سیخ پا بھارتی قیادت

سیخ پا بھارتی قیادت

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال دن بدن بد سے بدتر ہوجانے کے باعث بھارتی حکمرانوں کی بوکھلاہٹ فطری امر ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے بعد اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب اور دوسرے سفارتکاروں نے اپنے اپنے خطاب میں جس طرح بھارت کو بے نقاب کیا اور دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دکھایااس کے بعد بھارتی حکمرانوں کی پاکستان کے خلاف زہر اگلنے میں تیزی آئی ہے۔ بھارت نے اس امر کو معمول بنا لیا ہے کہ جب بھی اقوام متحدہ میں پاکستان کشمیر کا مسئلہ شدت سے اٹھاتا ہے بھارت کنٹرول لائن پر بلا اشتعال اندھا دھند فائرنگ کرکے سرحد کے اس پار کشمیریوں کو ہراساں کرتا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج ظلم و استبداد میں اضافہ کرتے ہیں ۔ بھارت کبھی بھی انسانی حقوق کی تنظیموں کے احتجاج پر کان نہیں دھرتا اور نہ ہی ان تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ایسا کرنا شاید اس لئے بھارت کی مجبوری ہو کہ اگر انسانی حقوق کی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر میں حالات کا جائزہ لینے اور لوگوں سے ملاقات کا موقع ملے تو بھارت کا مکروہ چہرہ اور ان کے مظالم سے دنیا آزاد ذرائع سے آگاہ ہو جائے گی جس کا بھارت متحمل نہیں ہوسکتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی کشمیر پالیسی میں مشرف دور حکومت میں جو تبدیلی لائی گئی تھی اگرچہ بظاہر وہ پالیسی اچھی اور دنیا کے لئے قابل قبول تھی مگر بجائے اس کے کہ اس کا مثبت اثر ہوتا بھارت نے نہتے کشمیریوں کو دبانے کے لئے مزید حربے اپنانے کی تیاری کی جبکہ اس پالیسی کے نتیجے میں حریت کی جدوجہد میں شامل تنظیموں کو اخلاقی و سفارتی حمایت کی محرومی کے باعث جو دھچکا لگا اس کے نتیجے میں بھارت کو کھل کرکھیلنے کا موقع ملا جس کا خمیازہ بعد ازاں پیلٹ گنوں سے چہرہ مسخ کرنے کے ظلم کی صورت میں مظلوم کشمیری عوام کو بھگتنا پڑا۔ ہمارے تئیں اصولی طور پر تو اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہونا چاہئے مگر جب تک اس کے لئے بھارت تیار نہیں ہوتا تب تک کشمیری عوام پر مظالم بند کرانے کے لئے پاکستان کو کشمیر عوام کی اخلاقی و سفارتی مدد کے لئے مزید کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ کسی نہ کسی طرح کشمیری عوام کو بھارتی ظلم و استبداد سے بچایا جاسکے۔ دنیا کو اس امر کو سمجھنا چاہئے کہ جہاں جہاں ظلم کے پہاڑ توڑے جائیں گے اس کا رد عمل بھی اسی نوعیت کا سامنے آئے گا۔ بھارت کا پڑوسی ممالک کے ساتھ رویہ بھی معاندانہ ہے خاص طور پر بھارت کے سر پر جنگی جنون اس قدر سوار ہے کہ اس کی قیادت کو اپنے تمام مسائل کا حل یا پھر سنگین مسائل سے توجہ ہٹانے کا واحد طریقہ پاکستان سے تعلقات بگاڑنے میں نظرآتا ہے ۔ اس ضمن میں بھارت کے پاس شاید اس لئے بھی کوئی آپشن نہیں کہ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری منصوبے پر عملدرآمد سے پاکستان کی معیشت مضبوط ہونے جا رہی ہے اور اقتصادی راہداری سڑک کی تعمیر دفاعی طور پر بھی کم اہم نہیں۔بھارت اگر خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا تو اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کشمیر کے مسئلے پر با مقصد مذاکرات شروع کرے اور کشیدگی میں کمی لائے۔ پاکستان کو صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے سفارتی فعالیت کو اولیت دینے کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے اور بھارتی مظالم کا پردہ چاک کرنے کی پیہم مساعی اس وقت تک جاری رکھنے کی ضرورت ہے جب تک بھارت بارود بونے کی بجائے پھول اگانے کی پالیسی اختیار نہیں کرتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے کو قالین کے نیچے نہیں رکھا جاسکتا۔ دونوں ممالک کے درمیان اشتعال کے بعد ہر بار کشمیر کامسئلہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ ہمارے تئیں ایسا نہیں ہوناچاہئے۔ پاکستان بلاشبہ جارحانہ رویہ نہ اپنائے لیکن کشمیر کے مسئلے کو پس منظر میں نہ جانے دے۔ کشمیر کا مسئلہ جب تک موجود ہے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اور جنگ کا خطرہ بھی موجود ہوگا۔اگردونوں ممالک کے درمیان امن پر مبنی مستحکم اورپائیدار تعلقات رکھنے ہیں تویہ کشمیر کا مسئلہ حل کئے بنا ممکن نہیں ۔ اس مسئلے کے حل کے لئے پاکستان کو ایک طویل حکمت عملی پر عمل پیرا ہونا ہوگا۔توقع کی جانی چاہئے کہ ہماری حکومت اور سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس مسئلے کے حوالے سے یکساں موقف اپنانے کی روایت نہ صرف برقرار رکھیں گے بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر وہ اس سلسلے میں کردار بھی ادا کرنے میں بخل سے کام نہیں لیں گے۔ حالات کے تناظر میں کشمیر کمیٹی کی عدم فعالیت پر توجہ دیتے ہوئے اس کو فعال کرنے اور متحرک کردار ادا کرنے کے لئے خصوصی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ بھارت میں میڈیا کے بعض حلقوں کی جانب سے بھارتی مظالم کا پردہ چاک کرنا اس امر پر دال ہے کہ بھارت میں رائے عامہ اس کے مظالم کے خلاف بیدار ہو رہی ہے جس کا تقاضا ہے کہ بھارتی پروپیگنڈا کو اس امر کا موقع نہ دیاجائے کہ وہ حقائق پر اثر انداز ہوسکے۔

متعلقہ خبریں