بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں

بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں

متحدہ ہندوستان کے زمانے میں جب ابھی فلموں نے اتنی ترقی نہیں کی تھی جیسی آج کے ترقی یافتہ دور میں دنیا بھر میں نظر آتی ہے اور اب جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے فلم کے فیتے پر ایسی محیر العقول واقعات اور کارنامے دیکھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ تب بر صغیر میں تھیٹر بہت مقبول تھا اور لوگ مختلف تھیٹریکل کمپنیوں کے زیر اہتمام سٹیج کئے جانے والے تاریخی ڈرامے دیکھنے تھیٹروں کا رخ کرتے تھے۔ ان ڈراموں میں مشہور تاریخی کرداروں کو پیش کیا جاتا' ہفتوں پر ریہرسلیں کی جاتیں۔ ان کرداروں کے لئے اس دور کے مطابق لباس سلوائے جاتے' تلواروں' تیروں' نیزوں' سر پر پہننے والے جنگی خود' زرہ بکتر وغیرہ کا اہتمام کیا جاتا اور لوگ جوق در جوق آکر نشستوں پر براجمان ہو کر اپنے پسندیدہ اداکاروں کو سٹیج پر اداکاری کرتے دیکھتے اور انہیں داد دیتے۔ ابتدائی دور میں عموماً خواتین کے کردار بھی مرد ہی ادا کرتے کیونکہ تھیٹر کے لئے خواتین اداکارائیں دستیاب نہیں ہوتی تھیں مگر وت گزرنے کے ساتھ ساتھ بعض پارسی خاندانوں کی خواتین نے جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان ڈراموں اور تھیٹروں کا حصہ بننا قبول کر لیا جبکہ بعض ڈراموں میں ناچ گانے کے مناظر کو پیشہ ور طوائفوں کے ذریعے رنگین بنانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ تاہم یہ بہت بعد کی بات ہے اور ابتداء میں صرف مرد فنکاروں سے ہی زنانہ کردار ادا کروائے جاتے۔ ان تھیٹروں میں کام کرنے والے اداکاروں اور ''اداکارائوں'' کی کردار نگاری سے متاثر ہو کر ہال میں بیٹھے ہوئے تماشائی ان پر ریز گاری( کرنسی سکے) نچھاور کرتے۔ سیٹیاں بجاتے' تالیاں پیٹتے اور اچھل اچھل کر آسمان سر پر اٹھا کر داد دیتے اور اپنی پسندیدیگی کا اظہار کرتے۔ اس ریز گاری میں اٹھنیاں' چونیاں' نقد روپے کے سکے شامل ہوتے۔ ایسا بھی ہوتا کہ ڈائیلاگ بولتے بولتے اگر کوئی کردار مر جاتا یا مقابل اداکار اسے مار دیتا تو اس کی اداکاری سے متاثر ہو کر تماشائی ونس مور' ونس مور کے الفاظ سے اس سے یہی منظر دوبارہ ادا کرنے کی فرمائش کرتے اور مرا ہوا اداکار ایک بار پھر اٹھ کر وہی منظر اور ڈائیلاگ دوہرا دیتا جس پر تماشائی نہال ہو کر اس کی پذیرائی اس پر کرنسی کی بارش کی شکل میں کرتے۔ تاہم جی ہاں' ہر بار تو ایسا نہ ہوتا کبھی صورتحال الٹ بھی تو ہو جاتی ناں۔ یعنی ایک اداکار اپنے کردار سے انصاف نہ کرسکتا اور اس کی اداکاری اس قدر کمزور ہوتی کہ تماشائی متاثر تو کیا ہوتے الٹا انہیں غصہ آجاتا تو جو لوگ اداکاروں پر کرنسی کی بارش کرتے وہی ایسے مواقع پر گندے ٹماٹر اور گندے انڈوں کی بارش کرکے اداکاروں کو سٹیج سے بھاگ جانے پر مجبور کردیتے تھے۔ اس مقصد کے لئے تماشائی پہلے ہی سے اپنے ساتھ چھوٹی چھوٹی ٹوکریوں میں گندے ٹما ٹر اور گندے انڈے تھیٹر ہال میں لے کر جاتے اور ایسے ہی مناظر کا انتظار کرتے جب اداکار کردار نگاری میں کمزوری کا مظاہرہ کرتے۔ شنید یہ بھی ہے کہ اس مقصد کے لئے اکثر مخالف تھیٹر یکل کمپنیاں بھی اپنے ڈراموں پر رش کم ہوجانے کی وجہ سے اپنے ہی بندے گندے ٹماٹروں اور گندے انڈوں کی ٹوکریوں کے ساتھ رش لینے والے تھیٹروں میں بھجوا دیتیں جو موقع پا کر یہ ٹماٹر اور انڈے سٹیج کی جانب پھینکنا شروع کردیتے تاکہ دیگر تماشائی باہر نکل کر یہ خبریں عوام میں پھیلا دیں اور لوگوں کا رش کم ہو جائے۔ گویا بقول شاعر

اس شہر میں خود میرے ہی پیاروں کے علاوہ
میرا کوئی دشمن نہیں پیاروں کے علاوہ
گندے ٹماٹروں اور گندے انڈوں کی یہ کیفیت ہم نے بھی اپنے لڑکپن اور ازاں بعد دیکھی ہے جب گھنٹہ گھر سے آگے پل پختہ کے قریب واقع پرانی سبزی منڈی سے ہم گزر کر اپنی دکان پر جایا کرتے تو جگہ جگہ گندے ٹماٹروں کے ڈھیر نظر آتے۔ دکاندار ٹماٹروں کی ٹوکریوں میں سے یہ گندے ٹماٹر الگ کرکے راستے میں ڈال دیتے جنہیں بعد میں میونسپل کمیٹی کی لاری میں ڈال کر لے جایا جاتا۔ اس دور میں چونکہ برائلز مرغی اور فارمی انڈے بھی نہیں ہوتے تھے نہ ہی گھروں میں فریج اور فریزر ہوتے تھے اس لئے گرمیوں میں خصوصاً انڈے پڑے پڑے خراب ہو جاتے اور ضائع کردئیے جاتے۔ مگر جب سے سائنس نے ترقی کی ہے اور اب لوگ گھروں میں '' ٹھنڈی الماریوں'' میں گوشت' انڈے' سبزیاں' مشروبات وغیرہ سنبھال کر کئی کئی روز تک استعمال کرنے کے عادی ہوگئے ہیں تو ''گندے'' کے لفظ سے ان کی آشنائی ختم ہوچکی ہے جبکہ ان دنوں جس طرح ٹماٹروں او پیاز نے لوگوں کو الٹا آنکھیں دکھانا شروع کی ہے اور اوپر سے ان ٹی وی چینلز نے ہر گھنٹے ' آدھے گھنٹے کے نیوز بلٹن کے ذریعے ملک کے مختلف شہروں میں سبزیوں کے نرخوں سے عوام سے زیادہ سبزیوں کے بیوپاریوں کو خبردار کرنا شروع کیا ہے اس کے نتیجے میں مجال ہے جو کسی جگہ گندے ٹماٹروں اور پیاز وغیرہ کو زمین پر پھینکنے کی کوئی خبر آتی ہو۔ اب تو سیاسی خبروں سے زیادہ ٹماٹروں' پیاز' انڈوں اور دیگر اشیائے ضروریہ کے بارے میں نیوز بریک کی جاتی ہیں۔ ایسی حالت میں وہ جو قیام پاکستان سے پہلے اور کچھ سال بعد کے لوگ گندے ٹماٹروں اور گندے انڈوں کی ''عیاشی'' دیکھنے کے متحمل ہوتے تھے وہ آج اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ مگر اب تو خیر ماسوائے لاہور اور کراچی کے تھیٹر کا ویسا وجود بھی کہیں نہیں ہے اور اگر ہو بھی تو کب کوئی اداکاروں پر گندے ٹماٹر اور گندے انڈے پھینکنے کی عیاشی کے متحمل ہوسکتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ پورے ملک میں اشیائے ضروریہ پر مہنگائی نے جس طرح سائے کئے ہیں ان سے عوام کی جان چھڑانے کے لئے کوئی سوچ بھی نہیں رہا کیونکہ جن لوگوں کو پانامہ' حدیبیہ اور دوسرے مسئلوں سے فراغت نہیں وہ عوام کے بارے میں کیوں کر سوچ سکتے ہیں۔ وہ تو صرف بازار سے گزرتے ہیں خریداری تو ان کے ملازمین کرتے ہیں۔
دنیا میں ہوں دنیا کا طلبگار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں

متعلقہ خبریں