الزامات کی نہیں اقدار اور کارکردگی کی سیاست ہونی چاہئے

الزامات کی نہیں اقدار اور کارکردگی کی سیاست ہونی چاہئے

بہتر ہوتا کہ میثاق جمہوریت کے دستخط کنندگان سیاسی محاد آرائی اور چپقلش کے بغیر مفاہمت کی فضا میں آئندہ انتخابات کی تیاری کرتے لیکن شاید یہ پیپلز پارٹی کی مجبوری ہے کہ میدان گرمائے جبکہ مسلم لیگ(ن) کی بھی حکمت عملی یہی دکھائی دے رہی ہے کہ بعض حکومتی وزراء پی پی پی اور تحریک انصاف کو معاف نہ رکھیں اور حساب برابر ہوتا رہے۔ اب تک اس ساری فضا کو معمول کاحصہ ہی سمجھا جاتا رہا لیکن سابق صدر آصف علی زرداری جو پی پی پی کے شریک چیئر مین اور فیصلہ ساز و با اختیار شخصیت ہیں ان کی سیاست کاخاصا ہی مفاہمت اور مدت اقتدار جو مرضی کرنے دو کی رہی ہے نے اچانک سخت لب و لہجہ اختیار کرلیا ہے۔ پی پی پی کے جوانسال چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے اپنا سیاسی لب و لہجہ شروع ہی سے تیز رکھا تھا اب پنجاب میں آکر پی پی پی کے شریک چیئر مین نے بھی اس کے مماثل لب و لہجہ اپنایا ہے پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان اور پرویز خٹک کا لب و لہجہ ابتداء ہی سے سخت رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اس توقع کے ساتھ نکلے ہیں کہ وہ پنجاب مسلم لیگ(ن) سے چھین لیں گے جبکہ پاناما لیکس کیس کے ممکنہ فیصلے کے اثرات سے قطع نظر حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن)کو امید ہے کہ وہ اگلے انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کرے گی۔وزیرِاعظم نواز شریف کے ترجمان مصدق ملک کا کہنا ہے کہ 2018 کا الیکشن کارکردگی کی بنیاد پر ہوگا، جس کے نتائج سے ثابت ہوجائے گا کہ کس جماعت نے عوام کے لیے کیا کیا۔انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ بھی وہی ہوگا جو 2013 کے الیکشن میں ہوا، لہذا ایک جماعت اسی طرح دھاندلی کی آواز بلند کرے گی جبکہ دوسری کی طرف سے چوری کا الزام اور ہماری طرف سے ملکی ترقی کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ پاناما لیکس کا فیصلہ ملکی سیاست میں اہم تبدیلی لاسکتا ہے۔ادھر پاناما کیس کے فیصلے سے قبل ہی پاکستان پیپلز پارٹی صوبہ پنجاب میں ایک مرتبہ پھر سے منظم ہونے کی کوششیں کررہی ہے، گذشتہ روز سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے لاہور میں اپنے جوشیلے خطاب میں کہا تھا کہ انتخابات کا وقت آچکا ہے میں اور میرے بچے اس کے لیے تیار ہیں۔وہ گزشتہ انتخابات کے نتائج کو مجبوراً تسلیم کرنے اور 2018ء کے انتخابات کے مختلف نتائج کی امید باندھے ہوئے ہیں۔اس صورتحال میں آئندہ انتخابات کے بھی قومی اور ملکی ایشوز پر نہیں عوام کے مسائل کے حل اور ان کو مراعات و سہولیات دینے اور جماعتی منشور پر عمل درآمد کے وعدے پر کم اور الزامات و جوابی الزاات پر لڑے جانے کاخدشہ ہے۔ پانامہ لیکس کا فیصلہ آنے کے بعد تو گویا سیاست کا ایک رخ متعین ہوگا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں کے پاس تو واضح دستور العمل نہیں اور پارٹی منشور کے طور پر جو اندوختہ ان کی پٹاری میں ہے اسے وہ بار بار عوام کے سامنے لا کر اور خود اپنے ہی منشور سے انحراف کے مرتکب ہوتے رہے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے پاس عوام کے سامنے کچھ رکھنے کی بجائے مخالفین کی خامیاں اور خرابیاں ہیں۔ 2018ء کے انتخابات میں پانامہ لیکس حکمران جماعت کے گلے کا طوق بنے تو حسین حقانی کے بیانات سے پی پی پی کے لئے جان چھڑانا مشکل ہوگا جبکہ تحریک انصاف کو بھی تبدیلی کے ایجنڈے پر عملدرآمد کا حساب دینا ہوگا۔ خیبر پختونخوا میں جے یو آئی(ف) 'جماعت اسلامی' قومی وطن پارٹی' اے این پی اور پی پی پی سبھی جماعتیں بر سر اقتدار اور شریک اقتدار رہی ہیں اور عوام کو ان کی کارکردگی کا عملی تجربہ ہے۔ معروضی حقائق سے مایوسی اور گھٹن کاعندیہ ملتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہوگا کہ اگر عوام ان سے ہٹ کر کوئی انتخاب کرنا چاہیں تو ان کے پاس متبادل ہوگا کہ نہیں۔ بہر حال یہ ذمہ داری عوام پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے نمائندوں کے چنائو میں شعور کا مظاہرہ کریں اور ایسے نمائندے سامنے لائیں جو سابقین سے مختلف ہوں ۔ ہمارے تئیں اس ضمن میں شفاف انتخابات کاانعقاد ایک ممکن اور توجہ طلب حقیقت ہے۔ جس سے توقعات وابستہ کی جاسکتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتیں انتخابات کے بعد اگلے انتخابات تک سیاسی عمل اور انتخابات کو مشکوک گردان کر حکومت کے اخلاقی جواز کو کمزور کرنے کی لا حاصل سیاسی چال چلنے کی بجائے اس وقت مل کر الیکشن کمیشن کو مضبوط ' با اختیار اور فعال بنانے پر عملی اتفاق کریں تاکہ جہاں ان کو آئندہ انتخابات میں زیادہ سے زیادہ شفایت کا یقین ہو وہاں عوام بھی انتخابی نتائج بارے شکوک و شبہات سے نکل آئیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک میں جمہوریت کے استحکام کے لئے انتخابی عمل کا شفاف ہونا ناگزیر ہے۔الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کے لئے ایسا ضابطہ اخلاق مرتب کرنے کی ضرورت ہے جو ان کو سیاسی بہتان تراشیوں سے باز رکھے اور ساری سیاسی جماعتیں اپنے منشور پر انتخاب لڑنے کے پابند ہوںاور الیکشن کمیشن پہلے کی طرح صرف نظر کی پالیسی کے بجائے انتخابی قوانین اور ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کرکے دکھائے تاکہ ملک میں حقیقی عوامی قیادت سامنے آئے جو خود کو عوام کو جوابدہ سمجھے۔ یکے بعد دیگرے اقتدار کی سنگھا سن بیٹھنے والی جماعت پی پی پی اور مسلم لیگ(ن) کو کلیدی سیاسی جماعتیں ہونے کے ناتے الزامات ' ذاتیات اور کیچڑ اچھالنے سے خاص طور پر گریز کرنا چاہئے اور ملک میں الزامات کی سیاسی کی بجائے اصول اور اقدار کی سیاست اپنانے میں اپناکردار ادا کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں