اصل ایشوز بے توجہ کیوں ہیں؟

اصل ایشوز بے توجہ کیوں ہیں؟

کیا آپ وطن عزیز کے کسی ایسے لیڈر کا نام بتا سکتے ہیں جس کے نزدیک ''پاکستانیوں کی غذائیت'' کوئی ایشو ہو۔ یقینی طور پر آپ کی تلاش نامراد رہے گی کیونکہ آج کے پاکستان میں ہمیں جس قیادت سے واسطہ ہے اس کے ایشوز اور طرح کے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ انہوںنے ہماری سوچوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ چنانچہ ہم اُٹھتے بیٹھے سوتے جاگتے اُنہی کی طرح سوچتے ہیں ۔ ایک لمحے کے لیے آپ اپنے گرد و پیش میں ہونے والی بحث و تمحیضکے موضوعات کو ذہن میں لائیے آپ کو میری بات درست معلوم ہوگی۔ ایک وقت تھا کہ دھاندلی ہمارا موضوع تھا آج ساری قوم اس فکری بخار میں مبتلا ہے کہ پانامہ لیکس کے مقدمے کا فیصلہ کیا آئے گا؟ الیکشن قریب آتے ہیںتو ہم ایک کی جیت اور دوسرے کی ہار کے چکر میں پڑ جاتے ہیں۔ عمران خان وزیر اعظم کیوں نہیں بن سکتا اور نواز شریف اپنے مخالفین کو آئندہ الیکشن میںکیسے پچھاڑ دے گا جیسے موضوعات پر افلاطونی دانش کدے آپ کو ہر گھر اور ہر محفل میں ملیں گے۔ پاکستانی دنیا کی شاید واحد قوم ہو گی جو اپنے بارے میں سوچنے کی صلاحیت سے عاری ہو چکی ہے ، یہ ہر پل دوسروںکے متعلق گفتگوکرتے ہیں، یوں وقت گزاری کے لیے ان کے پاس موضوعات کی کمی نہیں ہے۔ لیڈر شپ الاماشاء اللہ ہے۔ اس نے قوم کو ایسے ایشوز میں الجھا رکھا ہے جو مہذب دنیا میںنان ایشوز سمجھے جاتے ہیں۔ اصول ایشوز کی جانب دھیان دینے والا قومی سطح کا کوئی لیڈرنہیں ہے۔ ذرا غور فرمائیے کہ غذائیت کے اعتبار سے زرعی ملک پاکستان کی بے چاری عوام کا کیا حشر نشر ہو رہا ہے اور سنجیدگی کے ساتھ اس ایشو پر بات کرنے کے لیے کوئی لیڈر تیارنہیں ہے۔ ایک خبر کے مطابق جو کہ میرے نزدیک رواں ہفتے کی سب سے زیادہ چونکادینے والی خبر ہے پاکستانی مناسب غذائیت سے محروم ہیں چنانچہ اس کی وجہ سے جہاں ہمارے بچوں کی اموات کی شرح بڑھ گئی ہے اور ہماری ورک فورس کے کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے وہیں ہر سال خوراک کی کمی کے شکار پاکستان کو مبلع 6.8ارب ڈالر کا خسارہ اس وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ خسارہ ہماری کُل گراس ڈومیسٹک پراڈکٹ (GDP)کا 2.5فیصد ہے۔ یعنی پاکستانیوںکے انڈر نیوٹریشن ہونے کا نقصان جانی بھی ہے اور مالی بھی لیکن یہ موضوع کسی سیاسی جماعت کے ٹاپ ایشوز میں شامل نہیں ہے۔ جسمانی طور پرہمیںاس کا کیا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ پاکستانی قوم کے اوسط قد میں گزشتہ پچاس سالوںمیں تقریباً 4انچ کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ کمی ایک ایسے وقت میں ہوئی جب کرہ ارض پرانسانوںکا اوسط قد بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ سال اس حوالے سے ہونے والی ایک سٹڈی کے اعداد و شمار پڑھنے کا اتفاق ہو اجس کے مطابق گزشتہ 100سالوںمیں انسان کے اوسط قد میں پانچ انچ کا اضافہ ہوا ہے۔ ان اعداد و شمار کے تناظر میں ہمیںدیکھنا ہو گا کہ ہم کہاںکھڑے ہیں؟ کہاںہیںوہ لیڈر جو قوموں کی زندگی تبدیل کر دیتے ہیں؟ ہمارے نصیب ایسی قیادت سے محروم کیوںہیں جن کے پیشِ نظر قوم کا تمام روزمرہ ہوتا ہے۔ قوم کی کھانے پینے کی اشیاء اور روٹین سے لے کر اٹھنے بیٹھنے کے سلیقے پر نگاہ رکھنے والے لیڈربھی اسی کرہ ارض پر پیدا ہوئے اور انہوںنے اپنی قوم کی تقدیر بدل ڈالی۔ چینی ٹھنڈا پانی پیتے تھے ۔ ماؤزے تنگ نے ان کی یہ عادت چھڑاڈالی، گرم پانی میں چائے کے چند پتے ڈال کر چینی ایسے گرمجوش ہوئے کہ آج تمام دنیا میں اُن کا ڈنکا بج رہا ہے۔ مجھے دو مرتبہ برطانیہ جانے کا اتفاق ہوا ، ایک مرتبہ میں سخت سردی کے موسم میں وہاںگیا، جب سورج پونے چار بجے غروب ہو جاتا تھا جب کہ دوسری مرتبہ بہار اور گرمی کا موسم وہاں گزارا تو اندازہ ہوا کہ سورج کا غروب ہونا ان کی روٹین پر قطعاً اثر انداز نہیں ہوتا۔ گرمیوں میں غروب آفتاب ساڑھے نو بجے ہو تا تھا لیکن شکر دوپہر یعنی چھ بجے کے وقت رات کے کھانے کے لیے ریسٹورنٹس کے اندر اور باہر لوگ جمع ہو جاتے تھے۔ایک طرف یہ لوگ ہیں اور دوسری طرف ہم جیسے ہیں جن کے رات کے کھانے کا وقت آٹھ بجے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ شہروںکے کاروباری افراد کی روٹین تو اس قدر خراب ہے کہ یہ لوگ رات گیارہ بارہ بجے گھروںمیں واپس آ کر رات کا کھانا کھاتے ہیں۔ جس قوم نے بارہ بجے رات کا کھانا کھا کر سو جانا ہے اُس کے افراد کی جسمانی صحت کی حالت کیا ہو گی؟ کیا آج تک کسی لیڈر نے اس بارے میں بات کی ہے۔ میں پاکستانی مرد و خواتین کے بے ڈھنگے جسم دیکھتا ہوں تو پریشان ہو جاتا ہوں کہ بحیثیت قوم ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ ہمیں نہ بیٹھنے کا سلیقہ ہے اور نہ کھڑے ہونے کا، قطار بنانا تو ہمیں آتا ہی نہیں ہے۔ برطانیہ میں چار افراد جہاں جمع ہو جاتے ہیں وہیں لائن بنا لیتے ہیں۔ یہاں قطار کا تصور ہی نہیں ہے۔ قطار مجبوراً کہیںبنانا پڑ جائے تووہ سیدھی نہیںہوتی، لوگ دائیں بائیں سے جھانک رہے ہوتے ہیں۔ آپ عام پاکستانیوں کو کبھی بیٹھا ہوا دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ تن آسانی کیسے ہمارے مزاج کے اندر سرایت کر گئی ہے۔ تقریباً ہر شخص ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھنے کی عادت میں مبتلا ہے، ساری قوم کو واک کی عادت نہیں ہے۔ چلنے کا انداز بھی نہایت سست ہے۔ سوچتا ہوں کہ ان معاشرتی خرابیوں پر کسی لیڈر کی نگاہ کیوںنہیںہے؟ لیڈربھی ان ایشوز کے متعلق نہیں سوچتے اور المیہ یہ ہے کہ اپنے متعلق یہ قوم خودبھی سوچنے کے لیے تیارنہیں ہے۔ خدا ہی اس قوم پر رحم فرمائے۔ 

متعلقہ خبریں