سقوطِ حلب اور شام کامستقبل!

سقوطِ حلب اور شام کامستقبل!

مشرق وسطیٰ میں خانہ جنگی کی آگ پہلی جنگ عظیم کے و قت استعماری دور میں بھڑکادی گئی تھی۔جس پر باقاعدہ مئی 1916 میں سائیکس پیکونامی معاہدے کے ذریعے تیل چھڑکا گیا۔ ا س معاہدے کی رو سے امریکا،برطانیہ،روس اور اٹلی نے مل کر دنیا کے معدنی وسائل سے مالا مال خطے پراپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے خلافت ِعثمانیہ کے ماتحت بحراسود اور بحر قزوین سے لے کربحرمتوسط اوربحیرہ عرب کے درمیان واقع خطے کو تقسیم کرکے اپنے ماتحت رکھنے پراتفاق کیا ۔خلافت عثمانیہ کے ماتحت ا س خطے کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے پیچھے ایک ہی سوچ کارفرما تھی کہ کس طرح ان کے وسائل پر قبضہ کیا جائے،کیوں کہ دنیا اُس وقت اس خطے میں پائے جانے والی تیل اور دیگر معدنیات سے نہ صرف واقف ہوچکی تھی بلکہ مستقبل میں دنیا میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے اس خطے کی اہمیت کو اچھی طرح جان چکی تھی۔بعدازاں دوسری جنگ عظیم میں دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں بے پناہ نقصانات سے دوچار ہوئیں۔براہ راست جنگ کے تجربے سے ان کی کمر ٹوٹ گئی تو سرد جنگ اور پراکسی وارکے ذریعے دنیا کے امن کو برباد کرنے کے لیے ان طاقتوں میں رسہ کشی شروع ہوگئی جواب تک جاری ہے بلکہ نائن الیون کے بعد اس میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔شام میں خانہ جنگی کی آگ 2011میں بھڑکائی گئی۔ عرب بہار ایسے مذموم منصوبے کے تحت شامی صدر بشارالاسد کے مظالم کے خلاف اٹھنے والی تحریک بظاہر پرامن اور برحق تھی،لیکن پھر رفتہ رفتہ اس میں داعش ایسے دہشت گردوں اور لالچ و حرص کے نام پر اسلام کا نام لے کر گمراہ کرنے والوں کے ٹولے وجود میں آتے گئے اور حق وباطل میں ایسی تلبیس ہوئی کہ نہ مارنے والے کو پتہ ہے کہ وہ حق پر ہے اور نہ مرنے والے کو یہ پتہ چل پاتاہے کہ وہ کیوں ماراگیاہے۔اگر شام میں لڑنے والے گروہوں کا مطالعہ کیا جائے توایک ہزار کے قریب جماعتیں ملیں گی،ہرکسی کا اپنا جھنڈا اور اپنا ہدف ہے۔جب کہ ہزاروں ایسے جنگجو ملیں گے جن کا شام سے کوئی تعلق ہے ،نہ شامی عوام سے انہیں کوئی ہمدردی ہے۔اس میں روس اور ایران کے ملیشیابھی شامل ہیں ۔ پچھلے چار سالوں سے حلب پر اپوزیشن جماعتوں کا کنٹرول تھا لیکن ان گروہوں کے عدم اتفاق کی وجہ سے وہ کنڑول اب ختم ہوگیا ہے۔ایک مرتبہ پھر بشارالاسد حلب پر قابض ہوگیاہے۔بشارالاسد کے اس قبضے کے بعد حلب میں ظلم وبربریت کی نئی داستان رقم ہونے والی ہے۔سقوطِ حلب اوربشارالاسد کو اب تک ہٹائے نہ جانے کے پیچھے بہت سے عوامل کارفرماہیں۔ بنیادی طور پر بشار کے خلاف لڑنے والی اپوزیشن جماعتوں کا منتشرہونا اور ان کے درمیان باہمی اتفاق کا نہ ہونا ہے۔اگرچہ شامی اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کے لیے پانچ سالوں میں کئی کوششیں ہوچکی ہیں،لیکن اب تک کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوسکی۔یہی وجہ ہے کہ ہربارانہیں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتاہے۔اپوزیشن جماعتوں کے پاس ایک ہی حل باقی ہے یاتو وہ متحد ہوکربشارالاسد کا محاسبہ کریں یا پھر خاموشی سے بیٹھ جائیں۔ورنہ ان کے باہمی اختلافات سے ایک طرف شامی عوام کا نقصان ہورہاہے ،دوسری طرف داعش جیسے دیگر دہشت گردوںاور روس وایران کو شام میں مضبوط ہونے کا موقع مل رہاہے۔حلب پر بشار کے کنٹرول کے بعد سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیابشارالاسد دیگر شامی علاقوں پر داعش اور اپوزیشن جماعتوں سے قبضہ چھڑا پائیں گے؟جواب سے پہلے شام کی موجودہ صورتحال کو سامنے رکھنا بہت ضروری ہے۔اس وقت شام کے اکثریتی حصے پر ''الشرق الاوسط ''کی رپورٹ کے مطابق داعش کا کنٹرول ہے،جب کہ25 فیصد پر بشارالاسد کی گورنمنٹ کا جب کہ باقی کے حصے پر اپوزیشن جماعتوں اور دیگر گروہوں کا کنٹرول ہے۔دمشق جو کہ بشارالاسد کے کنٹرول میں ہیں وہاں بھی داعش بعض جگہوں پر قابض ہے۔حلب میں اپوزیشن جماعتوں سے قبضہ چھڑانے اور پچھلے چارسالوں سے داعش کے خلاف کوئی بڑا اقدام نہ اٹھانے سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ بشار الاسد کی اصل لڑائی اپوزیشن جماعتوں سے ہے اور اب تک بشار کی ساری توانائی ان کے خلاف ہی استعمال ہوتی رہی ہے۔دوسری طرف بشار الاسد کی شامی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مڈبھیڑ سے فائدہ داعش کو ہورہاہے،جو رقہ شہر سے نکل کر حلب،ادلب اور ترکی کی طرف بڑھ رہی ہے۔حیرت انگیز طور پر بشارالاسد اور ان کے حلفاء کی توجہ ان کی طرف نہیں ہے۔جس کا واضح مطلب ہے کہ داعش اور بشارالاسد کے درمیان خفیہ مفاہمت ہے یا پھر ان کا مقصد شام کے اصلی باشندوںجو بشارکے خلاف ہیں ان کے خلاف مل کر لڑنا ہے۔یہی وجہ ہے کہ روس اور ایران بشارالاسد کے ساتھ مل کر شامی اپوزیشن جماعتوں کے زیر کنٹرول علاقوں پر تو بمباری کررہے ہیں لیکن رقہ ،حمص اور دیگرداعشی علاقوں پر ابھی تک کوئی خاص کارروائی نہیں کی گئی۔ان علاقوں میں روس تنہا امریکہ کوداعش کے ساتھ الجھتاہوا دیکھ کر شاید اپنا بدلہ لے رہاہے۔لیکن بہرحال ایک دوسرے کو نیچادکھانے سے نقصان شامی عوام کا ہورہاہے اور شام کا مستقبل بھی تاریک نظر آرہاہے۔جس کا اندازہ حلب کے سقوط کے بعدروسی صدر پیوٹن کے اس سرکاری فرمان سے لگایا جاسکتاہے جس میں شام کے شمالی شہر طرطوس میں واقعے روسی فوجی اڈے میں توسیع کی جائے گی تاکہ بحیرہ روم میں موجود روس کے واحد بحری اڈے کو جدید جنگی جہازوں اور ہتھیاروں کے قابل بنایاجاسکے۔

متعلقہ خبریں