دھماکے سے حادثے تک

دھماکے سے حادثے تک

کل صبح جب ہم سیر کے لئے نکلے' پارک میں داخل ہوئے تو جیب ٹٹولنے پر پتہ چلا کہ بٹوہ تو ہم گھر پر ہی بھول آئے ہیں۔ اس میں ہمارا شناختی کارڈ بھی ہوتا ہے۔ ایک خوف سا محسوس ہوا کہ بھئی تم نے تو سر پر پکول جما رکھی ہے' کپڑے بھی کھدر کے پہنے ہیں اور پائوں میں چپل بھی چارسد وال ہے' تم سے اگر کوئی مشکوک بلکہ خطرناک آدمی سمجھ کر پوچھ بیٹھے' لالہ' شناخت کرائو' کہاں سے تشریف لائے ہو تو کیا جواب دو گے۔ شناختی کارڈ لینے گھر کی طرف تو نہیں بھاگے لیکن سیر کے دوران تمام وقت مسکین صورت بنائے وظائف کا ورد ضرور کرتے رہے۔ ہمارا یہ خوف کچھ زیادہ بے جا بھی نہ تھا۔ ایک روز پہلے میں نے لاہور کی بلال مارکیٹ میں جگہ بہ جگہ پٹھان بھائیوں کے لئے دیواروں پر ایک ہدایت نامہ چسپاں دیکھا تھا۔ پٹھان بھائیوں سے اس میں جو کہا گیا تھا اس پر بھی بات ہوگی پہلے یہ بتاتے چلیں کہ آج کل لاہور کی انتظامیہ کو صرف ایک فکر لاحق ہے کہ یہاں قذافی سٹیڈیم میں پی ایس ایل کافائنل میچ کیسے ہوگا۔ پی سی بی کے بزرگ چیئر مین اپنے ساتھیوں کے ساتھ شب و روز اس اہم مسئلے کے حل کے لئے سر جوڑے بیٹھے ہیں۔ نجم سیٹھی اسی پر غور و خوض کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے خادم اعلیٰ سے بھی ملاقات کی' بالیقین ان کی دلیل یہ ہوگی کہ جب ہمیں اس تفریح کے لئے مکمل تحفظ فراہم کرانے کی یقین دہانی کرادی گئی ہے تو پھر فکر مندی کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں ہوگا یا نہیں ہمیں اس سے ککھ دلچسپی نہیں ہم تو اس سے زیادہ دہشت گردی کے پے در پے واقعات سے پریشان رہتے ہیں جس کی وجہ سے ملک کی سلامتی دائو پر لگی ہے۔ لاہور میں پی ایس ایل کے فائنل کو انا کا مسئلہ بناتے ہوئے اگر پنجاب کی انتظامیہ اپنی ساری توانائیاں صرف ایک ایشو پر ضائع نہ کرتی جسے ہم ڈنکے کی چوٹ پر نان ایشو ہی کہیں گے تو ا سے حالیہ دنوں میں شہر کے اندر دہشت گردی کے واقعات پر بوکھلاہٹ کاشکار نہ ہونا پڑتا۔ جو اس دوران اس کے عجیب و غریب فیصلوں سے ظاہر ہے۔ پنجاب انتظامیہ کی بوکھلاہٹ کی دو مثالیں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ 24فروری کو رات کے ساڑھے نو بجے پنجاب پولیس نے نیشنل کالج آف آرٹس کے ہاسٹلز پر دھاوا بولا اور وہاں مقیم طلبہ اور طالبات کو فوری طور پر اقامت گاہیں خالی کرنے کا حکم صادر کیاگیا۔ ہاسٹل سے بے دخل ہونے والی بچیاں ہاسٹل کے سامنے کھلے آسمان کے نیچے کھڑی دہائیاں دیتی رہیں کہ ہمارے والدین کو پولیس کی اس اچانک کارروائی کی کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی۔ چنانچہ ہم رات کے دس بجے کہاں جائیں۔ تھوڑی دیر بعد پرائیویٹ ٹی وی چینلز پر ایک دوسری پٹی چلنے لگی جس پر لاہورکے ڈی آئی جی آپریشن کا یہ بیان درج تھا کہ ہم نے تو کسی کو بھی ہاسٹلز خالی کرنے کا حکم نہیں دیا۔ چنانچہ مجھے اس نوع کی کارروائی کا کوئی علم نہیں۔ اتنے اہم معاملے پر پولیس کے مختلف شعبوں میں رابطوں کے فقدان پر ہمیں حیرت ہوئی۔ بعد ازاں اس مسئلے کا کیا حل نکالا گیا ہمیں کچھ معلوم نہ ہوسکا۔ 23فروری کو دن کے ساڑھے گیارہ بجے جب لاہور کے ڈیفنس زیڈ بلاک کے ایک زیر تعمیر چار منزلہ ریسٹورنٹ میں دھماکے کی خبر پھیلی تو شہر میں ایک بھگدڑ کا سماں دیکھنے میں آیا۔ والدین اپنے بچوں کو لینے کیلئے سکولز کے دروازوں پر جمع ہوگئے۔ سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگئی' مارکیٹیں بندہونے لگیں۔ فاسٹ فوڈ کی کچھ مشہور دکانوں کو بند کرنے کے لئے کہا گیا۔ یہ ہنگامہ دیکھ کر ہمیں اپنے سکول کے زمانے کی انگلش کے کورس میں شامل ایک کہانی The day the dame broke یاد آگئی۔ اس میں بھی شہر کے باہر دریا کا بند ٹوٹنے کی خبر سے اسی قسم کے بھگدڑ کا نقشہ پیش کیا گیا تھا۔ ڈیفنس کے سانحے میں 8افراد کے جاں بحق اور 30کے قریب لوگوں کے زخمی ہونے پر بے حد دکھ ہوا۔ اس سانحے پر چار روز گزرنے کے بعد بھی انتظامیہ کی جانب سے اس کی صحیح صورت حال سامنے نہیں آئی۔ پہلے بتایا گیا کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا۔ جب موقع پر کسی خود کش حملہ آور کی باقیات کا پتہ نہ لگا تو پھر یہ سانحہ ٹائم ڈیوائس بم کا نتیجہ قرار دیاگیا جس میں مبینہ طور پر 20 سے 25 کلو بارود استعمال کیاگیا تھا۔ دھماکہ خیز مواد کے شواہد اکٹھا کرنے کی اطلاع بھی دی گئی۔ دو روز بعد ایک بار پھر موقف میں تبدیلی آئی اور کہا گیا کہ زیر تعمیر عمارت کے بیسمنٹ میں 5گیس سلنڈر موجود تھے جن میں سے ایک کے لیک ہونے کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔ دھماکے سے حادثے تک کا یہ سفر اب بھی جاری ہے۔ دیکھتے ہیں کہ صحیح صورتحال کب سامنے آتی ہے ۔ اسی دوران بلال مارکیٹ کی انجمن تاجران نے مارکیٹ کے پٹھان تاجروں کو فوری طور پر اپنے کوائف متعلقہ تھانوں میں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ ہم اصولی طور پر اس ہدایت کو نظریہ ضرورت کے تحت درست سمجھتے ہیں لیکن ان پٹھان بھائیوں کی مارکیٹ میں دکانیں کھولنے سے پہلے یہ احتیاط کیوں نہیں برتی گئی۔ اس فیصلے سے جینوئن پشتون پاکستانیوں کا کاروبار متاثر ہونے کاخدشہ بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ لاہور میں دہشت گردی کے واقعات کے نتیجے میں امن و امان کی غیر یقینی صورتحال میں اگر انتظامیہ پھر بھی لاہور میں پی ایس ایل کا فائنل منعقد کرانے پر مصر ہے تو ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟۔