ذکر ایک الوداعی تقریب کا

ذکر ایک الوداعی تقریب کا

ہم پہلے بھی اپنی تحریروں میں اس بات کا ذکر کر چکے ہیں کہ اللہ کی رحمتوں سے انکار ممکن نہیں لیکن اپنے فضل و کرم کے لئے اس کا انتخاب نہایت کڑا ہوتا ہے۔ انگریزی محاورے کے مطابق منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیداہونے والے لوگ اس حقیقت سے بے خبر رہتے ہیں کہ زندگی میں کامیابیوں اور کامرانیوں کا سفر کتنی مشکلوں سے طے ہوتا ہے۔ ہم بہت سے ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جنہوں نے اپنی ہمت کے تیشے سے زندگی کے کوہ بے ستون سے دودھ کی نہر نکالی۔ یہ سب لوگ زندہ تاریخ کا درجہ رکھتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر احسان علی بھی ایک سیلف میڈ شخصیت ہیں۔ وہ مردان کے ایک نواحی گائوں منی خیل کی گرد آلود گلیوں سے اٹھے اور کیمبرج جیسی عظیم علمی درسگاہ تک رسائی حاصل کی۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ آثار قدیمہ میں استاد رہے اور رئیس الجامعہ کے عہدہ جلیلہ پر فائز ہوئے۔ کم و بیش آٹھ سال تک عبدالولی خان یونیورسٹی کے سربراہ رہنے کے بعد 20مارچ کو اس منصب سے سبکدوش ہوگئے۔ اس موقع پر کچھ دوستوں نے ان کے اعزاز میں ایک الوداعی تقریب کا اہتمام کیا جس میں ہم کو بھی شرکت کی دعوت ملی۔ ہم جب تقریب گاہ میں داخل ہوئے تو وہ شرکاء سے مخاطب تھے۔ ہم پر نظر پڑی تو 44سال پہلے گورنمنٹ کالج مردان میں اپنی طالب علمی کا ذکر کیا۔ ہم کم و بیش 35سال تک درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے ۔ چونکہ اردو پڑھاتے تھے جو ایک لازمی مضمون ہے اور ہر طالب علم کو پڑھنا پڑتا ہے۔ چنانچہ اس طویل عرصہ میں ہر سال ایک ہزار طلبہ ہم نے مارکیٹ کو سپلائی کئے اور اس طرح 35ہزار طلبہ کو پڑھانے کا موقع ملا۔ ان سب کو چہرے مہرے سے یاد رکھنا ممکن نہیں۔ ان میں رکشہ ڈرائیور سے کسی اعلیٰ انتظامی عہدے پر کام کرنے والے لوگ بھی شامل ہیں۔ یہ ہم کو اس وقت معلوم ہوتا ہے جو کوئی رکشہ ڈرائیور ہم سے کرایہ لینے سے انکار کردے۔ اسی طرح ڈاکٹر احسان علی نے بھی بڑے تواتر کے ساتھ ہر اس تقریب میں ہم سے تدریسی و ابستگی کاذکر کیا جب انہوں نے ہمیں اپنے سامنے بیٹھا دیکھا۔ یہ ان کی اپنی شرافت ہے ورنہ ہمیں بالکل یاد نہیں کہ وہ کب ہماری کلاس میں شریک ہوتے رہے۔ حسب معمول انہوں نے الوداعی تقریب میں بھی اسی ضمن میں ہمارا ذکر کیا اور یہ بھی کہا کہ گویا انہوں نے ہم سے کچھ سیکھا بھی ہے۔ سچ پوچھئے تو ہم نے ہمیشہ اپنے شاگردوں کو دیانت و امانت کی پاسداری کادرس دیا ہے۔ انہیں بتایا ہے کہ ایک با عزت زندگی بسر کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اصولوں کو کبھی نظر انداز نہ کیا جائے۔ رزق تو خدا نے پاتال کی گہرائیوں میں پلنے والی مخلوق تک بھی پہنچانے کا وعدہ کیا ہے۔ چنانچہ صرف روزی کی خاطر ایسے کام کیوں کئے جائیں جن سے انسان کی عزت نفس مجروح ہونے کا خدشہ ہو۔ ہمارے ہاں اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز لوگ ایک ایسے نامراد سسٹم کی گرفت میں ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ با اختیار مفاد پرست طبقے کی خاطر کچھ ایسے فیصلے بھی صادر کردیتے ہیں جن میں قانون کے تقاضوں کو نظر انداز کردیا جاتا ہے یا پھر وہ میرٹ کے منافی ہوتے ہیں۔ اپنے منصب کی حفاظت اور عہدے کا بچائو بھی اس کی ایک وجہ ہوتی ہے۔ ماضی قریب میں اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز لوگوں کو اپنے اس قسم کے فیصلوں کے نتیجے میں بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے خلاف تحقیقات ہونے لگیں اور انہیں عدالتوں کے سامنے اپنی صفائیاں پیش کرنا پڑیں۔ ایسے حالات میں وہ پھر اپنے فرائض منصبی پر توجہ دینے کے بجائے اپنی توانائیاں عدالتوں سے ضمانتیں حاصل کرنے میں صرف کرنا شروع کردیتے ہیں۔ سرکاری ملازم کو اپنی ملازمت کے دوران ہمہ وقت پل صراط پر سے گزرنا پڑتا ہے۔ اگر اس نے اپنے اختیارات کے استعمال میں تھوڑی سی بھی بے احتیاطی یا غفلت کا مظاہرہ کیا تو اس کا تمام کیرئیر دائو پر لگ جاتا ہے۔ گزشتہ روز ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کا ایک ٹاک شو دیکھا جس میں انہوں نے انتہائی رعونت اور تکبر کے ساتھ کہا' نیب کا چیئر مین مجھے ہاتھ لگا تو دیکھئے میں اس کا کیا حشر کرتا ہوں۔ کسی سرکاری ملازم کو ایسا کچھ کہنے کی جرأت نہیں ہوتی کہ وہ ایک غلیظ سسٹم کا اسیر ہوتا ہے اور قواعد و ضوابط کی پابندی اس پر لازم ہوتی ہے۔ چنانچہ ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ انتظامی عہدوں پر فائز لوگوں کے لئے اپنے فرائض کی ادائیگی میں قواعد و ضوابط کی پابندی کا خیال رکھنا چاہئے کہ منصب اور عہدے عارضی ہوتے ہیں۔ ہم نے یہ معروضات ڈاکٹر احسان علی کے اعزاز میں منعقد ہونے والی تقریب میں بھی پیش کیں اور کہا کہ انہوں نے اپنی آٹھ سالہ میعاد کار کے دوران ایک نو زائیدہ یونیورسٹی کی ترقی و ترویج کے لئے بھرپور کام کیا۔ لیکن ساتھ ہی ایک ایسا کلچر بھی قائم کیا جس کو قائم رکھنا ان کے کسی جانشین کے لئے بھی ممکن نہ ہوگا۔ وہ ایک عوامی قسم کے وائس چانسلر تھے۔ شہر کی بیشتر سماجی تقریبات میں موجود رہتے۔ تعلقات عامہ کی ضرورتوں کو خوب سمجھتے تھے۔ چنانچہ ان کی سرگرمیوں کو اخبارات میں نمایاں جگہ ملتی اور جامعہ کی سالانہ تقریب میں تمام شہر ان کی قد آدم تصویروں سے سجا دیاجاتا۔ یہ روایت انہوں نے قائم کی اور ان کے جانے کے ساتھ ہی ختم ہوگی۔ان کی ہر دلعزیزی میں کوئی شک نہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس خطے کے لئے ان کی تعلیمی خدمات تادیر یاد رہیں گی۔

متعلقہ خبریں