روز اک تازہ قصیدہ نئی تشبیب کے ساتھ

روز اک تازہ قصیدہ نئی تشبیب کے ساتھ

پانا مہ لیکس سے متعلق فیصلہ تو عدا لت عظمیٰ نے محفو ظ کرلیا ہے تھوڑ ے عر صہ بعد ہی سنا بھی دیا جا ئے گا مگر ہنو ز عدالت سے باہر معمول کے مطا بق جس طر ح عدالتی کا رروائی کے دوران جو فیصلے سنا ئے جا تے تھے اس کی عدالتیں اب بھی اسی تام جھا م سے لگ رہی ہیں بلکہ سج رہی ہیں۔ میڈیا پر اپنے من پسند فیصلے سنا ئے جارہے ہیں اور باہر بھی' چاہے وہ سو شل میڈیا ہی کیو ں نہ ہو ہر روز ایک نیا فیصلہ عوام کی نظروں میں آرہا ہے۔ جس میں یہ پیشن گوئیا ں بھی کی جا رہی ہیں کہ نوازشریف مقدمہ ہا ر گئے ہیں ۔ الیکشن ہیں کہ اب ہوئے ۔ وغیر ہ وغیر ہ ۔ ایک دوسرے کے مخالفین کو تحمل نہیں ہے اور اپنے پروپیگنڈے سے عوام کو بھٹکا رہے ہیں ، پا نا مہ لیکس کا جا ئزہ لیا جا ئے تو دیکھنے میں آیا کہ نواز شریف اور ان کے بچو ں نے مقدمہ عدالت میں لڑا جبکہ ان کے مخالفین نے سڑکو ں اور میڈیا پر مقدمہ بازی کی اور اس کو ایک سیا سی مقدمہ بنا دیا۔ جہا ں تک اس امر کا تعلق ہے کہ عدالت میں نو از شریف اور ان کے بچوں کے بیا نات میں تضادات ہیں ، بات تو درست ہے مگر یہ تضادات جا ن بو جھ کر کیے گئے کیو ں کہ عدالت عظمیٰ ایک اپیلٹ عدالت ہے ، جو بیا نا ت ، شہادتوں اور دستاویزات کی بنیا د پر فیصلہ کرتی ہے ، تحقیقات و تفتیش نہیںکیا کرتی چنا نچہ تضادات کے بعد تفتیش و تحقیق کا مر حلہ آجا تا ہے ، جس کے لیے کمیشن کی ضرورت پڑتی ہے ، اگر کمیشن بن جا تا ہے تو یہ نو از شریف کی کا میابی ہو جا تی چنا نچہ شروع دن سے عمر ان خان جنہو ں نے پہلے کئی مرتبہ کمیشن کا مطالبہ کیا تھا وہ اس سے پیچھے ہٹ گئے ، لیکن مد عی ہو نے کے باوجود انہو ں نے کوئی دستا ویز پیش نہیں کی صرف اخبارات کے تراشے اور بیا نا ت کی نقول فراہم کیں ۔ چنا نچہ ثبوت فراہم نہ کر سکنے پر وہ اس حد ما یو س ہو ئے کہ انہوں نے مقدمہ عدالت سے باہر ہی لڑا ، اور اس کے سوا کر بھی کیا سکتے تھے ۔ عدالت کے ججز نے اپنے ریمارکس میںکہا ہے کہ جو کا غذات عدالت میںپیش کیے گئے ہیں ان کو بنیا د بنا یا جا ئے تو اس میں سے ننانوے فی صد مستر د ہو جا ئیں گے ۔

