تاخیر جتنی ہوگی لاگت بڑھتی جائے گی

تاخیر جتنی ہوگی لاگت بڑھتی جائے گی

پشاورماس ٹرانزٹ منصوبے پر کام شروع کرنے میں جس قدر تاخیر ہوگی تخمینہ لاگت میں اسی تناسب سے اضافہ فطری امر ہوگا۔ چمکنی سے حیات آباد تک کے ستائیس کلو میٹر منصوبے پر صوبائی حکومت شدید خواہش' مصمم ارادے اور عزم کے باوجود اب تک عملی کام شروع کیوں نہیں کرسکی' یہ سوال ہر ایک کی زبان پر ہے۔صوبائی حکومت ایک جانب اس پرکام شروع کرنے میں پر عزم دکھائی دیتی ہے تو دوسری جانب منصوبے کے لئے رواں مالی سال کے بجٹ میں مختص چھ ارب روپے میں سے ایک پائی بھی خرچ نہ کرسکنا عملی طور پر ناکامی کے زمرے میں ہی شمار ہوگا۔ صوبائی حکومت اور حکمران جماعت دوسرے صوبوں میں اس نوعیت کے منصوبوں پر تنقید کرتی ہیں اور ساتھ ہی اس سے کہیں کم لاگت پر اسی نوعیت کا منصوبہ کرکے دکھانے کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے۔ مگر عملی طور پر صورتحال یہ ہے کہ اٹھارہ ارب روپ کی لاگت بڑھ کر چوالیس ارب تک جا پہنچی مگر پھر بھی منصوبے پر عملدرآمد کے آثار نہیں البتہ جلد ٹینڈر ہونے کی امید ضرور ہے۔ ہمارے تئیں لاگت میں اضافے سے قطع نظر یہ عوامی اہمیت کا منصوبہ ہے۔ پشاور کے عوام اور صوبہ بھر سے آنے والے لوگوں کو ٹرانسپورٹ کی جس مشکل کا سامنا ہے اس کا صحیح ادراک انہی لوگوں کو ہے جو روزانہ اس مشکل سے گزرتے ہیں۔ اس منصوبے پر جتنی بھی لاگت آئے یہ منصوبہ نا گزیر ہے اور اس میں جتنی بھی تاخیر ہوگی لاگت اور پیچیدگیاں اور بڑھیں گی۔ یہ خود صوبائی حکومت کی کارکردگی اور ساکھ کا سوال بھی ہے کہ مدت اقتدار کے اندر اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔تو قع کی جانی چاہئے کہ صوبائی حکومت اس اہم اور عوامی نوعیت کے منصوبے پر کام شروع کرنے میں مزید تاخیر کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک جس عزم کے ساتھ اس منصوبے پر عملدرآمد کے خواہاں ہیں اس سے بجا طور پر یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ آئندہ سال پشاور اور صوبہ بھر کے عوام کو صوبائی دارالحکومت میں ایک صاف ستھرے اور معیاری ٹرانسپورٹ سروس مہیا ہوگی اور عوام کو آمد و رفت کی مشکلات سے نجات کے ساتھ ساتھ صوبائی دارالحکومت میں ٹریفک کے رش کا مسئلہ بھی حل ہوگا۔
عوامی مشکلات کا ادراک کرنے کی ضرورت
پاک افغان سرحد کی بندش کے باعث سرحد کے دونوں طرف کے عوام کو کاروباری خسارہ اور دیگر مشکلات کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ طور خم سرحد کی بندش سے قومی خزانے میں بھی آمدنی نہ آنا سنجیدہ مسئلہ ہے اس سے بھی بڑھ کر تشویش کی بات یہ ہے کہ اس صورتحال سے دو پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے اور غلط فہمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انسانی ہمدردی اور اسلامی اخوت و بھائی چارے کی رو سے تو اس کی کوئی توجیہہ پیش نہیں کی جاسکتی لیکن اس سب کے باوجود اس مجبوری پر حکومت کو مطعون اس لئے نہیں کیاجاسکتا کہ یہ اقدام انتہائی مجبوری اور دہشت گردی کے واقعات کے باعث اٹھا یا گیا ۔ اپنے عوام اور اپنے وطن کی حفاظت و سا لمیت اور انتشار سے بچانا کسی بھی حکومت کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس ضمن میں دونوں حکومتوں کے درمیان جاری سلسلہ جنبانی کا نتیجہ خیز ثابت نہ ہونا از خود اس امر پر دال ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاملات کی پیچدگیاں اس سے کہیں بڑھ کر ہیں ۔ سفارتی سطح پر معاملات طے نہ ہونے سے کشیدگی میں اضافہ طرفین کی مساعی کی ناکامی اور عوام میں تشویش کا باعث بن رہاہے۔ دونوں ممالک کو چاہئے کہ وہ اس ضمن میں سخت گیر رویہ کی بجائے ہمدردانہ رویہ اختیار کریں۔ سرحد کو فوری طور پر مکمل طور پر کھولنا ممکن نہ ہو تو جزوی طور پر کھول دیا جائے۔ بیماروں' ضعفائ' خواتین اور بچوں' اشیائے خوردنی و میوہ جات کی گاڑیوں کی آمد و رفت شروع کی جائے اور دونوں حکومتیں اپنے معاملات اس طرح سے نمٹانے کو یقینی بنائیں کہ اعتماد کی فضاء پیدا ہو اور وہ اچھے پڑوسیوں کی طرح رہ سکیں۔

متعلقہ خبریں