گدھا طواف کر کے بھی حاجی نہیں بنتا

گدھا طواف کر کے بھی حاجی نہیں بنتا

ایبٹ آباد جاتے ہوئے ہری پور سے آگے جائیں تو ایک مقام آتا ہے جسے کھوتا قبر کہتے ہیں ، اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جس زمانے میں سید احمد شہید بریلوی اور شاہ اسماعیل شہید اس علاقے میں سکھوں کے خلاف بر سر بیکار تھے تو مسلمانوں نے پیغام رسانی کے لئے ایک گدھے کو استعمال کیا تھا ، وہ اس گدھے کے اوپر پڑے بورے کے اندر پیغام چھپا کر اسے دوسری جانب ہانک دیتے ، درمیان میں سکھوں کے جتھے ہوتے ، وہ ایک گدھے کو جاتے دیکھتے تو کوئی خیال نہ کرتے ، اور یوں یہ پیغامات ایک جانب سے دوسری جانب اور پھر جوابی پیغامات سے مسلمان اپنی جنگی حکمت عملی ترتیب دے کر سکھوں کے جتھوں کو نقصان سے دو چار کرنے میں کامیاب ہوجاتے ، بالاخر اس پیغام رسانی کاسکھوں کو احساس ہو گیا اور جس مقام پر کھوتا قبر ہے اسی جگہ گدھے کو مار دیا ۔ بعد میں مسلمانوں نے اسی جگہ گدھے کو دفن کر کے اس کی قبربنائی ، گویا اس گدھے کی جنگی خدمات کا اعتراف کیا ۔یہ قبر آج بھی قائم ہے اور مسلمانوں کی ضعیف الاعقادی کی وجہ سے لوگ وہاں ایک مدت تک منتیں مانگتے رہے ۔ حالانکہ ایک گدھے کی حقیقت اور اصلیت کے حوالے سے دنیا جانتی ہے اور بعض بزرگوں نے تو اس حوالے سے بہت کچھ کہا بھی ہے مثلا ً رحمن بابا نے کیا خوب کہا ہے کہ 

