مسلمان حکمرانوں کے لئے جرأت ِاظہار کی دعا

مسلمان حکمرانوں کے لئے جرأت ِاظہار کی دعا

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان اپنی بات کہنے کے لئے اگر مگر کا سہارا نہ لینے والے عالمی راہنما کے طور پر مشہور ہیں۔بالخصوص مسلمانوں کے مسائل اور مشکلات پر طیب اردگان کسی خوف اور مصلحت کو خاطر میں لائے بغیر اپنی بات کہہ جاتے ہیں ۔وہ مسلمانوں کا درد رکھنے اور اس درد کے اظہارکرنے میں لمحوں کی تاخیر نہیں کرتے ۔برما میں مسلمانوں کی حالت زار پر ان کی حالیہ مہم اس جرات اظہار اور درمندی کا ثبوت ہے ۔بنگلہ دیش میں برما کی مہاجر کیمپ کے دورے کے دوران ترکی کی خاتون اول بیگم امینہ ی کے آنسو درد کے رشتوں کی طاقت کے مظہر تھے ۔ایک طرف مسلمان دنیا میں بے حس حکمرانوں کی فوج ظفر موج جو حال مست مال مست کی تصویر بنے ہوئے ہیں تو دوسری طرف مسلم اُمت کے ہر لمحہ دھڑکنے والا دل عجیب سماں پیدا کر رہا ہے ۔یوں اس غیر متوازن اور بے حس منظر میںاردگان ایک عجیب سی تنہائی کا شکار نظر آتے ہیںمگر حق بات کہنے کے لئے ایک ہجوم اور لشکر نہیں بلکہ ایک بے خوف دل درکار ہوتا ہے۔ طیب اردگان ان دنوں امریکہ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے موجود ہیں جہاں انہوں نے مختلف اسلامی انجمنوں کے زیر اہتمام تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں اور اسلام کے ساتھ عالمی سطح پر امتیازی سلوک کی حامل ایک اصطلاح کو موضوع بحث بنایا ۔اس اصطلاح پر دانشورانہ سطح پر احتجاج تو ہوتا ہے مگر حکمرانوں کی سطح پر کبھی کھل کر یوں اظہار نہیں کیا گیا ۔طیب اردگان کا کہنا تھا کہ ہم نے آج تک مسیحی دہشت گردی اور بودھ دہشت گردی کے الفاظ نہیں سنے ۔برما میں مسلمانوں کے قتل عام کو بودھ دہشت گردی نہیں کہا گیا مگر ایک مسلمان کے انفرادی فیصلے کو مغرب میں مسلمان اور اسلامی دہشت گردی یا دہشت گرد کہا جاتا ہے ۔یہ اصطلاح مسلمانوں کی توہین اور حق تلفی ہے۔رجب طیب اردگان نے اسلامی دہشت گردی کے نام سے مغرب کی ایک جدید فتنہ پرور ایجاد پر جائز گرفت کی ہے ۔اس اصطلاح کا مقصد مسلمانوں کو بطور مجموعی اور اسلام کو بطور مذہب اور تہذیب کے دہشت گردی کے ساتھ مستقل بریکٹ کرنا ہے ۔اس کے پیچھے اصل ذہن یہ ہے کہ مغربی معاشروں میںا سلام کی تیز رفتار ترویج و اشاعت اور قبولیت کے آگے نفرت کا سپیڈ بریکر نصب کیا جائے ۔مغربی دانشورو ں کی اس اصطلاح کی بھرپور تشہیر مغربی میڈیا کر رہا ہے ۔اگر امریکہ اور یورپ میں ایک مجہول الحواس مسلمان کوئی پرتشدد کارروائی کرے تو میڈیا اس پر اسلامی دہشت گردی کا واویلا کرتا ہے مگر کشمیر میں بھارتی فوج ،فلسطین میں اسرائیل ،کئی ملکوں میں امریکی اور برطانوی فوج جبکہ برما میں بودھ حکمران اور فوج مسلمانوں پر بدترین مظالم ڈھارہے ہیں مگر کہیں سے بھی یہودی دہشت گردی ،ہندو دہشت گردی ،بودھ دہشت گردی اور عیسائی دہشت گردی کی اصطلاح استعمال نہیں کی جاتی ۔اس کے قطعی برعکس ایک گمراہ ،ذہنی مریض یا ردعمل کا شکار مسلمان یا کسی گروہ کے فعل کو اسلامی دہشت گردی قرار دے دیا جاتا ہے ۔یہ ایک ملت اور تہذیب کی توہین کے مترادف ہے ۔یہ صرف دہشت گردی کی بات نہیں بلکہ مغرب نے تو مسلمانوں کے ہتھیاروں کا مذہب بھی رکھ چھوڑا ہے ۔ان کے خیال میں پاکستان کا ایٹم اسلامی بم ہے ۔یہی بم بھارت کے پاس ہو تو ہندو بم چین کے پاس بودھ بم ،امریکہ کے پاس عیسائی بم اور اسرائیل کے پاس یہودی بم نہیں کہلاتا مگر مسلمان ملک کے پاس اس بے جان اور بے زبان ہتھیار کا مذہب بھی دریافت ہوجاتا ہے ۔ان کمزور سہاروں اور ہتھیاروں کے باجودمغرب اپنے ہاں اسلام کی قبولیت کو روکنے میں کامیاب نہیں ہورہا ۔مسلمان دنیا کو مغرب کامائنڈ سیٹ بدلنے کی کوشش کرنا ہوگی ۔آج رجب طیب اردگان نے بہت کھل کر مغرب کی اس منافقت کا پردہ چاک کیا مگر مسلمان دانشوروں ،محققین ،تھنک ٹینکس ،سکالرز اور میڈیا کے وابستگان کو کسی احساس کمتری کا شکار ہوئے بغیر یہ بتانا چاہئے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا نہ ہی دہشت گردوں کا کوئی مذہب ہوتا ہے ۔دہشت گردی از خود ایک مذہب ہے ۔دنیا میں ہر جدوجہد بھی دہشت گردی نہیں کہلا سکتی ۔آج دنیا میں دہشت گردی کی جو اقسام نظر آرہی ہیں ان میں بہت سی خود مغربی سماج کی پیدا کردہ ہیں ۔القاعدہ اور داعش کے ڈانڈے مغربی منصوبہ سازوں سے ہی ملتے ہیں ۔چند دن قبل برما کے مہاجرین کیمپ میں جب سوشل میڈیا پر ترک خاتون اول کی آنسوئوں بھری تصویر موضوع بحث تھی تو پاکستان کے ایک معروف صحافی نے ٹویٹر پر اس دعا کے ساتھ تصویر شئیر کی تھی کہ خدا ہر مسلمان کو یہی در ددل عطا کرے ۔اب طیب اردگان کی اس موقف کے بعد بے ساختہ یہ دعا دل سے نکلتی ہے کہ خدا مسلمان حکمرانوں کو یہی جرات ِاظہار عطا کرے۔

متعلقہ خبریں