پیپلز پارٹی کا ٹائم بناؤفارمولہ

پیپلز پارٹی کا ٹائم بناؤفارمولہ

مدت ہوئی اب تولوکل پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر نہیں کیا وجہ یقیناوقت کی کمی اور ٹرانسپورٹ کی بری حالت ہے ۔ ہمارا پشاورشہر اتنا بدقسمت ہے کہ جس میںکوئی ٹرانسپورٹ کا نظام موجود نہیںہے ۔شہر کو چنگ چی ، سوزکی پک ،مزدوں اور رکشہ و ٹیکسی کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ شہر حق رکھتا ہے کہ اس میں ایک سے زیادہ ٹرانسپورٹ سسٹم ہوتے لیکن بے حسی کا کوئی حل نہیں ہوتا ۔کسی زمانے میں جی ٹی ایس سروس تھی جسے قتل تو کردیا لیکن نئی سروس بنانے کی کسی کو نہیں سوجھی ۔اس موضوع پر پھر کبھی کچھ لکھیں گے فی الوقت تو ہم موجودہ سیاسی رسہ کشی پر اظہار خیال کے موڈ میں ہیں ۔ لوکل ٹرانسپورٹ میں کنڈیکٹر ایک آواز لگاتا ہے کہ ''استاد جی ٹیم جوڑ کہ''یعنی استاد ٹائم بناؤ۔ہم نے ایک کنڈیکٹر سے پوچھ ہی لیا کہ اس کا مطلب کیا ہے تو جواب ملا کہ جب ہماری گاڑی سے آگے کوئی گاڑی جارہی ہوتو ہم اس گاڑی کو موقع دیتے ہیں کہ وہ اگلے سٹاپ کی سواریاں اٹھا لے۔ ہم اپنی رفتار آہستہ کرلیتے ہیں اور اس گاڑی کے سٹاپ چھوڑنے کے بعد اس سٹاپ پر پہنچتے ہیں۔فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد آنے والی سواریاں بھی ہمیں مل جاتی ہیں اورہمیں سٹاپ پر رکنے ؤکا موقع بھی مل جاتا ہے ۔ پاکستان کا موجودہ سیاسی منظر نامہ بھی مجھے ٹائم بناؤ فارمولہ لگتا ہے۔ ہمارے مسائل اتنے زیادہ ہیں کہ جو بھی حکومت آتی ہے عوام اس سے کبھی بھی خوش نہیں ہوتی اور الیکشن میں حزب اختلاف کی پارٹیوں کو اپنی سیاست میں سکور کرنے کے بہت سے مواقع مل جاتے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کی حکومت میں لوڈ شیڈنگ کا جن کسی طور قابو میں نہ لایا جاسکا۔اوپر سے کرپشن کے الزامات اور بدامنی کی ابتر صورتحال نے نون لیگ کو ایک بڑا موقع دیا کہ سیاسی طور پر کامیاب ہوسکے ۔ اس موقع پر پی ٹی آئی بھی امیدیں لگارکھی تھیں ۔لیکن میاں شہباز شریف کی ابتر صورتحال میں پنجاب میں کارکردگی نے نون لیگ کے سٹانس کو مضبوط کیا اور پنجاب میں بالخصوص زیادہ سیٹیں لے کر اقتدار میں آگئی ۔ اس صورتحال کے پیش نظر پیپلز پارٹی بظاہر ہائبر نیشن میں چلی گئی ۔ سرد علاقوں کے بعض جانور شدید سردیوں میں ہائبرنیشن میں چلے جاتے ہیں ۔( ہائبرنیشن ایک قسم کی نیند ہوتی ہے کہ جس میں جسم کے تمام سسٹم معطل ہوجاتے ہیں ۔لیکن سردیوں کے اختتام کے بعد یہی جانور دوبارہ زندہ ہوجاتے ہیں )نون لیگ کو اس سارے عرصے میں تحریک انصاف نے نکیل ڈالی رکھی ۔دھرنے کے دوران تو یہ بھی محسوس کیا گیا کہ نون لیگ کی حکومت جانے والی ہے ۔ قسمت نے نون لیگ کی یاوری کی اور وہ بہت سے بحرانوں سے باہر نکل ہی آئی ۔ اس دوران پیپلز پارٹی کی بھاگ دوڑ نوجوان بلاول کے کندھوں پر آگئی اور جیسے تیسے وہ اس پارٹی میں نئی روح پھونکتے رہے ۔نون لیگ نے تحریک انصاف کو کاؤنٹر بھی کیا اور ایگزاسٹ بھی کیا ۔ عمران خان نے اس دور میں بہت سی غلطیاں بھی کیں اور بہت سے موقع ضائع بھی کیے ۔ اس کا براہ راست فائدہ نون لیگ کو ہی ہوا لیکن بالواسطہ فائدہ پاکستان پیپلز پارٹی کو ہوا۔ سابق صدر زرداری ایک بڑی سیاسی اننگز کھیلنے کے بعد اٹھارہ مہینے سیاسی منظر سے ہٹے رہے ۔ایان علی اور ڈاکٹر عاصم کا معاملہ شروع میں اتنی شدت اختیار کرگیا تھا کہ ان کے لیے سیاسی میدان میں رہنا مشکل تھا ۔ان اٹھارہ مہینوں میں بلاول سیاسی پچ پراچھا کھیلے اور پارٹی کو بہت سے بحرانوں سے باہر بھی نکال لائے ۔ اب زرداری صاحب واپس آچکے ہیں ۔ پی ٹی آئی اپنے سارے پتے کھیل چکی ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی سیاسی میدان میں کیاکرتی ہے ۔ کیونکہ اب اس کا مقابلہ صرف نون لیگ سے نہیں ہے بلکہ پی ٹی آئی بھی ایک بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے ۔ بلاول نے کراچی میں ایم کیوایم کے مینڈیٹ کو حاصل کرنے کے لیے ایک مثبت کام تو یہ کیا کہ اپنے دیرینہ وزیر اعلیٰ کی جگہ نیا وزیر اعلیٰ تعینات کیا اب اس کے کیا اثرات آتے ہیں کیا پیپلز پارٹی سندھ میں آئندہ الیکشن میں اپنے اہداف حاصل کرسکتی ہے یا نہیں اس کا فیصلہ تو الیکشن ہی میں ہوگا ۔ البتہ بلاول نے پارٹی کی اوورہالنگ میںاچھا کام کیا ہے ۔اس موقع پر پی ٹی آئی کی آئندہ الیکشن میں کوئی حکمت عملی بظاہر دکھائی نہیں دیتی ۔ پانامہ لیکس میں وہ جا ن نہیں رہی کہ اس پر میاں صاحب کی حکومت گرائی جاسکے ۔ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کوئی ایسا بڑا کام بھی نہیں کرپائی کہ جس سے کہا جاسکے کہ دوسرے صوبوں کے لوگ آئندہ الیکشن میں پختونخوا کو مثال بنا کراسے ووٹ دیں ۔جبکہ خود خیبر پختونخو امیں اے این پی آہستہ آہستہ اپنی قوت کو مجتمع کررہی ہے اور اس پارٹی کی جڑیں بھی تو بہت پرانی ہیں۔پی ٹی آئی کو صوبائی الیکشن میں اے این پی سے سخت مقابلہ کرنا پڑے گا۔ پنجاب میںاس وقت نون لیگ کا ہولڈ ہے۔ بلاول نے پنجاب میں پارٹی کی ساکھ بحال کرنے کے لیے کوشش کی ہے لیکن میاں شہباز شریف نے وہاں نون لیگ کا جو حصار بنا رکھا ہے اسے مشرف نہیں توڑ سکے تھے تو بلاول کے لیے تو اس بھی مشکل کام تھا ۔ پیپلز پارٹی کے اچھا موقع ہے کہ وہ اس وقت کو کیش کرسکے ۔ پختونخوا میں اب بھی کافی ویکیوم ہے ۔یہاں اچھی لیڈرشپ سے وہ اپنے جیالے کو واپس لاسکتے ہیں ۔ 2018کے الیکشن تک سیاسی منظر نامہ کتنا تبدیل ہوچکا ہوگا اس کے بارے میںصرف اندازے ہی لگائے جاسکتے ہیں ۔ سیاست میں کامیابی بھی اسے ہی ملتی ہے جو ٹھیک ٹھیک اندازے لگا سکے ۔ دیکھتے ہیں کون سی پارٹی مستقبل کے صحیح اندازے لگاتی ہے ۔

متعلقہ خبریں