پاک افغان تعلقات میں امریکہ اور چین کا کردار

پاک افغان تعلقات میں امریکہ اور چین کا کردار

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ سیشن کے دوران افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پاکستان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کے حوالے سے بہت سنگین الزامات عائد کئے ہیں اور کہا ہے کہ پاکستان ان دہشت گردوں کے لئے ایک محفوظ پناہ گاہ کاکام کررہا ہے جن کا خاتمہ افغانستان کی بقاء اور افغانستان میں قیامِ امن کے لئے انتہائی ضروری ہے۔افغان صدر نے پاکستان کے حوالے سے مندرجہ بالا بیانات بہت سے ممالک کے سربراہان سے میٹنگ کے دوران بھی دیئے ہیں ۔لیکن اپنے رسمی خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ '' امن، سیکورٹی اور علاقائی تعاون پر بامعنی مذاکرات کرنا چاہتا ہے جس کے ذریعے خطے میں خوشحالی لائی جاسکتی ہے''افغان صدر کے اس بیان کے پیچھے چھپے اخلاص کا اندازہ لگانے کے لئے تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی تاریخ کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے لیکن ان کے اس بیان سے ایک بات بالکل واضح ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کو مذاکرات کی میز پر آنے کی اشد ضرورت ہے جس کے بغیر دونوں مما لک کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغان پالیسی کے سامنے آنے کے بعد دونوں ممالک اس پالیسی کی روشنی میں اپنامستقبل کا لائحہ عمل ترتیب دے رہے ہیں لیکن یہاں پر پاکستان کو اس بات کا کریڈت ضرور دیا جانا چاہیے کہ پاکستان نے صدر ٹرمپ کے الزامات کے بعد خطے کے دیگر ممالک اور طاقتوںکے ساتھ اپنے تعلقات کی بہتری کی کوششیں شروع کردی ہیں اور واشنگٹن کی دھمکیوں اور الزامات کا مناسب انداز میں جواب دیا ہے۔پاکستان کی بہتر سفارت کاری کی وجہ سے ہی اس وقت پاکستان اور امریکہ کے درمیان برف پگھلنا شروع ہوگئی ہے اور افغانستان کو بھی اس بات کا انداز ہ ہونے لگ گیا ہے کہ افغانستان میں امن کا راستہ اسلام آباد سے ہو کر گزرتا ہے جس کے علاوہ کسی اور راستے کا وجود ہی نہیں ہے۔ اس تما م مثبت پیش رفت کے باوجود بھی افغانستان اور پاکستان کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں ہوا اور حالات کو معمول پر لانے کے لئے دونوں ممالک کومثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا جس میں خطے میں دیرپا امن کے علاوہ اپنی عوام کی فلاح و بہبود کو سب سے زیادہ اہمیت دینی ہوگی۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی تاریخ تنازعات سے بھری پڑی ہے جس کا خمیازہ سرحد کے دونوں جانب بسنے والی عوام کئی دہائیوں سے بھگت رہے ہیں۔ ماضی میں تنازعات کے علاوہ اس وقت دونوں ممالک کو دہشت گردی کا سامنا ہے جس کو ان دونو ں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کے لئے پیدا کیا لیکن اب اس سے جان چھڑوانا مشکل ہورہا ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مسائل ایک دوسرے کی پالیسیوں اور حالات سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان مسائل سے پیچھا چھڑانا آسان نہیں ہوگا حتیٰ کہ دونوں ممالک اپنے تعلقات میں بہتری لانے کے لئے سنجیدہ کوششیں نہ کریں اور اپنی اپنی پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ نہ لیں ۔ اس حوالے سے صرف پاکستان اکیلا نہیں بلکہ افغانستان کو بھی اپنے ملک کے حالات بہتر کرنے ہوں گے اور پاکستان پر اثرانداز ہونے والی پالیسیوں پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔برکس کے اجلاس میں چین کی حمایت سے پاکستان کے خلاف جاری ہونے والے بیان میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کی جھلکیاں نظر آتی ہیں کیونکہ اس بیان میں بالواسطہ طور پر پاکستان پر دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ چین ایک طویل عرصے سے پاکستان کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کی تلقین کرنا چاہ رہا تھا جس کا موقع اسے برکس اجلاس کے اعلامیے میں مل گیا ۔ چین کی طرف سے پاکستان کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ اگرچہ چین امریکہ کے خلاف پاکستان کا دفاع کرے گا لیکن پاکستان کی ایسی پالیسیوں کو برداشت نہیں کرے گا جس سے چین کا اپنا مفاد متاثر ہوتا ہو۔سی پیک اور دیگر منصوبوں کے ذریعے چین پاکستان میں اتنی سرمایہ کاری کرچکا ہے کہ اب وہ پاکستان کی '' سٹریٹجک اثاثے'' بنانے کی پالیسی کو برداشت نہیں کرسکتا جس کی وجہ سے خطے میں عدم استحکام کی فضا پیدا ہو۔افغانستان میں قیامِ امن کے لئے چین امریکہ کے کردار کی حمایت کرتا ہے کیونکہ اس سے خطے کا استحکام منسلک ہے اور یہی وجہ ہے کہ چین پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کی مخالفت بھی نہیں کرتا۔ اگر پاک امریکہ تعلقات کشیدگی کاشکار ہوتے ہیں تو امریکہ خطے میں بھارت کی حمایت اور معاونت شروع کردے گا جو کہ چین کے لئے قابلِ قبول نہیں ہوگا اور بھارت کے ساتھ تعلقات کی کشیدگی بھی چین کے مفادات کو گزند پہنچانے کا باعث بنے گی۔افغان جنگ کی ناکامی کا خمیازہ پاکستان کو بھگتنا پڑا ہے اور اس جنگ کی وجہ سے پاکستان آج بھی دہشت گردی کا شکار ہے ۔ اس وقت پاکستان کو اپنی اندرونی سیکورٹی کے ساتھ ساتھ افغانستان کی ہرلحظہ بدلتی صورتحا ل سے بھی خطرہ لاحق ہے۔ پاکستان اور افغانستان کو افغان طالبان سے نمٹنے کے لئے ایک مشترکہ حکمتِ عملی بنانی ہوگی اور اس حوالے سے ایک دوسرے کو دھوکہ دینے سے گریز کرنا ہوگا۔چین اور امریکہ وہ ممالک ہیں جو کہ پاکستان اور افغانستان کو ایک دوسرے کے قریب لاسکتے ہیں کیونکہ چین اپنے ون روڈ، ون بیلٹ منصوبے کے لئے دونوں ممالک میں استحکام چاہتا ہے اور امریکہ کو اپنے ملک کی سیکورٹی عزیز ہے جسے دہشت گردی کی وجہ سے شدید خطرات لاحق ہیں۔
(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں