ہم عوام اور ہماری قیادت

ہم عوام اور ہماری قیادت

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ سینیٹ میں انتخابی اصلاحات کا بل منظور ہونا شرمناک ہے۔ اس بل کی منظوری کے بعد اکثر اخبارات کی سرخیوں کے مطابق سابق وزیر اعظم کی نااہلی کے فیصلہ کے باوجود وہ حکمران مسلم لیگ کے صدر بن سکیں گے۔ بل کے مطابق کوئی شخص جو کسی عدالت کے فیصلے کی رُو سے عوامی عہدوں کے لیے نااہل قرار دیا جا چکا ہو کیسے سیاسی پارٹی کا سربراہ ہو سکتا ہے۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ بل اپوزیشن کے 37ووٹ کے مقابلے میں ن لیگ کے 38ووٹوں سے پاس ہو گیا تھا۔ اگر پی ٹی آئی کے دو سینیٹرز ایوان میں موجود ہوتے اور بل میں پیپلز پارٹی کے اعتراز احسن کی ترامیم کے حق میں ووٹ دیتے تو یہ بل منظور نہ ہو سکتا۔ اس بنا پر عمران خان نے اپنی پارٹی کے دو سینیٹرز کو شوکاز نوٹس دے دیا ہے۔ اس سے بڑھ کر کارروائی ایم کیو ایم نے کی ہے جس کے سینیٹر میاںعتیق نے بل کے حق میں ووٹ دیا اور ایم کیو ایم نے میاں عتیق کو پارٹی کی رکنیت سے محروم کر دیا ہے۔ لیکن بل تو منظور ہو چکا ہے ۔ ایک ٹی وی ٹاک شو میں میاں عتیق پر تابڑ توڑ سوالات ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پارٹی کی طرف سے کوئی ایسی ہدایت نہیں ملی تھی کہ بل کی کون سی شق کے حق میں ووٹ نہ دینا۔ ایک بات انہوں نے نہایت قابلِ غور کہی۔ کہ سینیٹ میں اپوزیشن کے 62ارکان ہیں جن میں سے 37ارکان نے تو بل کی مخالفت میں ووٹ دیا لیکن باقی 25ارکان سینیٹ کہاں تھے۔ انہوں نے بھی تو ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا یہ سوال ہم آپ ایسے عامیوں کے لیے قابلِ غور ہونا چاہیے کہ جب ایک اہم بل پر ووٹنگ کی جا رہی تھی تو 25ارکان سینیٹ غیر حاضر پائے گئے۔انہوں نے ہماری نمائندگی کا حق کیوں ادا نہ کیا۔ عمران خان کے شوکاز نوٹس کے نتیجے میں سینیٹرنعمان وزیر اور کینتھ ولیمز کے خلاف کیا کارروائی ہوتی ہے یہ جب ہوئی تب معلوم ہوگا۔ لیکن بل تو پاس ہوچکاہے اور اس میں ن لیگ کے بل کو جتانے والا ووٹ سینیٹر نہال ہاشمی کا تھا جنہیں ایک جوشیلی تقریر کا نوٹس لیتے ہوئے ن لیگ کی پارٹی رکنیت سے محروم کر چکی ہے۔ حاصل کلام دو باتیں ایک یہ کہ بل تو پاس ہو چکا ہے 'جب جا چکا ہے سانپ تو پیٹے لکیر کیا' ۔ دوسری یہ کہ اگر نہال ہاشمی ن لیگ کی رکنیت سے محروم ہو جانے کے باوجود سینیٹ کی کارروائی میں ووٹ ڈال سکتے ہیں تو میاں عتیق نعمان وزیر اور کینتھ ولیمز کو کیسے روکاجاسکے گا۔

