پلی بارگین کی مخالفت پر اتفاق تودیر کس بات کی

پلی بارگین کی مخالفت پر اتفاق تودیر کس بات کی

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور تحریک انصاف کے قائد عمران خان کا پلی بارگین کا مخالف ہونا خوشگوار اتفاق کا باعث ہے ۔ عدالت عظمیٰ بھی پلی بارگین کے طریقہ کار پر معترض ہے ۔ اس امر کے بعد اگر دیکھا جائے کہ باقی کیا بچتا ہے تو ہمارے خیال میں صرف یہی کہ جلد سے جلد ایوان میں بل لا کراس کا خاتمہ کر دیا جائے صرف اس کا نہیں بلکہ اگر ملک میں آئندہ این آر او کی گنجائش کا بھی قانون سازی کے ذریعے خاتمہ کیا جائے تو سیاسی جماعتیں اس نظر یہ ضرورت کا آئندہ استعمال نہ کر پائیں ۔ پلی بارگین کے خلاف سب سے پہلے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے آواز اٹھائی پھر عمران خان نے اس کی تائید کی اور اب وزیراعلیٰ پنجاب اس ضمن میں انہی جذبات کا اظہار کر رہے ہیں ۔ہم سمجھتے ہیں کہ پلی بارگین اور احتساب کے حوالے سے معاملات کو آگے بڑھانے کے لئے فضا ساز گار ہے ۔یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے درمیان کسی مسئلے پر بغیر رابطوں اور بات چیت کے کسی مسئلے پر غیر مشروط اتفاق رائے سامنے آیا ہے در پر دہ اس کے لئے کوئی راہ ہموار کی گئی ہو تو نہیں کہا جاسکتا۔ شفافیت اور قومی دولت لوٹنے والے ملزموں سے رقم واپس نکلوانے کا معاملہ اصولی طور پر کوئی اختلافی معاملہ نہیں اس میں جو بھی سیاسی جماعت اور حکمران اقدامات اور قانون سازی کابیڑا اٹھائیں گے عوام ان کو نظر استحسان سے دیکھیں گے ۔ ہمارے تئیں اس سے دونوں مخالف جماعتیں آغاز کریں تو یہ ان کے درمیان رابطے اور تعلقات کو معمول پر لانے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے ۔ اس اتفاق کے بعد اب معاملات کو آگے بڑھانے کے لئے مروج سیاسی طریقے اور مشاورت سے بل کی تیاری اور قانون سازی کی راہ ہموار نظر آتی ہے جس پر دیگر جماعتوں کی جانب سے اگر بھر پور تائید و حمایت نہ بھی ملے تو کم از کم اس پر تنقید کی زیادہ گنجائش نہیں ۔ اگرچہ نیب کی جانب سے پہلی مرتبہ پلی بارگین نہیں کی گئی بلکہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور سے یہ مروج ہے لیکن بلوچستان کے سیکرٹری خزانہ کی ریکارڈ توڑ بد عنوانی میں پورے ثبوتوں کے ساتھ پکڑ ے جانے کے محض سات ماہ بعد تقریبا ً چالیس ارب روپے کی بد عنوانی میں کوئی تین ارب روپے کے لگ بھگ رقم اور اثاثے واپس کر کے چھوٹ جانے کی کوشش اور نیب کی اس پر آمادگی کے بعد شدت کے ساتھ محسوس کیا گیا کہ کیا دل کھول کر لوٹنے والا ملزم اسی طرح ہڑپ مال کا کچھ حصہ واپس کر کے سزا سے بچتا رہے گا ۔یہ راستہ تو کرپشن بند کرنے اور بد عنوان عناصر کو سزا دینے کا نہیں بلکہ ان کو محفوظ راستہ دینے کے مترادف ہے ۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے سپریم کورٹ کے واضح تحفظات کے باوجود سیکرٹری خزانہ بلوچستان مشتاق احمد رئیسانی اور صوبائی مشیر خزانہ خالد لانگو کے فرنٹ مین سہیل مجید شاہ کی اربوں روپے کے کرپشن سکینڈل میں پلی بارگین کی درخواست کی منظوری اتناحیرت انگیز امر تھا کہ پاکستانی اور غیر ملکی کرنسی کے ساتھ پرائز بانڈ، سیونگ سرٹیفکیٹس گننے کے لیے اسٹیٹ بینک سے مشینیں بھی منگوائی گئی تھیں۔نیب کا یہ اقدام اس بناء پر ناقابل قبول سمجھا جانا فطری امر ہے کہ نیب جیسا تحقیقاتی ادارہ لوٹی گئی قومی دولت کی واپسی کیلئے اختیارات اور اقدامات تو قانون کے مطابق کرسکتا ہے مگر قومی خزانے سے لوٹی گئی رقم کی معافی کا کسی کے پاس اختیار نہیں ۔عدالت عظمیٰ نے بھی اسے کرپشن اور بد عنوانی کو تحفظ دینے سے تعبیر کر کے اس پر پابندی لگائی تھی یہ نرالا قانون ہے کہ اربوں روپے لوٹیں اور زیادہ حصہ رکھ کر تھوڑا حصہ واپس کر کے باقی ہڑپ کر لیاجائے۔پلی بارگین پر آمادگی ایک طرح سے اعتراف جرم ہے جو از خود اس امر کا اعتراف ہے کہ ملزم اپنے خلاف الزامات کو درست گردانتا ہے اور سودے بازی کے ذریعے رہائی کا خواہاں ہے صرف یہ کہ قومی خزانے کی لوٹی گئی کچھ نہ کچھ رقم واپس جمع ہورہی ہے کافی نہیں۔ اصل کام تو لٹیروں کو قرار واقعی سزا دلوانا ہے کہ آئندہ کسی کو قومی دولت لوٹنے اور ہڑپ کرنے کی ہمت نہ ہو ۔اس کے ساتھ ہی چیئر مین نیب کی تقرری بھی سپریم کورٹ سے کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے قبل ازیں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتفاق رائے سے چیئر مین کی تقرری کا طریقہ کار اپنا یا گیا تھا ۔ چیئر مین نیب کی تقرری کا طریقہ کار جو بھی اختیار کیا جائے مگر احتساب کا طریقہ کار درست اور خامیوں سے پاک ہونا چاہئیے اس عمل کا شکوک سے پاک اور بلا امتیاز ہونا ہی خود نیب کے ادارے کے وقار کیلئے اہم ہوگا ۔ نیب کی اب تک کی کارکردگی کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط نہ ہوگا کہ نیب اب با وقار ادارہ نہ رہا ملک میں کڑے احتساب کیلئے اس ادارے کو مضبوط بنانے اور اس کے طریقہ کا رمیں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ نیب کو بد عنوان عناصر کے ڈپیوٹیشن پر آنے کے لئے پر کشش ادارہ بنانے کی بجائے آئے ہوئے نا اہل افراد کو واپسی کا راستہ دکھانا ہوگا اور ایسے افراد کا شفاف طور پر انتخاب کرنا ہوگا جو با کردار ہونے کے ساتھ ساتھ قابلیت اور استعداد کے حامل بھی ہوں ۔

متعلقہ خبریں