دکعبے پہ بزرگئی کے سہ شک نشتہ
چرے خربہ حاجی نہ شی پہ طواف د بیت اللہ
اس پشتو کا اگر سادہ اور لطیف پیرائے میں ترجمعہ کیا جائے تو کچھ ایسا ہونا چاہیئے کہ
گو عظمت کعبہ میں کوئی شک نہیں لیکن
گدھا طواف کر کے بھی حاجی نہیں بنتا
یہ سب کچھ یا دآنے کی وجہ یہ ہے کہ پارہ چنار ڈیٹ لائن سے ایک خبر چھپی ہے کہ افغانستان سے کر م ایجنسی میں گدھے کے ذریعے بارودی مواد پہنچا نے کی کوشش فورسزنے ناکام بنا دی اور بارود سے لدا گدھا فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا ۔ ذرائع کے مطابق افغانستان کے صوبے پکتیا سے دہشت گرد ایک گدھے پر بارودی مواد کر رم ایجنسی پہنچا نے کی کوشش کر رہے تھے کہ خر لاچی چیک پوسٹ پر فورسز کو شک گزرا ، اس دوران گدھے کے ساتھ آنے والا دہشتگرد افغانستان کی طرف بھا گ گیا جبکہ گدھے پر فورسز نے فائرنگ کر دی جس سے گدھے پر لدا بارود دھما کے سے پھٹ گیا یوں پاکستانی حدود میں بارودی مواد لانے کی کوشش ناکا م بنا دی گئی ۔ اور بے چارہ گدھا انسانوں کی غلط سوچ کی بھینٹ چڑ ھ گیا ۔ یعنی اگر وہ گدھا نہ ہوتا تو بارود لانے والے کو ایسا کرنے سے ضرور منع کرتا ۔ بقول جو ہر میر
نہ ہوا کام جو درندوں سے
آدمی کے درندگی سے ہوا
مشرق اور مغرب میں گدھے کے حوالے سے سوچ وفکر میں بعد المشرقین ہے یعنی گدھے کے حوالے سے ہمارے ہاں جو سوچ کار فرما ہے اور ہم گدھے کو گدھا ہی سمجھتے ہیں اس لیئے ہر نالائق شخص کو ہمارے ہاں گدھے سے ہی موسوم کیا جاتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ جب اوپر کی سطور میں درج اشعار پر غور کیا جائے تو گدھے کی وقعت کھل کر سامنے آجاتی ہے ، مگر علی الرغم اس کے اہل مغرب گدھے کو صرف اس لئے اہمیت دیتے ہیں بلکہ اسے عقلمند ی کا سمبل بنا کر رکھا ہے کہ حضرت موسیٰ بھی سواری کے لئے گدھا استعمال کرتے تھے اور اسی حوالے سے پہلے یہودی اور بعد میں عیسائیوں نے گدھے کو اہمیت دی ، یہی وجہ ہے کہ نہ صرف پشتو کے عظیم صوفی شاعر رحمن بابا بلکہ شیخ سعدی نے بھی اہل مغرب کی سوچ پر گہر ا طنز کیا ہے ۔ عیسائیوں کے ایک مذہبی پیشوا یعنی پادری نے مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگوں میں عیسائی عوام اور مختلف عیسائی ممالک کے بادشاہوں کو بھر پور حصہ لینے کے لئے گدھے پر بیٹھ کر آمادہ کرنے کی غرض سے طویل سفر کیا ، تاکہ بیت المقدس کو مسلمانوں سے آزاد کرایا جا سکے ۔ ذکر گدھے کا ہو رہا تھا اور اہل مغرب اپنے حوالوں سے گدھے کو جو اہمیت دیتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ کی دو جماعتوں میں سے ایک یعنی ڈیموکریٹک پارٹی کا انتخابی نشان بھی گدھا جبکہ ری پبلکین پارٹی کا انتخابی نشان ہاتھی ہے ۔ گزشتہ آٹھ سال سے امریکہ پر ''گدھوں '' کی حکومت ہے اور 20جنوری کو ہاتھی اقتدار سنبھا ل لے گا ۔ دنیا کو روند تا ہوا آگے بڑھتا جائے گا مگر یہ '' گدھے '' اور ہاتھی تاریخ کے واقعات کو غور سے نہیں پڑھتے ۔ ایک واقعہ توبرصغیر سے متعلق ہے جب پورس کے ہاتھیوں نے اپنے ہی فوجوں کو پائو ں تلے روند دیا تھا ، دوسرا واقعہ توبعثت رسول ۖ سے تھوڑا عرصہ پہلے کا ہے جس کی گواہی اللہ رب العزت نے سورہ فیل میں بیان فرما دیا ہے اور ہاتھیوں کی طرح چنگھاڑنے والے ہر مغرور فرد یا قوم کے لئے اس واقعے میں بڑا سبق پوشیدہ ہے ، شرط صرف یہ ہے کہ وہ اس سے سبق سیکھنا چاہے ، اس حوالے سے راقم نے ایک شعر میں حقیقت بیان کی ہے ۔
معجزہ تھا کنکر کا فیل فیل خاموشی
ایک بے چارے گدھے کو دہشت گردی کے لئے استعمال کرنے والے سفاک دہشتگردوں کو اتنا ضرور سوچنا چاہئے کہ بے زبان جانوروں کے ساتھ صلح رحمی کا حکم تو نبی کریم ۖ نے بھی دیا ہے ، مگر جانوروں کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہوئے ان دہشت گردوں کو ذرہ بھر رحم بھی نہیں آیا۔ خودکش دھماکوں کیلئے معصوم بچوں کو استعمال کرنے کے بعد اب یہ لوگ جانوروں تک کو جس بے رحمی سے دہشت گرد کارروائیوں کیلئے استعمال کر رہے ہیں یقینا قیامت کے روز اس بے رحمی بلکہ سفاکی کا جواب بھی انہیں دینا پڑے گا ۔ علامہ اقبال نے کچھ غلط تو نہیں کہا تھا
دوزخ کی کسی طاق پہ افسردہ پڑی ہے
خاکستر اسکندر و دارا و ہلاکو

متعلقہ خبریں