قانون یا فراڈ؟

قانون یا فراڈ؟

پاکستان میں کرپشن روکنا دور کی بات ہے ابھی تو پاکستانی قوم کو یہ سمجھانا ہوگا کہ کرپشن بری چیز ہے ۔برسوں پہلے پنجاب پولیس کے سابق آئی جی اور ''جو میں نے دیکھا '' کے نام سے ایک خود نوشت کے مصنف رائو رشید کا ادا کردہ یہ جملہ آج بھی ایک تلخ حقیقت کے طور پر موجود ہے ۔رائو رشید کے انٹرویو کایہ جملہ اس وقت یاد آیا جب پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف نے پلی بارگین کے قانون کو فراڈ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کرپشن کو کنٹرول نہ کیا گیا توملک میں خونیں انقلاب آئے گا۔انہوں نے تسلیم کیا کہ چند کوڑیوں کے عوض اربوں کی کرپشن معاف کر دی جاتی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں کرپشن ہو رہی ہے جسے کنٹرول کرنا ضروری ہے۔ اس ملک اور معاشرے سے انہتر برس میں رنگ برنگے کھیل مختلف ناموں اورمختلف کرداروں کے ساتھ کھیلے گئے ہیں ۔دنیا میں سیاسی اور سماجی زندگی میں جن اصلاحات کا گزر نہیں ہوتا وہ یہاں روایتوں کی صورت میں دندناتی رہی ہیں ۔اس کھیل میں کوئی عام آدمی شریک نہیں ہوا بلکہ یہ ہمیشہ بالادست طبقات کے درمیان جاری رہا ۔عام آدمی اس کھیل کا بچہ جمہورا ہے ۔یہ کھیل سیاسی اور فوجی حکمرانی دونوں میں پوری قوت سے جاری رہا ۔بالادست طبقات کے مفادات کو تحفظ دینے کے لئے ایسی ایسی اصطلاحات گھڑی اور متعارف کرائی جاتی رہیں کہ جن کی مثال دنیا میں شاید کم ہی ملتی ہوگی ۔ایسی ہی ایک اصطلاح ''پلی بارگین ''ہے ۔جس کے تحت اربوں کی کرپشن کرنے والوں کو اس رقم کا کچھ حصہ وصول کرکے رہائی نصیب ہوتی ہے ۔حال ہی میں اس حوالے سے بلوچستان کے ایک اہم کیس کو ملک بھر میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔اس وقت کرپشن کا جادو سرچڑھ کر بول رہا ہے ۔کمیشن اور کرپشن نے معاشرے کی اخلاقی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں ۔یہ بات خوش آئند ہے کہ ملک میں کرپشن کے خلاف بھی کچھ آوازیں بلند ہو رہی ہیں ۔میاں شہباز شریف سے پہلے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ نیب کے چیئرمین کا تقرر کا اختیار سپریم کورٹ کو ملنا چاہئے تاکہ ایک غیر جانبدار احتسابی ادارہ تشکیل پاسکے ۔اب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی چوہدری نثار علی خان کے اس موقف کی تائید کی ہے ۔اگر تمام سیاسی جماعتیں ایک غیر جانبدار اور خودمختار احتسابی ادارے کے قیام پر متفق ہوجائیں تو ہر چار پانچ سال بعد ملک میں کرپشن کے نام پر تحریکیں چلنے کا سلسلہ تھم سکتا ہے کیونکہ نیب ایک با اختیار اور خودکار فورم کے تحت ایسے کیسز پر احتجاج سے پہلے ہی ہاتھ ڈالنے کی پوزیشن میں ہوگا ۔ایسی صورت میں کسی کو مظلوم بننے اور احتساب کو انتقام کہنے کا موقع بھی نہیں ملے گا ۔تاہم کرپشن کو صرف قانون سازی سے ختم یا محدود نہیں کیا جا سکتا ۔رائو رشید مرحوم کے بقول پہلے معاشرے کو یہ بتانا ناگزیر ہے کہ کرپشن بری بات ہے ۔