آرمی چیف کی خوش آئند یقین دہانی

آرمی چیف کی خوش آئند یقین دہانی

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملک اور فوج کو دشنام دینے والوں کو جلد گرفت میں لینے کا بیان پوری قوم کی آوازہے۔ دشمنان وطن کی سرگرمیاں دشمنوں کی سرگرمیوں کے زمرے میں آتی ہیں اور دشمن سے توقع ہی دشمنی کی ہوتی ہے لیکن جو لوگ پاکستان میں پلے بڑھے یہاں تعلیم حاصل کی اور سیاسی دنیا میں وارد ہو کر ایک مقام تک پہنچے ان عناصر کا لندن میں بیٹھ کر سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے یا وہ گوئی اب ناقابل برداشت ہوگئی ہے جبکہ بلوچستان کے بعض گمراہ عناصر کی بیرون ملک سرگرمیوں کا بھی اب موثر تدارک ضروری ہے۔ مجبوری یہ ہے کہ باہر بیٹھے ان عناصر کے خلاف کارروائی کی کوئی مناسب صورت نہیں۔ ان کے خلاف حکومتوں کی جانب سے بیرونی حکومتوں سے کارروائی کے لئے سنجیدگی کے ساتھ رجوع بھی اپنی جگہ سوالیہ نشان رہا ہے کچھ سیاسی مصلحتیں بھی آڑے آتی رہیں لیکن ہمارے تئیں اب یہ صورتحال نا قابل برداشت ہوگئی ہے۔ آئے روز ان عناصر کی طرف سے جو کچھ سامنے آنے لگا ہے اس پر متعلقہ ملکوں سے باقاعدہ احتجاج کی ضرورت ہے۔ ان ممالک کے سفیروں کو طلب کرکے اپنی سرزمین کو پاکستان او رپاک فوج کے خلاف سازشوں کو یا وہ گوئیوں کے لئے استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کا سختی سے مطالبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے گھرکو ٹھیک کرنا ہوگا۔ اپنا گھر تبھی ٹھیک ہوگا جب ہم خود کو ٹھیک کریں اپنے ملک سے رشوت و بدعنوانی اور مفاد پرستی کاخاتمہ کریں اور خلوص کے ساتھ اپنے ملک کی خدمت کریں۔اسے افسوسناک امر ہی گردانا جائے گا کہ آج ہم اپنے آپ کا جائزہ لیں تو نہ تو ہماری صفوں میں اتحاد نظر آتا ہے اور نہ ہی ہم اپنی اصلاح کاجذبہ رکھتے ہیں۔ آج پاکستانی قوم سیاسی' گروہی' مذہبی' غرض تعصب و امتیاز کے اتنے تضادات کا شکار ہے جس کا اندازہ کرکے ہی کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ہماری سیاسی قیادت اور حکمرانوں کو صرف اپنے اقتدار اور سیاسی مفادات ہی سے سروکار ہے۔ یہ اگر قوم کے بھلا کا سوچیں ان کے منصوبوں اور فیصلوں کا محور اگر مجموعی ملکی ترقی' صوبائی و علاقائی ترقی کے منصوبے بتدریج اولیت کے حامل ہوں اور ان پر عمل درآمد میں خلوص نیت سے کام لیا جائے تو پاکستان کے بیشتر مسائل ہو جائیں۔آرمی چیف کی جانب سے کرائی گئی یقین دہانی اور عزم کے اظہار کے بعد دیکھنا یہ ہوگا کہ اس کے بارے میں کیا مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جاتا ہے کہ اغیار کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کو مطعون کرنے والوں کی گردنوں تک ہاتھ پہنچے اور ان کو خاموش کردیا جائے گا۔
سیکورٹی کو بلائے جاں نہ بنایا جائے
محرم الحرام کے د نوں میں شہر بھر میں پولیس مختلف جگہوں پر ناکہ بندیاں کرکے شہریوں کی آمد و رفت محدود کرنے کو سیکورٹی گردانتے ہیں حالانکہ عام شہریوں سے سیکورٹی خدشات نہیں بلکہ ان کو خود سیکورٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر مناسب شناخت کے بعد شہریوں کو آمد و رفت کی اجازت دی جائے تو سیکورٹی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا اور شہریوں کی مشکلات میں بھی کمی آئے گی۔ بہر حال اصولی طور پر عوام کی حفاظت کے لئے ان اقدامات سے عدم اتفاق تو نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ماضی میں شر پسندوں اور دہشتگردوں کی جانب سے ایسے اقدامات سامنے آچکے ہیں جو افسوسناک بھی تھے اور قابل نفرین بھی۔ تاہم اتنی گزارش ہے کہ پورے شہر کو مکمل طور پر ناکے لگا کر عوام کو آمد و رفت میں مشکلات سے دو چار کرنے سے گریز کیا جائے۔بازاروں میں اس طریقے سے سیمنٹ کے بلاکس اور خار دار تاریں بچھائی جاتی ہے کہ گزرنے والوں کو مختلف سڑکوں اور گلیوں کے بار بار چکر لگا کر بھی باہر نکلنے یا اندر آنے کا راستہ نہیں ملتا اور وہ ان بھول بھلیوں میں بھٹکتے رہتے ہیں۔ اوپر سے ٹریفک حکام اور پولیس اہلکاروں کا رویہ بھی درشت ہوتا ہے جس سے عوام اور پولیس کے مابین ایک نئی طرح کی خلیج حائل ہو جاتی ہے۔ اس لئے متعلقہ حکام سے گزارش ہے کہ وہ ان جگہوں پر مامور پولیس اہلکاروں کو اپنا رویہ عوام دوست بنانے کی تلقین کریں اور ایک آدھ ایسا پوائنٹ بھی کھلا چھوڑ دیں جہاں سے لوگوں کو گزرنے کی سہولت مل سکے۔پولیس کو اپنی سیکورٹی پلان پر نظر ثانی کی ضرورت ہے جس میں اس امر کا خیال رکھا جائے کہ شہر یوں کو محصور بنا کر اور ان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے سے روک کر ان کے تحفظ کی بجائے ان کی آمد و رفت کی سہولتوں اور ضرورتوں کا خیال رکھتے ہوئے حفاظتی اقدامات کئے جائیں تاکہ ان کو عوام کی جانب سے ناگواری کی بجائے تعاون میسر آئے۔ اندرون شہر کو سیل اور موبائل سروس بند کرکے شہریوں کو ان کے گھروں تک محدود کرکے سیکورٹی یقینی بنانا کوئی کمال نہیں کیونکہ قلعہ بند محصور لوگ اکثر محفوظ ہی ہوتے ہیں۔

متعلقہ خبریں