کہا جاتاہے کہ پیپلز پارٹی کے بیرسٹر اعتزازاحسن کو ایک ساتھی نے کہا کہ آج ترمیم پیش نہ کرو کیونکہ ایوان میں حمایت کم نظر آ رہی ہے (یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ن لیگ کے وزیر خواجہ سعدرفیق بھی ایوان میں لابنگ کرتے نظرآتے رہے) لیکن اعتزازاحسن نے کہا کہ اگر یہ ترمیم منظور بھی ہو گئی تو ن لیگ والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں یہ بل منظور کروا لیں گے، اور ترمیم پیش کر دی۔ یہ سب کچھ قارئین کی نظر سے گزر چکی ہیں۔
آپ کے اس قلم کیش نے متعدد ملازمتیں کی ہیں ۔ ایک آجر سے پوچھا کیا آپ اتنی قلیل تنخواہ کے عوض مجھے ملازم رکھنے پر خوش ہیں؟ وہ بھلے آدمی تھے اسی لیے مجھے جرأت ہوئی ، باتوں باتوں میں ٹال گئے۔ لیکن یہی سوال ن لیگ والوں اور خود میاں نواز شریف سے کیا جا سکتا ہے ۔کیا وہ خوش ہیں کہ پارلیمنٹ میں اکثریت کے بل پر وہ ایسا قانون پاس کروانے میں کامیاب ہو گئے ہیں جس کے تحت عدالت سے مجرم ثابت ہونے والوں کو سیاسی پارٹیوں کا سربراہ منتخب کیا جاسکتا ہے۔ کیا سیاسی ورکر ایسے شخص کا بطور سربراہ انتخاب صاف ضمیر کے ساتھ کریں گے۔ کیا وہ شخص جو عوامی عہدوں کے لیے نااہل قرار دیا جا چکا ہو، اس تجویز کو خوش دلی سے قبول کر سکے گا۔
اخبارات کی شہ سرخیوں کے مطابق اس بل کی منظوری سے ''جب یہ قانون بن جائے گا'' میاں نواز شریف کے مسلم لیگ ن کا صدر منتخب ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اگرچہ مسلم لیگ ن کے خواجہ سعید رفیق کہہ رہے ہیں کہ یہ قانون کسی ایک شخص کے لیے نہیں بلکہ سب کے لیے ہے۔ یعنی مستقبل میں اگر عمران خان سمیت کوئی بھی عوامی عہدوں کے لیے نااہل قرار دیا جاتا ہے تو وہ اس سے استفادہ کر سکے گا لیکن عام تاثر یہی ہے کہ یہ قانون میاں نواز شریف کے لیے منظور کروایا گیا ہے۔ ان کا اور ان کی پارٹی کے متعدد سینیٹرزکا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ معاملہ پانا ما انکشاف کا تھافیصلہ اقامہ کی بنیادپر سنایا گیا ہے ۔ ان سے اختلاف رکھنے والے کہتے ہیں کہ اقامہ کے حوالے سے ان کے خلاف فیصلہ بیرون ملک منفعت بخش ملازمت حاصل کرنے اور اس سے حاصل ہونے والے اثاثے ظاہر نہ کرنے کی بنا پر سنایا گیا ہے۔ جہاں تک دوسرے معاملات کی بات ہے احتساب عدالت میں ان معاملات کی سماعت شروع ہوچکی ہے ۔ میاں صاحب اقامہ کے حوالے سے فیصلے کو تسلیم کر چکے ہیں اور وزارت عظمیٰ سے سبکدوشی اختیار کرچکے ہیں۔ ان کی پارٹی اپنا سیاسی کام کر رہی ہے۔ ان کی پارٹی کے لوگ کہتے ہیں کہ سیاست میں کوئی مائنس ون نہیں ہوتا۔اس بات کوتسلیم کیا جانا چاہیے کہ کوئی بھی پارٹی کسی بھی شخص سے اس کی دانش اور تجربے کی بنا پر مشاورت کرسکتی ہے۔ اسے عہدے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ تاآنکہ پارٹی یہ سمجھتی ہو کہ اس کا اتحاد اٹھارھویں آئینی ترمیم کا مرہون منت ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے لیڈر میں ذہانت ، فطانت ' دیانت و امانت کی تمام خوبیاں ہوں جن کی بنا پر ہم اپنے لیڈروں پرفخر کر سکیں۔ سیاسی جماعتوں کو یہ کہنے کی بجائے کہ اس قانون کا فائدہ سب کو پہنچے گا یہ خیال کرنا چاہیے کہ عوام اپنے جمہوری پاکستان پر اپنے لیڈروں پر جو فخر محسوس کرنا چاہتے ہیں اس کا کیا بنے گا۔ ہم اپنے آئین ، قانون اور اپنی جمہوریت اور قیادت پر فخر کرنا چاہتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو اس طرف متوجہ ہونا چاہیے کہ اسی سے قومیں متحد رہتی ہیں اور آگے بڑھتی ہیں۔

متعلقہ خبریں