عدالت میں چھبیس ہزار صفحات جمع کر ائے گئے ہیں جن کا عدالت نے مطالعہ کر نا ہے ، ججز کا یہ مو قف صائب ہے کہ عوامی خواہشات کے مطابق فیصلہ نہیں کیا جا ئے گا بلکہ قانو ن کے مطا بق فیصلہ ہو گا۔ جہا ں تک حکومت کے حلقوں کا تعلق ہے تو وہ اتنے پر شانظر نہیں آرہے ہیں ، جب نو ازشریف کو انقرہ فون کرکے اطلاع گئی کہ عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے تو وہ صرف مسکرائے اور بعدازاں سرکاری امو ر نمٹانے میں مصروف ہو گئے ۔ مقد مے کے دوران یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ تحریک انصاف اور جما عت اسلامی کے وکلا دلا ئل میں کمزور رہے ، اپنے وکیل سے زیا دہ بہتر دلائل تو خو د امیر جما عت اسلا می سر اج الحق نے دئیے ، تاہم ایک بات یہ ہے کہ جما عت اسلا می نے یہ مقد مہ با قی تما م مدعیو ں کے مقابلے میں سنجید گی سے لڑ ا مگر عو ام میں مقبولیت اس مقدمے کی بنا ء پر عمر ان خان کو ہو ئی۔ جماعت اسلامی کو تحر یک انصاف کی بی ٹیم ہی سمجھا گیا۔ تاہم ایک بات ضرور ہے کہ تحریک انصاف نے اس مقدمے بازی سے سیا سی فائدہ ضرور اٹھایا ہے کیو ں کہ نو از شریف پر پا نا مہ کے حوالے سے ایک داغ لگ گیا ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں رہا ہے، چاہے عدالت کا کوئی فیصلہ ہو ۔ جہا ں تک سیا سی مقبولیت کا تعلق ہے تو ا س میں مسلم لیگ کے حصہ میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے سیا سی مخالفین بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ عام انتخابات وقت سے پہلے ہو نے کے امکا نات روشن ہیں ، ہو سکتا ہے کہ نو ا ز شریف عدالتی فیصلہ آنے کے بعد میعاد سے پہلے انتخابات کا اعلا ن کردیں مگر یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ عدالت عظمیٰ کا حکم ہے کہ اگلے انتخابات 2018ء کی مر دم شماری کے مطابق ہو نے چاہئیں ، حکومت نے نئی مردم شما ری کر انے کے انتظاما ت کرلیے ہیںجو 2018ء میں مکمل ہو جا ئے گی گویا یہ سال انتخابی گہما گہمی کا سال قر ار پا ئے گا ، اسی پس منظر میں بیو ر و کر یسی میں تبدیلیاں بھی ہو رہی ہیں اور بیو روکر یسی بھی اپنا زور دکھا نے لگی ہے۔ ادھر تحریک انصاف نے بھی پا نا مہ لیکس کو انتخابی اسٹنٹ بنا نے کے لیے تیا ریا ں شروع کر دی ہیں ۔ اس وقت عمر ان خان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ جس طر ح ایو ب خان کے خلا ف ذوالفقار علی بھٹو مر حوم کو بیورو کر یسی میں سازشی افسر میسر ہو گئے تھے ، ویسے ہی عمر ان خان کو بھی افسر دستیا ب ہیں ، مگر بھٹو کی کا میا بی کے امکا نات واضح تھے ، اس لیے اس دور میں لوٹوں کی کمی نہیں رہی تھی جبکہ عمر ان کے بارے میں حسن گما ن ہی کیا جا سکتا ہے ۔بھٹو مرحوم نے ستر کی دہائی میں انتخابات سولو فلا ئٹ کے ذریعے لڑ ا تھا ، اس وقت کچھ جما عتیں حکومتی جما عت کا مقابلہ کر نے کے لیے صف بندی کر رہی ہیں مگر انتخابی اتحاد میں کوئی بڑا اتحا د حکومتی جما عت کے خلا ف بنتا نظر نہیں آرہا ہے ، زیا دہ امکا ن یہ ہے کہ اے این پی اورپی پی کا اتحاد ہوجائے گا اور ان کے ساتھ بعض کچھ چھوٹی جماعتیں بھی شامل ہو ں گی ، جبکہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف آپس میں سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کے چکر میں رہیں گی ، ویسے امیر جما عت اسلا می کا کہنا ہے کہ جما عت اسلامی اور تحریک انصاف جیسی روشن خیال اور ترقی پسند جماعت کا اتحاد سول سیکرٹریٹ کے گیٹ کے اندر تک ہے اس سے باہر نہیں ہے ۔ق لیگ کے لیے یہ امکا ن ہے کہ وہ پی پی کے اتحا د میں شمو لیت کر لے ، گوکہ اس کے بارے میں کو شش ہے کہ اس کا اور تحریک انصاف کا جو ڑا بن جائے ۔

متعلقہ خبریں