نفرت کی فضا پیدا کرنے سے اجتناب کی ضرورت

نفرت کی فضا پیدا کرنے سے اجتناب کی ضرورت

سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والے پنجاب پولیس کے ایک مبینہ ہدایت نامہ کو خیبر پختونخوا کے باشندوں کے حوالے سے نفرت آمیز قرار دے کر جو نفرت انگیز مہم شروع کی گئی ہے اس کا کئی وجوہات کی بناء پر کوئی جواز نہیں۔ اولاً یہ کہ یہ سرکاری طور پر تقسیم ہونے والا سرکلر نہ تھا نہ ہی پنجاب پولیس کے لیٹر پیڈ اور نہ ہی اس ہدایت نامے پر مہر اور عہدے کی وضاحت کے ساتھ دستخط کئے گئے تھے۔ اولاً جو ہدایت نامہ شیئر ہوا تھا اس پر تو سرے سے کسی کے دستخط ہی نہیں تھے دوسرے میں دو افراد کے دستخط موجود ہیں مگر یہ معلوم نہیں کہ ان کا عہدہ کیا ہے اور انہوں نے کس حیثیت میں اس کا اجراء کیا ہے اور اگر بالفرض محال کسی علاقے میں ایسا ہوا بھی ہے تو پست درجے کے پولیس اہلکاروں کی زبان دانی اور الفاظ کے چنائو کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اس سے قبل کہ ہم اسے مبینہ طور پر نفرت انگیز قرار دینے کا جائزہ لیں نفرت کے پجاریوں سے استفسار یہ کرنا ہے کہ کیا خیبر پختونخوا میں چادر اوڑھے اور کچھ تبدیل شدہ حلیے کے افراد کو مشکوک نہیں گردانا جاتا اور پولیس ان کو جگہ جگہ روک کر تلاشی نہیں لیتی۔ کیا خیبر پختونخوا میں شہریوں سے شناختی دستاویزات طلب نہیں کی جاتیں۔ خیبر پختونخوا میں پختون پولیس اہلکار بصد مجبوری حفاظتی اقدامات اور شہریوں کے تحفظ کی خاطر جن اقدامات پر مجبور ہیں اگر پنجاب میں پولیس اسی طرح کا طرز عمل اپنائے تو اس میں نفرت کا پہلو کہاں نکل آیا؟ جہاں تک من حیث المجموع پولیس خواہ وہ خیبر پختونخوا پولیس ہو یا پنجاب پولیس پولیس پولیس ہوتی ہے اور پولیس جس شہری کو روکے شہری نے اس کا برا ماننا ہی ہے اگر صوبے کے ارکان اسمبلی اور قیادت کو عوام کی یہ ہتک منظور نہیں تو خیبر پختونخوا میں پولیس چیکنگ کے خاتمے کا اعلان کیا جائے۔ اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہونا چاہئے کہ بعض علاقوں کے لوگوں کو خاص طور پر شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور بعض علاقے کے لوگوں کی شکل و صورت دیکھ کر ہی اطمینان کرلیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر خیبر پختونخوا میں چترال کے باشندوں سے عموماً پولیس تعرض نہیں کرتی جبکہ قبائلی باشندوں سے تعرض معمول کی بات ہے۔ اسی طرح پشاور کے بعض مضافاتی علاقوں کے لوگوں سے بھی پولیس تفصیلی تفتیش کرتی ہے۔ کیا ضرورتاً اور مجبوری کے تحت ہونے والی اس کارروائی کو ہم قبائلی بھائیوں اور صوبائی دارالحکومت کے مضافاتی علاقوں کے عوام سے نفرت و حقارت کا سلوک گردان کر اس پر احتجاج کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان علاقوں کے لوگ اس کو نفرت و حقارت سے ہی تعبیر کرتے ہیںمگر انتظامیہ کی اپنی معروضات ہیں۔ خیبر پختونخوا میں کسی قبائلی بھائی کے خیالات و شکایات اور ان کا انداز فکر عام لوگوں سے مختلف ہی نکلیں گے۔ مستزادحلیے اور وضع قطع کے حامل افرادکی بھی اپنی شکایات ہیں۔ بہر حال بد اچھا بدنام برا والا معاملہ ضرور ہے جسے نفرت و انتشار کی طرف لے جانے کی ضرورت نہیں۔ سوشل میڈیا پر مختلف قسم کا مواد شیئر ہوتا ہے اور مختلف النوع خیالات کا تبادلہ بھی ہوتا ہے جسے ایک بحث کی حد تک ہی رکھنا اور نفرت کی بنیاد نہ بنانا ہی احسن ہوگا۔ الایہ کہ توہین دین و ملت کا سنگین ارتکاب نہ کیاگیا ہو۔ سوشل میڈیا پر ملک مخالف افراد کی گرفتاری اور تیرہ اکائونٹس کا تعلق بھارت سے نکلنے کے بعد بھی اگر ہمارے اکابرین اس پروپیگنڈے کو وقعت دیتے ہیں تو اس کا ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ جہاں تک حکومت پنجاب کے پختونوں کے حوالے سے گردش کرنے والی افواہوں پر موقف اور رد عمل کا تعلق ہے ان کا کہنا ہے کہ پنجابی اور پٹھان یک جان دو قالب ہیں اور پختونوں کے حوالے سے تعصب کی باتیں منفی پروپیگنڈا ہیں۔ ایک ایسے وقت جب ملک میں رد الفساد آپریشن جاری ہے اس دوران کسی بھی قسم کی قومی و علاقائی و مذہبی منافرت انگیزی بھی فسادہی کے زمرے میں شمار ہوگا۔ منافرت کا ہر اقدام اور ہر جملہ فساد اور فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے خواہ وہ سنگین حالات میں ہو یا پھر عام حالات میں۔ دشمن ہمیں آپس میں مذہب' برادری' مسلک اور نہ جانے کن کن طریقوں سے لڑانے کی سعی میں ہے اور ایسے میں ایک ایسی سہو کو ایشو بنا کر منافرت کا بیو پار کرنے لگے ہیں جس کی کوئی بنیاد نہیں۔ اسے زیادہ سے زیادہ الفاظ کے چنائو میں عدم احتیاط اور نا سمجھی ہی گردانا جاسکتا ہے نہ کہ اسے تعصب اور نفرت پھیلانے کا ذریعہ بنا کر خواہ مخواہ پیالی میں طوفان کے مصداق کام کیا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک خاص ذہنیت اور مقصد کے لوگ ہی تعصب کو ہوا دے رہے ہیں جس سے سادہ لوح افراد کا متاثر ہونا فطری امر ہے۔ اس امر سے انکار کی گنجائش نہیں کہ وفاق اور پنجاب سے خیبر پختونخوا کو شکایات ضرور ہیں لیکن ان نا انصافیوں اور محرومیوں کو اسی انداز سے اٹھانے اور مناسب پلیٹ فارم پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ غلط فہمیوں پر مبنی معاملات کے کوئی شواہد نہیں ہوتے اور افواہوں کے بھی جھوٹ کی طرح پائوں نہیں ہوتے ۔ پنجاب حکومت کے ترجمان کی وضاحت کے بعد اس معاملے کو اصولی اور اخلاقی طور پر ختم ہوجانا چاہئے یہ وقت در گزر کرنے اور اتحاد و اتفاق سے اغیار کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کا ہے نہ کہ جانے انجانے ان کا آلہ کار بنا جائے جو سیاسی عناصر اس موقع کو اپنے مقاصد کے لئے اچھالنے کی تیاری میں ہیں ان سے گزارش ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور نفرتوں کا پرچار بند کریں۔ امن و امان کی صورتحال میں بعض اوقات ایسے اقدامات ضرور سرزد ہوتے ہیں جن کی کوئی توجیہہ پیش نہیں کی جاسکتی۔ یہاں تک کہ بعض مواقع پر قانون سے ماوراء اقدامات بھی سامنے آتے ہیں ۔ بغیر سرچ وارنٹ کے گھروں کی تلاشی اور مجسٹریٹ کی موجودگی کے بغیر پولیس کا گھروں میں اچانک داخل ہونا کس قانون اور اخلاقیات کے تحت جائز ہے۔ کیا خیبر پختونخوا میں تطہیری آپریشن کے دوران یہ معمول کی کارروائی نہیں ۔بہر حال پنجاب پولیس کو چاہئے کہ وہ متنازعہ سر کلر سے لاتعلقی کا اعلان کرے اور اسے ایک غلط فہمی یا پھر کم سمجھ بوجھ رکھنے والے عملے کا عاجلانہ اقدام قرار دے تاکہ غلط فہمی کا مزید ازالہ ہو۔

متعلقہ خبریں