سیاسی مردم شماری

سیاسی مردم شماری

ہم پاکستانیوں کی مجموعی تعداد کتنی ہے ؟ آخر کار19 سال کے طویل انتظار کے بعد پاکستان میں مردم شماری شروع ہو گئی ہے۔ ایک قوم ہونے کے ناطے ہماری تعداد سے زیادہ اس بات کو زیادہ اہمیت حاصل ہے کہ 2017ء کی مردم شمادی بدلتے ہوئے معاشرتی رویوں اور اقدار کو بھی سمجھنے میںمدد دے گی۔ اس مردم شماری سے ہمیں یہ معلوم ہوگا کہ ہمارے ملک میں کام کرنے والی پڑھی لکھی شہری آبادی میں اضافہ ہورہا ہے جس سے ہمارے ملک کا سیاسی منظر نامہ بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ ایک مخصوص عرصے کے بعد ہونے والی مردم شماری کو حکومت کی طرف سے اعدادوشمار جمع کرنے کا قابلِ اعتبار ذریعہ سمجھا جاتا ہے ۔ ان اعدادوشمار کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تعلیم ، صحت اور ہائوسنگ کے لئے ریاستی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں۔ لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ مردم شماری کو ہمارے ملک میں کبھی بھی ترجیح نہیں دی گئی جس کی وجہ سے اس عمل کو مسلسل موخر کیا جاتا رہا ہے۔ 1981ء اور 1998ء میں ہونے والی مردم شماریوں کے درمیان 17 سال کا وقفہ تھا لیکن 1998ء اور 2017ء میں ہونے والے مردم شماریوں میں اس سے بھی طویل وقفہ آیا ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش سمیت دنیا کے زیادہ تر ممالک میں ہر دس سال بعد مردم شماری کا عمل دہرایا جاتا ہے۔ ملک کے دیگر بڑے مسائل کی طرح مردم شماری بھی سیاسی مسئلہ بن چکا ہے جس کی وجہ سے اس عمل میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 2011ء میںخانہ شماری کی مکمل تیاری کے باوجود بھی یہ عمل موخر کردیا گیا تھا اور حالیہ مردم شماری کا انعقاد بھی سپریم کورٹ کے سخت احکامات کے بعد ہی ہو پایاہے۔انتخابی عمل پراثرا نداز ہونے کی وجہ سے کچھ سیاسی قوتیں آج بھی مردم شماری کو متنازعہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ مردم شماری جیسے غیر سیاسی عمل کو بھی سیاسی جنگ میں گھسیٹا جارہا ہے۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی جانب سے مردم شماری کے آغاز سے پہلے عدالت میں اس عمل کو چیلنج کیا گیا جس سے کافی بدمزگی پیدا ہوئی۔ اگر دونوں جماعتو ں کو مردم شماری پر اعتراضات تھے تو انہیں بہت پہلے ہی عدالت میں چلے جانا چاہیے تھا ناکہ عین اس وقت جب سب تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں ۔ مردم شماری کے اعدادوشمار کے بغیر ملک کی معاشی اور معاشرتی صورتحال کا اندازہ لگاناتقریباً ناممکن ہے۔ ملک میں سیاسی اصلاحات کے لئے بھی آبادی کے تازہ ترین اعدادوشمارکا حصول نہایت ضروری ہے۔ ان اعدادوشمار کے بغیر الیکشن کمیشن نئی حلقہ بندیاں نہیں بنا سکتا اور نہ ہی پارلیمنٹ میں مختلف صوبوں اور علاقوں کو ان کی آبادی کے لحاظ سے مناسب نمائندگی دی جاسکتی ہے۔ جمہوریت کی بقاء اور ترقی کے لئے بھی مردم شماری کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔1998ء میں ہونے والی آخری مردم شماری میں پاکستان کی کل آبادی 134 ملین تھی جس میں 1951ء کے مقابلے میں 100 ملین اضافہ دیکھنے میںآیا تھا۔آبادی میں اضافے کے اس رجحان سے یہ اندازہ ہوا تھا کہ ہمارے ملک کی آبادی بے تحاشہ انداز میں بڑھ رہی ہے۔ اب 19 سال بعد پاکستان کی آبادی کا تخمینہ 200 ملین سے زیادہ لگایا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس وقت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بننے کے قریب ہیں۔2017ء میں ہونے والی مردم شماری کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس مردم شماری میں شہری آبادی میں اضافے اورکچھ علاقوں میں فوجی آپریشن اور دیگر تنازعات کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والی آبادی میں اضافے کی وجہ سے کچھ صوبوں اور علاقوں میں سیاسی، لسانی، سماجی اور معاشی منظر نامہ بالکل تبدیل ہو جائے گا۔ اس مردم شماری میں یہ بات بھی کھل کر سامنے آ جائے گی کہ تما م صوبوں اور علاقوںمیں ترقی کی رفتار ایک جیسی نہیں ہے۔ آبادی کے موجود رجحانات سے صاف ظاہر ہے کہ کچھ علاقوں میں بچوں کی پیدائش کی شرح دیگر علاقوں سے زیادہ ہوگی جس کی وجہ بڑی تعداد میں لوگوں کادیہی علاقوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی کرنا ہے۔پاکستان جنوبی ایشیاء کے ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں پرشہری آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہاہے۔ایک رپورٹ کے مطابق شہری علاقے ملک کے مجموعی جی ڈی پی کا 80 فیصد پیدا کرتے ہیں اور پورے ملک کا 100 فیصدٹیکس بھی شہری علاقوں سے وصول کیا جاتا ہے۔عموماً پنجاب میں شہروں کی طرف نقل مکان کا زیادہ رجحان پایا جاتا ہے لیکن ملک کے شمالی مغربی علاقوں میں سیکیورٹی کی خراب صورتحال اور فوجی آپریشنز کی وجہ سے سندھ کے شہری علاقوں کی آبادی میںبے تحاشہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مثال کے طور پر کراچی میں ملک کے مختلف علاقوں سے نقل مکانی کی وجہ سے آبادی میں سالانہ 8.8 فیصداضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔حالیہ مردم شماری سے پاکستان کے تمام صوبوں میں آبادی کے حوالے سے بہت سوالات کے جواب بھی ملیںگے ۔کیا پنجاب کی آبادی اب بھی ملک کے کُل آبادی کا 54 فیصد ہے ؟ اسی طرح خیبر پختونخوامیں نقل مکانی کی وجہ سے آبادی میں اضافہ بھی دیکھنے کو ملے گا۔ مختلف صوبوں میں آبادی کی شرح میں تبدیلی پارلیمنٹ میں نشستوں کی تعداد اور این ایف سی ایوارڈ پر بھی اثرانداز ہوگی جس سے نئی سیاسی تنازعات جنم لیں گے۔ جہاں مردم شماری سے بہت سے سوالات کے جواب ملنے کے علاوہ پالیسی سازی کے لئے قابلِ بھروسہ اعدادوشمار حاصل ہوں گے وہیںحالیہ مردم شماری سے نیاسیاسی پنڈورا بکس بھی کھل جائے گا۔

(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں