افغانستان کا سہ فریقی ممالک سے شکوہ

افغانستان کا سہ فریقی ممالک سے شکوہ

افغانستان کی جانب سے ماسکو میں روس، چین اور پاکستان کے درمیان افغانستان کے حوالے سے ہونے والے اجلاس پر ناراضی کا اظہار اپنی جگہ لیکن افغانستان کو اس امر پر ضرور غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر ان کے ملک میں حالات بہتر بنانے کے لئے غور کرتے وقت متعلقہ ممالک نے ان کو نظر انداز کیوں کیا۔ اگر افغانستان اپنے معاملات میں سدھار لانے کی قوت رکھتا یا پھر وہ دوسروں کے ساتھ مل کر بہتر انداز میں ایسا کرنے کی سعی کرتا تو کوئی وجہ نہیں کہ سہ فریقی ممالک ان کو شامل مشاورت نہ کرتے۔ افغانستان کا روس اور پاکستان کے حوالے سے رویہ معاندانہ ہے اور اس کی قیادت داخلی ناکامیوں پر ان ممالک کو مطعون کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ صدر اشرف غنی نے تو افغانستان کے حوالے سے ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کے انعقاد کے موقع پر بھی پاکستان پر بے موقع الزام تراشی کا حیرت انگیز مظاہرہ کیا ایسے میں افغانستان سے کیا توقع وابستہ ہوسکتی ہے۔ بہر حال افغانستان کو شکوہ ہے کہ افغانستان پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے لیکن کابل سے کوئی بات نہیں کی گئی۔ان کا کہنا ہے کہ ہم سے مشورہ کیے بغیرافغانستان کے حوالے سے بات چیت کرنے سے افغان عوام کے لیے سوالات اٹھتے ہیں، ہم اس حوالے سے پریشان ہیں کہ اجلاس کے پیچھے کیا محرکات ہیں۔نیشنل سیکیورٹی کونسل (این ایس سی) کے اعداد وشمار کے مطابق 11 ہزار کے قریب غیرملکی جنگجو ملک میں موجود ہیں۔روس اور چین کا خیال ہے کہ امریکا غیرملکی دہشت گردگروہوں کو افغانستان میں آباد کرنا چاہتا ہے۔وزارت دفاع کے ایک ذریعے کے مطابق اس وقت 40 ہزار کے قریب جنگجو ملک میں سرگرم ہیں جبکہ افغان صدر اشرف غنی کہہ چکے ہیں کہ ماضی میں 30 سے زائد دہشت گرد گروہ افغانستان میں سرگرم تھے۔افغانستان میں رواں سال لڑائیوں کے باعث ہونے والی امواتیں 30 ہزار تک پہنچ گئی ہیں۔ افغان وزارت دفاع اور وزارت داخلہ کے اہل کاروں کے مطابق، ملک بھر میں افغان پولیس اور دفاعی افواج کی جانب سے انسداد بغاوت کی جاری کارروائیوں میں18ہزار5 سوسے زیادہ مزاحمت کار ہلاک اور12 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے۔گزشتہ برس کے مقابلے میں یہ نقصان10 فی صد زیادہ ہے۔امریکی فوج کے مطابق2015ء میں افغان قومی سلامتی اور دفاعی افواج کے تقریباً 20ہزاراہلکار زخمی ہوئے، جن میں سے5 ہزارہلاک ہو گئے۔افغانستان کی تعمیر ِنو سے متعلق خصوصی انسپکٹرجنرل کی رپورٹ کے مطابق 2016ء کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران5500 سے زیادہ افغان فوجی مختلف کارروائیوں کے دوران مارے گئے اور 10 ہزارزخمی ہوئے۔اس رپورٹ سے یہ بات بخوبی طور پر سامنے آتی ہے کہ افغانستان کے داخلی سیکورٹی کے معاملات میں بہتری کی بجائے ابتری آئی ہے اور افغانستان میں امریکی مداخلت بھی بڑھی ہے جس سے خطے کے ممالک میں تشویش فطری بات ہے۔ اس صورتحال سے نکلنے کا بہتر راستہ یہی ہوگا کہ افغانستان خطے کے ممالک سے اعتماد پر مبنی تعلقات قائم کرے ۔ امریکی اور بھارتی مداخلت و مشاورت کو ایک حد تک رکھے اور ایسے حالات پیدا کرنے سے گریز کیا جائے کہ دوسرے ممالک کو بقائے باہمی کے لئے اقدامات کی ضرورت محسوس ہو۔

صدر کے گیس صارفین کی مشکلا ت پر توجہ کی ضرورت

پشاور صدر کے مکینوں کی جانب سے گیس کی اٹھارہ گھنٹے کی بندش پر احتجاج فطری امر ہے ۔ شہری علاقوں میں صبح و شام کے اوقات میں گیس پریشر میں کمی کی شکایات توعام ہیں لیکن صدر جیسے مرکزی علاقے میں دن میں اٹھارہ گھنٹے گیس کی بندش کو معمول کی پریشر میں کمی یا لوڈ شیڈنگ کی وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ اس کی وجہ جاننے کیلئے محکمہ سوئی گیس کو فوری اقدامات کرنا ہونگے یہ ممکن نہیں کہ صدر کے مرکزی علاقے میں تین سالوں سے صارفین احتجاج کر رہے ہواور متعلقہ حکام کو اس کی جو ہات و اسباب کا علم نہ ہو ۔اس طرح کی شکایات عموماً ان علاقوں میں ہوتی ہیں جہاں سی این جی سٹیشنز ہوں اور تجارتی طور پر گیس کا بے تحاشہ استعمال ہو رہا ہو۔ اس امر کے جائز ے کی ضروت ہے کہ صدر کے مکینوں کی مشکلات کا باعث کوئی سی این جی سٹیشن اور گیس کا تجارتی استعمال نہ ہو۔ حکومت کی پالیسی کے مطابق گھریلوصارفین اولین ترجیح ہو تے ہیں اس کے بعد دیگر صارفین کی باری آتی ہے ۔ صدر کا علاقہ پہلے ہی سے گنجان آباد علاقہ تھا اور یہاں پر تجارتی استعمال کے باوجود تین سال قبل تک صارفین کو زیادہ شکایات نہ تھیں۔ اس صورتحال کے تناظر میں مسئلے کاحل تلاش کرنا چنداں مشکل نہیں ۔محکمہ سوئی گیس کے حکام کا بار بار مطالبات کے باوجود اس عوامی مسئلے پر توجہ نہ دینا از خود شکوک وشہبات کا باعث اور عوام سے سنگین مذاق ہے ۔ توقع کی جانی چاہیے کہ صدر کے عوام کے جائز مسئلے کا حکومت خصوصی نوٹس لے گی اور اس ضمن میں کمپنی کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر کے عوام کو مشکلات سے نجات دلائی جائے گی ۔

متعلقہ خبریں