اس وقت کرپشن معاشرے کا مقبول عام چلن ہے ۔کرپٹ عناصر معاشرے میں تنہا نہیں ہوتے بلکہ عزت وتکریم کا باعث بنتے ہیں ۔لوگ صرف پیسہ اور کروفر دیکھتے ہیں یہ نہیں دیکھتے کہ پیسہ کن ذرائع سے کمایا گیا ہے ۔اب معاشرے نے اپنے گرو پیش کرپشن کی رقم سے تعمیر ہونے والے محلات کی جانب اُنگلی اُٹھانا اورراہ سے گزرتے ہوئے اس کے مالک سے سوال پوچھنا ہی چھوڑ دیا ہے ۔گویا کہ کرپشن کے حوالے سے عمومی طورپر بے حسی کی کیفیت طاری ہے ۔ اچھا ہوا کہ نیب کچھ اداروں کے ساتھ مل کر عوام میں آگہی کی مہم بھی چلا رہا ہے ۔گزشتہ دنوں نیب اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے اشتراک سے کرپشن مخالف ایک تقریب میں شریک اور گفتگو کرکے خوش گوار حیرت ہوئی۔مشتاق رئیسانی کیس میں پلی بارگین کی تشہیر سے اس قانون کی قباحت اس حد تک کھل کر سامنے آگئی کہ شہباز شریف بھی اسے فراڈ قانون کہنے پر مجبور ہوئے۔اس کیس میںقومی احتساب بیور نے کرپشن کے مشہور زمانہ کیس میں ملزم مشتاق رئیسانی سے دوارب کے بدلے رہائی کا معاہدہ کیا ہے۔ بلوچستان کے سابق سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی پر چالیس ارب روپے کی کرپشن کا الزام تھا اور ان کی گرفتاری کے بعد ان کے گھر کے واٹر ٹینک اور کار پورچ تک سے کرنسی نوٹوں کا بڑا ذخیرہ برآمد ہوا تھا جس کی مالیت پچہتر کروڑ روپے تھی ۔ان نوٹوں کو ہاتھوں سے گننا اس قدر مشکل تھا کہ اس کام کے لئے مخصوص مشینوں کا سہارا لیا گیا تھا ۔یہی مشتاق رئیسانی کچھ عرصہ جیل میں رہے تو انہیں اس ماحول سے کچھ وحشت سی ہونے لگی جس کا علاج انہوں نے نیب سے مفاہمت کے ذریعے تلاش کرلیا ۔اب نیب نے ان کی رہائی کی درخواست منظور کردی ہے ۔گویا کہ قومی خزانے میں جمع ہونے والے دوارب ہڑپ ہونے والے چالیس ارب روپے کے لئے ہاضمے کا چورن ثابت ہوں گے۔ اس چورن کا نام ''پلی بارگین '' ہے اگرچہ ملکی قانون نیب کو پلی بارگین کی اجازت دیتا ہے مگر یہ کوئی پسندیدہ روایت نہیں ۔نیب کے چیئرمین ظاہر شاہ نے اس اقدام کے حق میں دلائل کا طومار باندھا ہے جس کے مطابق مشتاق رئیسانی پر چالیس ارب کی بجائے چھ ارب کا الزام ہے ۔انہوںنے مشتاق رئیسانی سے دو ارب کی وصولی کو نیب کی تاریخ کی سب سے بڑی وصولی کہہ کر اس کا دفاع کیا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گزشتہ چار سال میں نیب نے 45 ارب37کروڑ وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں ۔معاملہ جوبھی ہے پلی بارگین کوئی صحت مند روایت نہیں ۔اس سے قانون کی اہمیت اور افادیت ختم ہو کر رہ جاتی ہے ۔یہ تو کرپشن کے مال پر ''آدھا تمہارا آدھا ہمارا '' کے اصول کے اطلاق کے مترداف ہے ۔اگر بدعنوان عناصر کے معاملے میں یہی اصول اپنا یا جانا ہے تو پھر عدالتوں اور احتساب کے نظام کی چنداں ضرورت نہیں رہتی ۔اس سے دوسرے کرپٹ عناصر کی حوصلہ افزائی بھی ہوگی اور وہ زیادہ بے خوف ہوکر مشتاق رئیسانی کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں گے۔

متعلقہ خبریں