترقی و خوشحالی لائی جاسکتی ہے تو وہ اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے علاوہ کچھ نہیں کررہے۔ 

ملک کا سپریم ادارہ ہونے کے ناطے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں فاٹا میں اصلاحات کے حوالے سے سنجیدہ بحث ہونی چاہیے جس میں عوام کی امنگوں کا احترام کرتے ہوئے عوامی رائے کے مطابق فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ کیا جانا چاہیے۔ فاٹا میں اصلاحات یا اسے خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے لئے موجودہ پارلیمنٹ اور پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے لئے اس سے بہتر وقت نہیں ہوسکتا ۔ اس حوالے سے مزید کسی بھی تاخیر کی گنجائش باقی نہیں ہے کیونکہ فاٹا کے عوام ایک طویل عرصے سے ایف سی آر جیسے کالے قانون کے زیِر عتاب ہیں اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں ۔فاٹا کے باشعور عوام اب موجودہ حالات سے تنگ آ چکے ہیں اور آئینِ پاکستان کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کر رہے ہیں۔فاٹا میں رائج کالے قوانین کا سب سے زیادہ شکار فاٹا میں بسنے والی عورتیں اور بچے ہوئے ہیں اس لئے اصلاحات کے ایجنڈے میں عورتوں اور بچوں کے حقوق کو سب سے پہلے رکھنا ہوگا۔ فاٹا کی عورتوں کو خبیر پختونخوا اسمبلی کے ساتھ ساتھ وفاقی پارلیمنٹ میں بھی نمائندگی دی جانی چاہیے اور اس حوالے سے دونوں اسمبلیوں میں خواتین کا کوٹہ مقرر کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ ان خواتین کو فاٹا میں اصلاحات کے مجوزہ ایجنڈے کا حصہ بنایا جانا بھی نہایت ضروری ہے۔ تعلیم کی کمی اور روزگار کے نادر مواقعوں کی وجہ سے فاٹا کی خواتین کی بحالی کے لئے خصوصی پیکج کا اعلان کیا جانا چاہیے۔ علاقے میں پردے کی پابندی کی وجہ سے ایسے گھرانوں تک خواتین ملازمین کے ذریعے پہنچا جائے جن کی سربراہ خواتین ہیں۔ اگر فاٹا کے بچوں کی بات کی جائے تو ان کے حقوق کے بارے میں بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے لیکن یہاں پر ہم ان کے تعلیم کے حق کی بات کریں گے جس کی یقین دہانی آرٹیکل 25-A کے تحت آئینِ پاکستان کرواتا ہے۔ وفاقی حکومت نے ''رائٹ ٹو فری اینڈ کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ 2012ء ''کے ذریعے فاٹا میں بچوں کی لازمی تعلیم کے قانون کی توثیق تو کردی ہے لیکن اس حوالے سے بجٹ کی فراہمی کے ساتھ ساتھ دیگر ضروری اقدامات کی کمی واضح طور پر محسوس کی جاسکتی ہے۔
(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں