کھلاڑیوں سے معذرت کی ضرورت

کھلاڑیوں سے معذرت کی ضرورت

چترال' دیر' مردان اور صوابی سمیت دور دراز علاقوں سے انڈر 13ٹرائل کے لئے آئے ہوئے بچوں کو وزیر اعلیٰ اور عمران خان کے ہیلی کاپٹر کی لینڈگ کے لئے گرائونڈ سے باہر دھکیلنا نہایت ہی افسوسناک اقدام ہے جس کی کوئی توجیہہ پیش نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی اس پر تنقید کرنے والوں کو معمول کی سیاسی تنقید قرار دے کر بری الذمہ ہوا جاسکتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نوجوانوں اور کھیلوں سے دلچسپی رکھنے والوں کی جماعت ہے اور کھیلوں کا فروغ اور کھیلوں کے میدانوں کی بہتری کو حکومت اور جماعت کی اولین ترجیح گردانا جاتا رہا ہے۔ ہیلی کاپٹر اتارنے کے لئے دور دراز سے ٹرائل کے لئے آنے والے کھلاڑیوں کو دھتکارنے سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت اور تحریک انصاف دونوں کے قول و فعل میں کھلا تضاد ہے جس کی موجودہ حکمرانوں اور پارٹی قائدین سے توقع نہیں تھی مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کے جہاز کی لینڈنگ کے لئے کھلاڑیوں کو پریشان کیاگیا۔ یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ قبل ازیں بھی اس قسم کا واقعہ رونما ہو چکا ہے جس میں صوبائی حکومت کے ہیلی کاپٹر کو لینڈ کرانے کے لئے کھلاڑیوں کو گرائونڈ سے باہر نکال دیا گیا تھا۔ اس بناء پر وزیر اعلیٰ کی جانب سے تحقیقات اور آئندہ ایسا نہ کرنے کی ہدایت طفل تسلی کے زمرے میں آتا ہے۔ البتہ وزیر اعلیٰ اور ان کے جماعتی قائد اگر اس پر معذرت کرلیتے اور انتظامیہ کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کی جاتی تو ان کی منشاء کے خلاف اس اقدام کے ہونے کا یقین کیا جاسکتا تھا۔ اپنے قول و فعل میں جب سراسر تضاد رکھتے ہوئے سیاسی مخالفین سے اس امر کی توقع رکھنا کہ وہ اپنی زبانیں بند رکھیں گے معقول رویہ نہیں۔ جو نوجوان کھلاڑی دور دراز علاقوں سے آئے تھے ان کے لئے دوبارہ اور سرکاری سہولیات و مراعات کے ساتھ ٹرائلز کا بندوبست کیا جائے اورصوبائی حکومت اصولی طور پر اس امر کا فیصلہ کر لینا چاہئے کہ آئندہ کسی بھی کھیل کے میدان میں بلا اشد ضرورت کوئی ہیلی کاپٹر لینڈ نہیں کرے گا اور نہ ہی کھیل کے میدانوں میں سیاسی جلسے کرکے تباہی کا شکار بنایا جائے گا۔
پاسپورٹ کی شرط میں نرمی کی گنجائش؟
طورخم بارڈر پر پاسپورٹ نہ ہونے کے باعث چھ ہزار گاڑیوں کا پھنس جانا اور ٹرانسپورٹروں کو اضافی اخراجات اور خسارے کا سامنا اپنی جگہ سنگین صورتحال ضرور ہے لیکن اس بناء پر ضروری قانونی دستاویزات کے بغیر آمد و رفت کی اجازت دینے کے مطالبات کی حمایت نہیں کی جاسکتی خواہ اس کی تحریری درخواست پولیٹیکل انتظامیہ ہی کی جانب سے کیوں نہ کی گئی ہو۔ اس امر کا تاثر دینا بھی مناسب نہیں کہ سیکورٹی فورسز کی جانب سے یہ اقدام اٹھایاگیا ہے کیونکہ سیکورٹی فورسز پالیسی بنانے والے نہیں بلکہ پالیسی پر پابندی کرانا ان کی ذمہ داری ہے۔ اگر خاصہ دار فورس اور دیگر حکام اس ذمہ داری کو نبھانے میں ناکام نہ ہوتے تو خاصہ دار فورس کی جگہ ایف سی کی تعیناتی اور انتظام ان کے سپرد کرنے کی بھی چنداں ضرورت نہیں تھی۔یہ سیکورٹی فورسز کی جانب سے اچانک کیا جانے والا فیصلہ نہیں بلکہ وفاقی حکومت کی جانب سے اس ضمن میں بار بار اعلانات ہوتے رہے اور ٹرانسپورٹروں کو مواقع دئیے جاتے رہے۔ اگر ٹراسپورٹرز اس مہلت کو سنجیدگی سے لے کر ضروری قانونی دستاویزات بناتے تو ان کو آج اس صورتحال کا سامنا نہ ہوتا۔ اب بھی اگر ان چھ ہزار محصورین کو ایک مرتبہ کی چھوٹ دی جائے تو بھی یہ امر یقینی نہیں کہ ٹرانسپورٹر حضرات اسے آخری موقع گردان کر سفری دستاویزات بنانے پر توجہ دیں گے۔ ہمیں ٹرانسپورٹروں کی مشکلات اور خسارے کا پوری طرح ادراک اور ان سے ہمدردی ضرور ہے لیکن اس کے باوجود ان کو یہی مشورہ دینا مناسب ہوگا کہ وہ وقت ضائع کئے بغیر اپنے عملے کے سفری دستاویزات کے لئے درخواستیں جمع کرائیں۔ درخواستوں کی رسید دکھا کر وہ آخری مرتبہ مہلت اور رعایت کی درخواست کریں تو ممکن ہے ان کو رعایت مل جائے۔حکومت سے یہی گزارش ہے کہ ان پھنسے ہوئے ٹرانسپورٹروں کو ممکنہ طور پر موقع پر ہی دستاویزات کے اجراء کا بندوبست کرکے ان کو مشکلات سے نکالا جائے۔ اس امر کا حتمی طور پر فیصلہ ہو جانا چاہئے کہ آئندہ کسی کو بھی بغیر دستاویزات کے طور خم بارڈر کراس کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور بتدریج فاٹا کے دیگر علاقوں اور بلوچستان کی سرحد پر بھی ضروری سفری دستاویزات کی پابندی کرائی جائے گی۔

متعلقہ خبریں