تعلیمی زبوں حالی اور ٹیلنٹ کی ناقدری

تعلیمی زبوں حالی اور ٹیلنٹ کی ناقدری

قوموں کے عروج وزوال میں تعلیم کا ہمیشہ اہم کردار رہاہے۔ماضی میں جن قوموں نے علم وہنر کواپنائے رکھاوہ ترقی کی منازل طے کرتی گئیں،لیکن جن قوموں نے علم وہنر سے بے اعتنائی برتی وہ قعرِمذلت میں جاگریں۔تاریخ کی یہ انمٹ حقیقت ہے کہ یورپ عالم اسلامی سے ہمیشہ اس لیے پیچھے رہا کہ وہاں تعلیم کواتنی اہمیت نہیں دی گئی جتنی کلیساکی من مانی اورجھوٹی داستانوں کو فوقیت دی گئی اور یہ بھی کڑوا سچ ہے کہ سقوطِ خلافت عثمانیہ کی دیگر وجوہات میں ایک وجہ تعلیمی ترقی میں پیچھے رہنا تھا۔آج عالم اسلام جس مغلوبیت کے دور سے گزررہاہے اس میں تعلیمی زبوں حالی کا بڑا دخل ہے۔عالم اسلامی میں جہاں تعلیم وہنر سے بے اعتنائی برتی جارہی وہیں علم وہنر کے روشن ستاروں کو آسمانوں پر کمندیں ڈالنے سے بھی روکا جارہاہے۔علم وہنر کے ان مہان لوگوں کے ٹیلنٹ کی ناقدری کا یہ حال ہے کہ یہ لوگ اپنے ملکوں کی بجائے مجبوراًغیروں کواپناٹیلنٹ پیش کررہے ہیں یا پھر اپنے ملکوں میں مالی،خاکروب ،سبزی فروشی کا پیشہ اپنانے پر مجبور ہیں۔

چنددن پہلے سوات سے ایک پروفیسر نے راقم کو میل بھیجی،جس میں800کے قریب ماسٹرز،ایم فل اور پی ایچ ڈی اساتذہ کی پریشانیوں کادکھڑاسنایاگیا۔ اختر حسین نامی شخص نے لکھا کہ خیبرپختون خوا حکومت کی طرف سے2014میں صوبے بھر میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی گئی ،جس کے تحت صوبے بھر کے سرکاری کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی خالی سیٹوں کو پرکرنے کے لیے عارضی بنیادوں پر اساتذہ کی بھرتی کافیصلہ کیاگیا ۔اخترحسین لکھتے ہیں کہ حکومت کے اس فیصلے سے کم ازکم800 تعلیم یافتہ بے روزگار لوگوں کوروزگارمل گیا۔لیکن بدقسمتی سے ان لیکچرار کو وہ سہولیات نہ دی گئیں جس کے وہ مستحق تھے ،جس کی وجہ سے ان منتخب لیکچرار کو کئی پریشانیوں کا سامنا ہے۔1:میرٹ پر لئے گئے ان نوجوانوں کو لیکچرر بلکہ ایڈہاک لیکچرر کا نام تک نہ دیا گیا ،بلکہ ان کیلئے ایک نیا نام ''ٹیچنگ اسسٹنٹس'' تخلیق کیا گیا ۔چنانچہ ڈھائی سال گزرنے کے بعد بھی یہ لوگ لیکچرر کہلانے کے حقد ا ر نہیں۔ ذمہ دار لوگوں نے اس ایجاد کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ پہلی حکومتیں نوجوانوں کو ایڈہاک لیکچرر کے نام پر بھرتی کرتی تھیں پھر قانون اور عدالت کے خوف سے مجبوراً انہیں مستقل کرنا پڑتا تھا،اس لیے ان لیکچرار کے لیے قانون اور عدالت سے بچنے کی خاطر یہ نیا نام ایجاد کیاگیا ہے ،تاکہ ان کو دو تین سال استعمال کر نے کے بعدہٹایاجاسکے اور یہ لوگ حکومت کے خلاف عدالت بھی نہ جاسکیں۔2:ان نوجوانوں کو میرٹ پر لینے کے باوجود کوئی سکیل نہیں دیا گیا۔ ڈھائی سال سے بغیر کسی حیثیت کے وہ صرف فکسڈ پے پر کام کررہے ہیں ،جس کی وجہ سے انہیں کالجز میں انتہائی ہتک آمیز رویوں کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ انہیں بار بار احساس دلایا جاتا ہے کہ ان کی حیثیت صرف دو تین سال تک ہے۔3:ٹیچنگ اسسٹنٹس پر ایک شرط یہ لگائی گئی ہے کہ جس دن بھی پبلک سروس کمیشن کا کوئی فرد آپ کی پوسٹ پر تعینات کیا گیا اسی وقت آپ کو نکال دیا جائے گا۔ ٹرمینیشن کی تلوار ان کے سر پر ہر وقت لٹکتی رہتی ہے۔ دکھ یہ بھی ہے کہ ان اساتذہ میں سے اکثر over age ہوچکے ہیں،جن کو اگر نکالاگیا تو کہیں اور وہ نوکری کے اہل نہیں ہوں گے۔اگر حکومت ان کا مستقبل محفوظ نہیں کرتی تو ان کااور ان کے بچوں کا مستقبل تاریک ہوجائے گا۔4:کالجوں میں دیگر پرمننٹ لیکچررز اور پروفیسرز جتنا کام،بلکہ اُن سے زیادہ کام ان ٹیچنگ اسسٹنٹس سے لیا جاتا ہے اور ظلم یہ ہے کہ تنخواہ ان کے لیول کی نہیں دی جاتی۔ وہ تمام الائونسز ، مراعات اور سہولیات جوٹیچر کمیونٹی کو دی جاتی ہیں، ان اساتذہ کو نہیں دی جارہیں۔یہاں تک کہ ان پر شرط عائد کر دی گئی ہے کہ چھٹیوں میں تنخواہ بھی نہیں دی جائے گی،حالانکہ یہ 800اساتذہ دیگر پرمننٹ اساتذہ ہی کی طرح کوالیفائڈ ہیں اور انہیں کی طرح کام کرتے ہیں ،لیکن پھر بھی ان کے درمیان تفریق کردی گئی ہے۔5یکم نومبر2016 میں ان نوجوانوں کو مزید خوشخبر ی ایک سال کی توسیع کی سنائی گئی تھی لیکن اس کے باوجود ان اساتذہ کی مذکورہ پریشانیوں کو حل نہیں کیا گیا۔دیکھاجائے تو صرف خیبرپختون خوا کے تعلیم یافتہ لوگوں کے ساتھ ہی اس طرح کا ہتک آمیزسلوک نہیں کیاجارہا،بلکہ پورے پاکستان میں تعلیم یافتہ لوگوں کی ناقدری کا یہ حال ہے۔
ایک طرف ہمارے ہاں شرح خواندگی بہت کم ہے دوسری طرف خواندہ لوگوں کی ناقدری سے دیگر لوگوں کو تعلیم سے دورکیا جارہاہے۔یہی وجہ ہے کہ اچھے خاصے قابل اور ٹیلنٹڈ لوگ پاکستان کی بجائے دیگر ملکوں میں جارہے ہیں یا پھر پڑھ لکھ کر مزدوری کرتے پھر رہے ہیں۔کس قدر افسوس ناک بات ہے کہ سکول کا مالی ایم فل یا ماسٹر ڈگری کا حامل ہو یا گاڑیاں دھونے والا گریجویٹ ہو۔پاکستان میں جگہ جگہ ایسے تعلیم یافتہ لوگ مل جائیں گے جو مناسب روزگار نہ ہونے کی وجہ سے یوں دربدر پھر رہے ہیں۔المیہ یہ ہے کہ حکومتیں سکولز ،کالجزاور یونیورسٹیز بنانے پر تو توجہ دے رہی ہیں ،لیکن ان سے نکلنے والے لوگوں کے مستقبل کے بارے کوئی قابل ذکرفکر نہیں کررہیں۔جابز پیدا کرنا،لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا حکومتوں کا بنیادی کام ہوتاہے،لیکن افسوس ہماری حکومتیں اس سے لاپرواہی برت رہی ہیں۔ حکومتوں کی توجہ ہے تو صرف اپنے اقتدار کی مضبوطی اور ایک دوسرے پر بالادستی کی تگ دو تک ہے۔یہی رویہ پاکستان کے ترقی یافتہ میدانوں میں دنیا کے دیگر ملکوں کی بہ نسبت پیچھے رہنے کا سبب ہے۔

متعلقہ خبریں