عجیب کون اور غریب کون

عجیب کون اور غریب کون

عجیب تو ہم ہیں لیکن ساتھ ساتھ غریب بھی ہیں ۔ اس لیے عجیب وغریب کہلوانے کے مستحق ٹھہرتے ہیں ۔ورنہ صرف عجیب ہونے میں کیا برائی تھی ۔ یا ہوسکتا ہے کہ ہمارا عجیب ہونا ہی ہمیں غریب بناتا ہو؟یا پھر ہماری غریبی ہماری عجیبی کی مولد ہو۔ماہرین لسانیات نے خدا جانے دو الگ الگ الفاظ کو''و''کی اضافت لگا کرجوڑ دیا ہے توضروراس میں کوئی حکمت ہوگی ۔ورنہ لغت کے مطابق عجیب کے اپنے معنی ہیں اور غریب کے اپنے معنی ہیں ۔اب مسئلہ یہ بھی کہ عجیب و غریب کے معنی کیا ہوسکتے ہیں ۔اس سوال کے ساتھ ہی ہم نے اپنے مسئلے کو سچ مچ کا ''عجیب وغریب ''بنادیا ہے ۔ کیوں نہ آج اسی مسئلے پر تھوڑی سی تحقیق ہوجائے کہ ہم عجیب زیادہ ہیں یا غریب، یا ہمارے غریب ہونے میں ہمارے عجیب ہونے کا بھی کوئی تعلق ہے یا نہیں ۔تنقید کی اصطلاح میں دو چیزوں پر ایک ساتھ بحث کرنے کو تقابلی جائزہ کہتے ہیں ۔اردوادب کا سب سے مشہور تقابلی جائزہ شبلی نعمانی نے 'میر انیس اور میرزا دبیر ''کی مرثیہ نگاری کا پیش کیا تھا ۔گویا اس تقابلی جائزے کی روشنی ہم وہیں سے لیتے ہیں ۔ غریبی کی تو ڈیفی نیشن کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ ہمارے یہاں اس قبیلے کی وافر سے تھوڑی سی زیادہ مقدار موجود ہے ۔ اور غربت اور مفلسی کی تعریف تو ہمارے شاعروں نے اتنی زیادہ کی ہے کہ دل کرتا ہے کچھ دنوں کے لیے غریب ہو ہی لیا جائے ۔

میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
علامہ صاحب نے غریبی میں نام پیدا کرنے کا مشورہ تو دے دیا ہے لیکن نسخہ نہیں بتایا بس خودی نہ بیچنے کی تلقین کردی ہے ۔بہرحال اپنے موضوع کو آگے بڑھانے کے لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قوت خرید کی کمی غربت کے مترادف ہے ۔اب مسئلہ یہ ہے کہ ہماری قوت خرید کو دیمک لگانے والے تو ہمارے حاکم ہیں ،یعنی ہماری غریبی کی تہمت کے ذمے دار یہی شاہی لوگ ہیں ۔ ہر انسان کسی نہ کسی دور میں غریبی کا مزہ چکھ ہی لیتا ہے ۔ضروری نہیں کہ صرف پیسوں کی کمی کو ہی غربت سے تعبیر کیا جائے بلکہ بعض اوقات اس کے ماسوا بھی کچھ کیفیات انسان کو غریب تصور کرنے کے لیے کافی ہوتی ہیں ۔جیسے ہمارا بنک بیلنس بہت ہو اور اچانک ہمارا شناختی کارڈ بلاک ہوجائے اور ہمارے سارے بنک اکاؤنٹس منجمد ہوجائیں سو ہم بغیر کسی بڑی کوشش کے غریب ہوجائیںگے ۔آپ کے پاس پیسے ہوں اور آپ چاہنے اور کوشش کے باوجود خالص دودھ ، خالص گھی ، خالص شہد اور اچھا علاج نہ خرید سکیں تو یہ بھی غربت ہی کی ایک قسم ٹھہرے گی ۔آپ محنت مزدوری کرکے تھکے ہارے گھر لوٹے ہیں اور بیگم کے شکوک شبہات سے لبریز سوالات آپ کو آئینہ دکھائیں تو یہاں بھی غریب ہیں ۔ غربت کی اس سے زیادہ اقسام ہوتی ہیں کہ جتنی ہم نے مثالیں درج کی ہیں لیکن غربت کا سب سے خوبصورت پہلو یہی ہے جو غالب نے بیان کیا ہے کہ
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
بہرحال زندگی تو ایک بار ہی ملتی ہے چھوٹی چھوٹی خواہشوں کو قرض لے کر بھی پورا کیا جاسکتا ہے ۔ہمارے ایک کالم نگار دوست نے دوسرے کالم نگار دوست کی قرض خوری پر خوب لتے لیے ہیں حالانکہ خود بھی اس معاملے میں مرزا کے ہی دبستان سے تعلق رکھتے ہیں اور قرض کی ہی پیتے ہیں ۔سو یوں وہ غالب سے قدر مشترک رکھتے ہیں لیکن بہرحال غالب شعر اچھا کہتے تھے ۔اب اس لفظ 'عجیب 'کا ڈائی سیکشن کیجئے تو ہر وہ چیز عجیب ہوگی کہ جو عام ڈگر سے ہٹ کر ہوگی ۔ چاہے وہ چیز کتنی بھی مناسب کیوں نہ ہو ۔ہمارے سماج میں عورت کتنی بھی سچائی کی بات کرلے لیکن اس کا یہ عمل عجیب ہی ہوگا کہ یہاں عورت کے بولنے کا رواج نہیں ہے ۔ عورت ووٹ ڈالے تو عجیب ، سکول جائے تو عجیب لیکن اس کا لکڑیوں کو پھونکیں مارمار کر جلانا عجیب نہیں۔ دودھ دوہنا ، اوپلے تھوپناڈھیروں گندے کپڑے دھونا اور کھیتوں میں گھنٹوں کام کرنا اور میلوں دور سے پینے کا پانی بھر لانا بالکل بھی عجیب نہیںکیونکہ ہم نے یہ تصور کرلیا ہے کہ یہی عورت کے کام ہیں۔ لیکن عورت کے مذکورہ یہی کام کسی ماڈل ٹاؤن کی خاتون سے تصور کرنا بھی عجیب ہی ہوگا کہ دونوں کی معاشرت میں فرق ہے ، سو یہ کہا جاسکتا ہے عجیب کا تعلق معاشرت ، رواج اور رہن سہن یا سادہ الفاظ میں پرسپشن سے ہوتا ہے ۔
اب سوال پھر وہیں کا وہیں موجود ہے کہ بھلا عجیب کا غریب سے کیا تعلق ؟ کیونکہ عجیب عجیب ہے اور غریب غریب ۔چلیے ایک مثال سے بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے ۔۔کسی گاؤں میں خان کا بیٹا اپنی بائیک کا سائلنسر نکال کر سارے گاؤں کی دوپہر کی نیند غارت کردے تو لوگ یہی کہیں گے خان کا لونڈا یہ نہیں کرے گا تو کون کرے گا لیکن کسی غریب کسان یاکسی کسب گر کا بیٹا اپنی کباڑی سائیکل پر بھونپولگا کر گاؤں میں بھونپو بجا کرگھومے تو لوگ اس کے خاندان کا سارا شجرہ زبانی دہرا دیں گے۔ گویا ہمارے سماج میں غریب ہی کا دوسرا نام عجیب ہے یا عجیب ہی غریب ہے ۔ کیونکہ سماج میں زبردست لوگ ہی زیست کے معیار مرتب کرتے ہیں ۔اسی سے صحیح اور غلط کا تعین ہوتا ہے ۔
یہاں عقلی بنیاد کا کوئی حوالہ نہیں نہ ہی عقل کی کوئی دلیل رائج الوقت ہوسکتی ہے کیونکہ سماج کی اپنی کرنسی ہوتی ہے کہ جس کا تعین بھی وقت کے شریف ، زرداری ، ڈار اور مشرف کرتے ہیں ۔ہم جیسو ںکی کس نے سنی ہے جو سنے گا۔ہمارا کیا شمار قطار سماج نے تو سقراط کو زہر کا پیالہ تھما دیا تھا کہ وہ عجیب تھا اور غریب بھی ورنہ ایسا کیوں ہوتا۔
ہے دنیا جس کا ناؤمیاں یہ اور طرح کی بستی ہے
جو مہنگوں کو تو مہنگی ہے اورسستوں کو سستی ہے
یاں ہر دم جھگڑے اٹھتے ہیں، ہر آن عدالت بستی ہے
گر مست کرے تو مستی ہے اور پست کرے تو پستی ہے

متعلقہ خبریں