صفائی نصف ایمان ہے!!

صفائی نصف ایمان ہے!!

میں نے ایک بار پہلے بھی اس حوالے سے لکھا تھا' آج پھرلکھ رہی ہوں۔ صفائی نصف ایمان ہے اور گندگی پھیلانا ہمارا قومی رویہ ہے۔ ہم لوگ اپنے مذہب کو مسلسل اپنے قومی رویوں کے صحرا میں ساتھ لئے گھومتے ہیں۔ اور کمال یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے پر کسی طور اثر انداز نہیں ہوتے۔ قومی رویوں میں تو خیر وہ طاقت ہی نہیں ہوتی کہ مذہب پراثر انداز ہو جائیں ہاں یہ مذہبی کردار سے خلط ملط ہو کر جہلا کی سرکشی کا شکار ضرور ہوجاتے ہیں۔ ہر جگہ دو چیزیں ہوتی ہیں' ایک انسان اور دوسرے اس کا ماحول۔ ہمارے ہاں نہ انسان صاف ہیں اور نہ ہی ہمارا ماحول۔ شہروں' مسجدوں' ہوٹلوں' باورچی خانوں میں جہاں کہیں بھی دیکھیں یہی کیفیت دکھائی دیتی ہے اور اگر کوئی قسمت کا مارا اس جہاد کے لئے سر پر کفن باندھ لے تو معاشرے ے دہشت گرد اس کی ٹانگیں بازو باندھ کر کسی اندھے خشک کنوئیں میں اسے الٹا لٹکا دیتے ہیں۔ عائشہ ممتاز کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ عائشہ ممتاز نے ہمیں یہ تو سمجھا دیا کہ ہمارے ساتھ کیا ظلم ہو رہاہے ۔ 

ہمیں گدھوں اور کتوں کا گوشت کھلایا جا رہا ہے' ہوٹلوں کے باورچی خانے کی گندگی بھی دور کرنے کی کوشش کی لیکن جب گندگی ذہن کا حصہ ہو' کردار کا حصہ بن گئی ہو تو کیا کیا جاسکتا ہے۔ عائشہ ممتاز خود ہی مجرم گردانی گئی۔ ایسے ایسے الزامات لگے اور یوں کردار کشی کی گئی کہ شاید اس مجاہدہ نے آئندہ کے لئے توبہ کرلی ہو۔ وہ جو اس قوم کی بھلائی کے لئے دن رات ایک کر رہی تھی اسے اس معاشرے نے اپنے گند سمیت نگل جانیکی کوشش کی ہے۔ ہم اپنے شہروں کو نہیں دیکھتے' گندگی اور کوڑے کے ڈھیر ہیں' نالیاں ہیں اور اس ملک کے لوگوں کے اپنے بگڑے ہوئے رویے جو کسی صورت سدھرنے کا نام ہی نہیں لیتے۔ اک ترقی معکوس ہے جو ہم نے بحیثیت قوم کی ہے۔ ہمارا عالم تو یہ ہے کہ گرمیوں میں کوئی پاس سے گزرے تو اس کی بدبو سے دل کتنی ہی دیر متلاتا رہتا ہے۔ مسجدوں میں نمازیوں کے ساتھ کھڑا ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس سب کا تعلق غربت سے نہیں اس کا تعلق احساس سے ہے۔
زندگی کے بارے میں رویے سے ہے۔ جب اندر صاف ہو تو باہر بھی صاف رکھنے کو جی چاہتا ہے۔ حضرت عمر کے پاس دو جوڑے تھے۔ ایک دھوتے تھے دوسرا پہن لیتے تھے۔ مالی وسائل نہیں تھے لیکن صفائی تھی اور ہمارا حال بالکل الٹ ہے۔ وسائل ہوں بھی تو صفائی کا فقدان ہے۔ مسلمانوں نے اپنی تہذیب میں غرناطہ اور قرطبہ میں سب سے پہلے نظام نکاسی متعارف کروایا۔ فوارے بنوائے' باغ بنوائے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ یورپ میں کئی کئی میہنے تک نہانے کا رواج تک نہ تھا۔ ڈیڑھ سو سال پہلے لکھے گئے چارلس ڈکنز کے ناول ہی پڑھ دیکھیں اس میں جو منظر وہ تخلیق کرتا ہے اس میں گندگی اور جانوروں کی لید کے علاوہ کچھ اور چشم تصور سے دکھائی ہی نہیں دیتا۔ اور اب اسی یورپ کو دیکھیں وہ پارک ہیں' گھاس ہے' صفائی ایسی ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ ان کے پالتو جانور اگر کہیں حیاتیاتی عمل سے گزر جائیں تو وہ خود اس گند کو صاف کرتے ہیں۔
جانے ہمیں کیا ہو چکا ہے۔ ہمیں دیکھ کر تمدن کا احساس تک نہیں ہوتا۔ ہمارا عالم یہ ہے کہ گندگی ہمیں توانائی بخشتی ہے۔
تاریخ کے گوشے ہمارے لئے منور ہوسکتے ہیں لیکن اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں کرتے۔ وہ لوگ ترقی میں یوں آگے بڑھ گئے ہیں کہ وہ Solid waste management سے اپنے شہروں کی بجلی پیدا کر رہے ہیں اور ہم نے اپنی گندگی برقرار رکھی ہوئی ہے اور بجلی کی کمی بھی۔ ہم وہ کمال لوگ ہیں کہ ترقی کی خواہش دلوں میں پالے اپنی گندگی کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔ ہمیں اپنے ہی لوگوں کی لاشوں پر گوادر بنانے سے فرصت نہیں۔ لہلاتی فصلوں کو اجاڑ کر کنکریٹ اور سیمنٹ کے مکان بنانے سے فرصت نہیں ملتی۔ دن رات ہمارے حکمران بھی ترقی کی بات کرتے ہیں۔ اپنے کام کرنے کی بات کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ وہ جومیٹرو بنا رہے ہیں' اورنج لائن کی قسم کے منصوبے بنا رہے ہیں' اس سے بہت ترقی ہو رہی ہے۔ ان سب منصوبوں کے نتیجے میں وہ کس طرح لوگوں کی زندگیوں کے سالہا سال مٹی دھول اور گندگی کی نذر کر رہے ہیں۔
ہم میں سے کسی میں یہ احساس باقی نہیں ورنہ ہم میں سے کوئی ان پر مقدمہ ہی کردیتا۔ میں جس جگہ آج کل رہتی ہوں اسے اسلام آباد سے ملانے والی سڑک جسے عرف عام میں میٹرو روڈ کہا جاتا ہے گزشتہ ایک سال سے زیر تعمیر ہے۔ لوگ اذیت کاشکار ہیں لیکن اتنا نہیں جانتے کہ ان کی اذیت کا معاوضہ اس حکومت کو چکانا بھی پڑ سکتا ہے۔ لیکن کیا کریں جو خود بد عنوانی کے گند سے جنم لے رہے ہوں انہیں اتنی سی گندگی تو شاید دکھائی ہی نہ دے گی اور ہمیں یہ احساس اس لئے بھی نہیں ہوتا ہوگا کیونکہ ان کی بدعنوانی کی گندگی بھی تو ہمیں دکھائی نہیں دیتی۔ ہم شہروں میں مادی گندگی کے ساتھ ساتھ سیاسی منافقت کی گندگی بھی پھیلا رہے ہیں۔ تعصب' نفرت کی گندگی بھی ہمیں معیوب محسوس نہیں ہوتی۔ دہشت گردی کی گندگی سے ہم خوفزدہ ضرور ہوتے ہیں لیکن اس کے اسباب پاٹ دینے میں ہم نے کبھی کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ یوں ہم مسلمان ہیں اور صفائی ہمارے لئے نصف ایمان ہے لیکن گندگی پھر بھی ہمارا قومی رویہ ہے۔

متعلقہ خبریں