ہمارے مسائل کا بھی ذکر کیجئے

ہمارے مسائل کا بھی ذکر کیجئے

ہفتہ ایک پہلے تک میڈیا پر پاناما لیکس کے چرچے تھے' موسم سرما کی چھٹیوں میں عدالتیں بند ہوگئیں تو اس کے ساتھ ہی پانامہ لیکس کا مسئلہ بھی جسے قوم کی موت اور زندگی کا مسئلہ بنا کر پیش کیا جاتا رہا اچانک پس منظر میں چلا گیا۔ اب پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین یا پھر چیئر مین جن کے اصلی منصب کو جاننے کی ہم نے قطعاً کبھی کوشش نہیں کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ تو جب سے وہ وطن تشریف لائے ہیں اب ان کے حکومت کے خلاف تحریک چلانے پر بحث و تمحیث کا سلسلہ چل نکلا ہے۔ آپ ٹیلی وژن کا کوئی بھی چینل کھول کر دیکھیں ہر جگہ صرف یہی ایک بات آپ کو سننے کو ملے گی کہ پی پی پی کے شریک چیئر مین یا پھر چیئر مین کی آمد سے ہمارے ملک کی سیاست کیا رخ اختیار کرے گی۔ ٹی وی کے ٹاک شوز میں ہم نے عوامی نوعیت کے کسی مسئلے پر اس دوران کوئی بات نہیں سنی۔ عوامی مسئلے سے ہماری مراد یہ ہے کہ موسم گرما میں اگر بجلی نہیں ہوتی تو سردیوں میں گیس کیوں غائب ہوجاتی ہے' جی نہیں' یہ کسی جماعت کی قیادت کا مسئلہ ہی نہیں رہا تو پھر اس پر بحث کی کیا ضرورت ہے۔ ہمیں تو آج تک یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ ہمارے لئے کس قسم کی جمہوریت موزوں رہے گی جس سے ہماری اپوزیشن کو سکون آجائے اور وہ عوام کو یہ بتا سکے کہ اصلی جمہوریت یہ ہے جس کی بحالی کے لئے ہم نے سردھڑ کی بازی لگا رکھی ہے۔ یہاں بنیادی جمہوریت کا نسخہ آزما گیا' مارشل لائی جمہوریت کا دور عوام نے دیکھا لیکن ان سب تجربوں کے باوجود ہماری اپوزیشن کو چین نصیب نہیں ہوا اور وہ اب بھی سوتے جاگتے حقیقی جمہوریت کا راگ الاپنے سے باز نہیں آتی۔ ایک تو ہماری اپوزیشن کو اقتدار والوں سے خدا واسطے کا بیر ہے تو اقتدار والوں نے بھی یہ مصمم ارادہ کر رکھا ہے کہ وہ اپنی تمام توانائیاں قومی بہبود کے کسی کام پر صرف کرنے کے بجائے اپوزیشن کو نیچا دکھانے میں ضائع کرے گی۔ حالیہ دنوں میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ کم و بیش تمام وفاقی وزراء اپنی وزارتوں پر توجہ دینے کی بجائے اپنی پارٹی کی قیادت پر لگائے گئے الزامات کی صفائی میں لگے رہے اور اس ضمن میں وہ نکتے سامنے لائے جن کا علم ان کی قیادت کے فرشتوں کو بھی نہ ہوگا۔ ہمارے یہاں تو ایک دستور بن گیا ہے کہ جس دن کوئی سرکار حلف اٹھا کر حکومت کی ابتداء کرتی ہے عین اسی روز سے اپوزیشن کی دھمکیاں بھی شروع ہو جاتی ہیں۔ بیانات چلنے لگتے ہیں دوسرے روز ہی اعلان ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے پہلے تو الیکشن میں دھاندلی کی اور پھر جوڑ توڑ سے بھان متی کا کنبہ جوڑا اور اقتدار پر قبضہ جما لیا۔ حقیقی جمہوریت کے داعی تو ہم ہیں۔ ہمارے منشور میں قوم کے مسائل کے حل کی ضمانت موجود ہے۔ یہ تو چور دروازے سے اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوئے ہیں۔ ان کو اگر فوری طور پر رخصت کرکے اقتدار ان کے حوالے نہیں کیا گیا تو قوم کی تباہی کے امکانات روشن تر ہوتے جائیں گے۔ چنانچہ جتنی جلد ممکن ہو سکے قوم کو ان کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہئے۔ حکومت کی تبدیلی کے لئے پہیہ جام ہڑتال کی کال آتی ہے' دو ایک شہروں میں عوام کو مصیبت میں مبتلا کرنے کے بعد جب کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوتا تو لانگ مارچ کی دھمکیاں آتی ہیں۔ اس کی ناکامی پر دھرنا دینے کا مجرب نسخہ آزمانے کی تڑی دی جاتی ہے اس طرح ملک کے سیاسی افق پربے یقینی کا ایک ایسا دھند ہمیشہ چھایا رہتا ہے کہ عوام بے چارے فیصلہ ہی نہیں کر پاتے کہ سچ کیا ہے اور اس میں جھوٹ کی آمیزش کتنی ہے۔ ہم اس موضوع پر کوئی سنجیدہ بحث چھیڑنا نہیں چاہتے کہ سیاست ہمارا میدان ہی نہیں طبقہ عوام سے ہونے کے ناطے ہمارا تو مسئلہ گرمیوں میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہے۔ سردیوں میں گیس کی قلت کو دور کرنا ہے۔ ٹریفک جام کے مسائل پر توجہ دینا ضروری ہے۔ جعلی ادویات کا سد باب کرنا ہے۔ ہسپتالوں میں یہ جو آئے روز ڈاکٹروں کی ہڑتال کی وجہ سے ہمیں جن اذیتوں سے گزرنا پڑتا ہے اس کا کوئی مستقل حل تلاش کرنا ہے۔ میرٹ پر کام کرنے کا کلچر عام کرنا ہے لیکن اگر آپ دیکھیں تو ہماری کسی سیاسی جماعت کی ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی میں ان مسائل کا کہیں ذکر نہیں ہوتا۔ قوم کو ایک دوسرے پر الزامات کی چسکے دار کہانیوں میں مصروف کرکے ان کے حقیقی مسائل سے ہمیشہ چشم پوشی کی جاتی ہے۔ ایک دوسرے پر یہود و ہنود کے ایجنٹ ہونے کے الزامات لگتے ہیں تو کسی کے لئے کرپشن کی ٹیم میں' کپتان اور نائب کپتان کے عہدے تجویز کئے جاتے ہیں۔ پانامہ لیکس کی تحقیقات کرانے سے قوم کو انکار نہیں لیکن وہ جب دیکھتی ہے کہ 40ارب کے گھپلے میں ملوث ایک سرکاری ملازم 2ارب دے کر چھوٹ جاتا ہے تو ان کے لئے پانامہ لیکس میں دولت کی کمائی پر کچھ زیادہ حیرت نہیں ہوتی۔ کچھ ہمارے مسائل کا بھی ذکر کیجئے۔ قوم کے مسائل پر توجہ دیجئے تاکہ اصلی جمہوریت کا یہی تقاضا ہے۔ کیا میں نے جھوٹ بولا؟۔

متعلقہ خبریں